بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلبہ کی جمع شدہ رقم ایک ساتھ رکھنا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے لیے لینا

سوال

میں مدرسے میں استاد ہوں اور ہاسٹل کا نگران بھی۔ طلبہ اپنے جیب خرچ کے پیسے میرے پاس جمع کرواتے ہیں۔ میں سب کے پیسے ایک ہی دراز میں رکھتا ہوں اور ہر ایک کا حساب کاپی میں لکھتا ہوں۔ کبھی مجھے اپنی ضرورت پڑ جائے تو اسی میں سے لے لیتا ہوں اور تنخواہ ملتے ہی پورے کردیتا ہوں۔ کیا میرا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلبہ اپنے جیب خرچ کی جو رقم نگران کے پاس جمع کراتے ہیں وہ نگران کے پاس امانت ہے، اس کی حفاظت لازم ہے، اور مالک کی اجازت کے بغیر اس میں کسی قسم کا تصرف جائز نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تمام طلبہ کی رقم ایک ہی دراز میں ملا کر رکھنا اور ہر ایک کا حساب کاپی میں درج کرنا درست ہے، بشرطیکہ طلبہ کو معلوم ہو کہ نگران سب کی رقم ایک ہی جگہ رکھتا ہے، خواہ یہ بات صراحتاً بتائی گئی ہو یا مدرسے میں یہی طریقہ معروف ہو اور طلبہ اسی کو جانتے ہوئے رقم جمع کراتے ہوں، ایسی صورت میں رقم کے بلا تعدی ضائع ہونے پر آپ ضامن نہیں ہوں گے۔ البتہ اگر طلبہ کو اس کا علم نہ ہو اور وہ اپنی رقم الگ رکھوانا چاہتے ہوں، تو ان کی رقم دوسروں کی رقم کے ساتھ اس طرح ملا دینا کہ الگ پہچانی نہ جا سکے درست نہیں، اور اس صورت میں رقم ضائع ہونے کی صورت میں  آپ ضامن ہوں گے۔

امانت کی رقم میں سے اپنی ضرورت کے لیے لینا طلبہ کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، یہ امانت میں خیانت ہے، اور بعد میں تنخواہ ملنے پر پوری رقم لوٹا دینے سے یہ عمل جائز نہیں ہو جاتا، بلکہ خرچ کرکے اس کے بدلے رقم واپس اسی میں ملا دینے سے آپ پوری رقم کے ضامن ہو جاتے ہیں۔ البتہ جو طالب علم بالغ ہو، اگر وہ صراحتاً اجازت دے دے تو اس کی رقم میں سے بطورِ قرض لینا درست ہے، اور جو طالب علم نابالغ ہوں ان کی رقم   سے ان کی اجازت سے بھی قرض لینا درست نہیں۔

المحيط البرہانی میں ہے:

"إذا كانت الوديعة دراهم، فاختلط بدراهم المودع على وجه تيسر التمييز لا يصير المخلوط مشتركا بينهما، فإن اختلطت على وجه تعذر التمييز صار المخلوط مشتركا بينهما، وإن خلطهما بعض من في عيال المودع، وكان الخلط على وجه تعذر التمييز أو كان الخلط على وجه يتعسر التميز بأن خلط حنطة الوديعة بشعير المودع صار الخالط ضامنا."

(کتاب الودیعۃ، الفصل العاشر في المتفرقات، ج:5، ص:549، ط: دار الکتب العلمیۃ)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"وهي أمانة إذا هلكت من غير تعد لم يضمن... فإن خلطها بغيرها حتى لا تتميز ضمنها، وكذا إن أنفق بعضها ثم رد عوضه وخلطه بالباقي... (وكذا إن أنفق بعضها ثم رد عوضه وخلطه بالباقي) فهو استهلاك على الوجه الذي بينا."

(کتاب الودیعۃ، ج:3، ص:26، ط: دار الکتب العلمیۃ)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله ويقرض القاضي مال اليتيم ويكتب الصك لا الوصي والأب)؛ لأن القاضي يقدر على تحصيله من المستقرض والوصي والأب لا يقدران على ذلك فيضمنان بالإقراض لكونه تبرعا ابتداء والمراد ويستحب للقاضي الإقراض ولا يجوز للأب والوصي."

(کتاب القضاء، القضاء على المسخر، ج:7، ص:23، ط: دار الکتاب الاسلامی)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."

(کتاب الودیعۃ، الباب الأول، ج:4، ص:338، ط: دار الفکر)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(وكذا لو خلطها المودع) بجنسها أو بغيره (بماله) أو مال آخر ابن كمال (بغير إذن) المالك (بحيث لا تتميز) إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف مجتبى (ضمنها) لاستهلاكه بالخلط."

وفیہ ایضاً:

"(قوله لا تتميز) فلو كان يمكن الوصول إليه على وجه التيسير كخلط الجوز باللوز والدراهم السود بالبيض فإنه لا ينقطع حق المالك إجماعا. واستفيد منه أن المراد بعدم التمييز عدمه على وجه التيسير لا عدم إمكانه مطلقا بحر."

(کتاب الإيداع، ج:5، ص:668-669، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101786
تاریخ25-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں