شفعہ میں رجسٹری میں درج کم قیمت کا اعتبار نہیں
سوال
ہمارے گھر سے ملا ہوا پڑوسی کا گھر بکا ہے۔ بیچنے کی خبر ملتے ہی میں نے کہہ دیا تھا کہ یہ گھر میں لوں گا۔ رجسٹری میں قیمت اصل سے کافی کم لکھی گئی ہے تاکہ سرکاری خرچ کم پڑے۔ خریدار کہتا ہے کہ اصل قیمت دو تو گھر چھوڑ دوں گا، اور میں رجسٹری والی قیمت دینا چاہتا ہوں۔ مجھے کون سی قیمت دینی ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ شفیع مکان اسی قیمت پر لیتا ہے جو خرید و فروخت کے وقت بائع اور خریدار کے درمیان طے ہوئی ہو۔ سرکاری کاغذات میں لکھوائی گئی کم قیمت کا اس میں اعتبار نہیں۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فروخت کی خبر ملتے ہی سائل کا یہ کہنا کہ "یہ گھر میں لوں گا" طلبِ مواثبت (فوری اظہار)ہے۔ اس کے بعد اگر سائل نے بائع، خریدار یا مکان کے پاس گواہوں کے سامنے شفعہ کا مطالبہ (طلبِ اشہاد) بھی کر لیا ہو تو سائل کو اس مکان میں شفعہ کا حق حاصل ہے۔ اس صورت میں سائل کو وہی اصل قیمت ادا کرنی ہوگی جس پر سودا ہوا ہے۔ رجسٹری میں لکھی گئی قیمت پر مکان لینے کا حق سائل کو نہیں۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ثم الشفيع إنما يأخذ بما وجب بالعقد لا بما أعطى بدلا من الواجب لما ذكرنا أن الأخذ بالشفعة يملك بمثل ما تملك به المشتري، والمشتري تملك المبيع بالمسمى - وهو الواجب بالعقد - فيأخذه الشفيع به"
(كتاب الشفعة، فصل في بيان ما يتملك بالشفعة، ج:5، ص:27، ط: سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويطلبها الشفيع في مجلس علمه) من مشتر أو رسوله أو عدل أو عدد (بالبيع)... (بلفظ يفهم طلبها كطلبت الشفعة ونحوه) كأنا طالبها أو أطلبها (وهو) يسمى (طلب المواثبة) أي المبادرة، والإشهاد فيه ليس بلازم بل لمخافة الجحود (ثم) يشهد (على البائع لو) العقار (في يده أو على المشتري وإن) لم يكن ذا يد لأنه مالك أو عند العقار (فيقول اشترى فلان هذه الدار وأنا شفيعها وقد كنت طلبت الشفعة وأطلبها الآن فاشهدوا عليه، وهو طلب إشهاد) ويسمى طلب التقرير.
(قوله: بلفظ يفهم طلبها) متعلق بقوله يطلبها، والمراد أي لفظ كان"
(كتاب الشفعة، باب طلب الشفعة، ج:6، ص:224، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(وإن) (اختلف الشفيع والمشتري في الثمن) والدار مقبوضة والثمن منقود (صدق المشتري) بيمينه لأنه منكر ولا يتحالفان (وإن برهنا فالشفيع أحق) لأن بينته ملزمة...
(قوله: في الثمن) أي في جنسه كقول أحدهما هو دنانير والآخر دراهم، أو قدره كقول المشتري بمائتين والشفيع بمائة"
(كتاب الشفعة، باب طلب الشفعة، ج:6، ص:229، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

