بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 04 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی سے سافٹ ویئر خریدنے کے بعد اسے اجارے پر دینے کا اختیار دینا

سوال

ایک ورک زیر نامی کمپنی اپنے سافٹ ویئر فروخت کرتی ہے، اور خریدار کو اس کا لائسنس فراہم کرتی ہے، اور یہ بزنس مینجمنٹ سافٹ ویئر ہوتے ہیں، اور یہ لائسنس ملکیت کے ثبوت کے لیے بناتی ہے، اب خریدار کو کمپنی یہ اختیار دیتی ہے کہ آپ خود اس سافٹ ویئر کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں یا پھر ہمیں اختیار دیں تاکہ ہم اس کو آگے اجارہ پر دیں۔

اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر خریدار  سافٹ ویئر خرید لینے کے بعد، فروخت کرنے والی کمپنی کو اپنا خریدا ہوا سافٹ ویئر کسی دوسرے کو اجارہ پر  دینے کا اختیار دے تو  اس میں شرعًا کوئی قباحت نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"اعلم أن ‌أسباب ‌الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد لا لجفاف على المباح الخالي عن مالك"

  (‌‌كتاب إحياء الموات، کتاب الصید، ج: 6، ص: 463، ط: سعید)

الإحیاءالتراث العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101753
تاریخ04-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں