بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دے دوں گا سے طلاق نہیں ہوتی

سوال

2 جون کو میاں بیوی میں جھگڑا ہوا جس میں شوہر نے بیوی کو دو مرتبہ یہ الفاظ کہے: میں تمہیں طلاق دے دوں گا، میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ 

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ اگر ہوگئی تو کتنی اور رجوع کی کیا صورت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کے کہے ہوئے الفاظ ”میں تمہیں طلاق دے دوں گا“ طلاق کی دھمکی کے الفاظ ہیں، ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے احتیاط کریں۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"قالت لزوجها من باتو نمي باشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق كن فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك. في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا".

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، 1/ 384،  ط: رشيدية)

وفيه أيضاً: 
"رجل قال: سوكند خورم كه أينكارنكنم قال: بعضهم لا يكون يمينا وقال بعضهم: يكون يمينا ولو قال: سوكند ميخورم كه اينكارنكنم يكون يمينا؛ لأن هذا الكلام يذكر للتحقيق دون الوعد كقول الرجل كواهي ميدهم ولو قال: سوكند خورم بطلاق كه أين كارنكنم لا يكون يمينا؛ لأنه وعد وتخويف".

(كتاب الأيمان، الباب الثاني فيما يكون يمينا وما لا يكون يمينا، الفصل الأول في تحليف الظلمة، 2/ 57، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101750
تاریخ13-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں