کمیٹی کا زیادہ سے زیادہ مہر مقرر کرنے اور شادی کے موقع پر لڑکے و لڑکی والوں سے رقم لینے کا حکم
سوال
کیا فرماتےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری قوم کے علمائے کرام مشران پر مشتمل ایک کمیٹی بنی ہے ۔قوم میں لڑکیوں کے حقِ مہرکو ایک معین طور پر مقررکیا کہ قوم کی ہرلڑکی کا حقِ مہرپانچ لاکھ روپے ہوگا،اس سے ایک روپیہ بھی زیادہ نہیں ہوگا۔
کمیٹی کا یہ کہنا ہے کہ اس سے زیادہ حق مہراداکرناقوم کی اکثریت کی طاقت میں نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے لڑکےاور لڑکیوں کے نکاح کا عمل مشکل ہوجاتاہے،اورلڑکے لڑکیوں کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے ۔لہٰذا فتنہ سے بچنے کےلیے پوری قوم پر یہ فیصلہ ماننا لازمی ہے ،اس فیصلہ کے خلاف ورزی کرنے والوں پر قوم نے سزابھی مقررکی ہے ۔نیز پانچ لاکھ سے زیادہ لی ہوئی رقم بھی اس سے واپس لی جاتی ہے ۔مزید کچھ مالی جرمانہ بھی مقررہے ،جوکہ کمیٹی کی صواب دید پر منحصر ہے ۔
نیز شادی کے موقع پر کمیٹی کے ممبران لڑکی والوں سے دس ہزارروپے لیتے ہیں اورلڑکے والوں سے بیس ہزارلیتےہیں ۔کمیٹی ممبران یہ رقم اس فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کی وجہ اجرت کے طور پر وصول کرتے ہیں۔
اب شرعایہ معلو م کرناہے:کہ کمیٹی کی جانب سے قومی سطح پر متعین مہر مقررکرنا درست ہے یا نہیں ؟نیز کمیٹی کا لڑکی لڑکے کے والدین سے اجرت کے طور پر دس اور بیس ہزار رقم لیناشرعا کیساہے ؟
جواب
شریعت مطہرہ نے مہر کی کم سے کم مقدار(دس درہم)تو مقرر کی ہے، لیکن اس سے زیادہ مقدار کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے؛ بلکہ اس کا مدار فریقین کی رضامندی پر موقوف رکھتے ہوئے اس بات کا پابند کیا ہے کہ لڑکی کے خاندان میں اس کی ہم عمر شادی شدہ خواتین کے رکھے گئے مہر سے کم نہ ہو،جسے فقہ کی اصطلاح میں مہر مثل سے تعبیر کیا جاتاہے،جس پر تمام فقہاء متفق ہیں،چنانچہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دورِ خلافت میں زیادہ سے زیادہ مہر کی ایک مقدار (چار سو درہم) مقرر کرنے کا فیصلہ فرمایا، تو ایک عورت نے کھڑے ہو کر یہ اعتراض کیا کہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ اللہ تعالٰی نے مہر کے لئے قنطار(ڈھیر سارا مال) کا لفظ استعمال فرمایا ہے؟ چنانچہ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات سے رجوع فرمایا، نیز چونکہ یہ تمام فقہاء کرام کے درمیان متفق علیہ مسئلہ ہے، اس لئے اگر قاضی بھی مہر متعین کرنے کا فیصلہ کردے، تو اس کا فیصلہ بھی نافذ نہیں ہوتا، کیوں کہ فقہاء کا یہ اصول ہے کہ قاضی پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ راجح قول پر ہی فیصلہ کرے اور اگر مرجوح قول کو اختیار کرے گا، تو اس کا فیصلہ (صحیح قول کے مطابق) نافذ نہیں ہوگا،پس جب قاضی کے فیصلہ کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے توکسی جماعت، برادری، پنجائیت، کو یہ اختیار کیسے ہوسکتاہے ،لہٰذا برادری کی سطح پر مہر مثل کا تعین تو کیا جاسکتاہے،تاہم زیادہ سے زیادہ مہر کے تعین کا اختیار عاقدین کے علاوہ کسی کو نہیں، البتہ مہر زیادہ مقرر کرنا کوئی اچھی بات نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو مہر کم کرنے کی ترغیب دیتے تھے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔
لہٰذ اصورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمیٹی کو زیادہ سے زیادہ مہرمقرر کرنے کا شرعا اختیارہی نہیں ،البتہ برادری کےلیے مہر مثل کا تعین باہمی مشورہ سے کیا جاسکتاہے، کمیٹی نے پانچ لاکھ روپے سے زائد مہر مقررکرنے پر جو پابندی عائد کی ہے ،اور مالی جرمانہ بھی مقرر کیا ہے ،ایسا کرنا بھی جائز نہیں ،نیز دولہااور دلہن کے والد سے جو نگرانی کے نام پر فیس لینے کا جو اعلان کیا ہے ،اس کا بھی انہیں شرعااستحقاق نہیں۔البتہ کمیٹی والے مہر کم کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔
تفسیر مظہری میں ہے :
"قِنْطارًا أي مالا كثيرا صداقا أخرج ابن جرير عن أنس عن رسول الله ﷺ أتيتم إحداهنّ قنطارا قال ألفا ومائتين، ومن هاهنا يظهر أنه لا تقدير لأكثر الصداق وعليه انعقد الإجماع وبهذه الآية استدلت امرأة على جواز المغالات فى المهر حين منع عنها عمر فقال عمر كل أفقه من عمر حتى المخدرات والمستحب إجماعا أن لا يغالى فيه، قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : ألا! لا تغالوا فى صدقات النساء فإنها لو كانت مكرمة فى الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبى الله ﷺ، ما علمت رسول الله ﷺ نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنى عشر أوقية." رواه أحمد وأصحاب السنن الأربعة والدارمي."
(ج :2، ص :51، ط :مكتبة الرشیدية)
روح المعانی میں ہے :
"وأخرج أبو يعلى عن مسروق أن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه نهى أن يزاد في الصداق على أربعمائة درهم فاعترضته امرأة من قريش فقالت: أما سمعت ما أنزل الله تعالى وَآتَيْتُمْ إِحْداهُنَّ قِنْطارًا فقال: اللهم غفرا، كل الناس أفقه من عمر ثم رجع فركب المنبر، فقال: إني كنت نهيتكم أن تزيدوا النساء في صدقاتهن على أربعمائة درهم فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب."
(ج :2، ص :453، ط :دار الكتب العلمية )
صحیح مسلم میں ہے:
"حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد العزيز بن محمد، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ح وحدثني محمد بن أبي عمر المكي، واللفظ له، حدثنا عبد العزيز، عن يزيد، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشاً»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه."
(صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب الصداق، ج: 1 ،ص: 458، ط: قديمي)
ترجمہ:”حضرت ابوسلمہؒ سے مروی ہےکہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیاکہ رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: آپ ﷺ نے بارہ اوقیہ اورنش مہر دیا تھا، پھر حضرت عائشہؓ نے فرمایا: تم کو معلوم ہے نش کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: آدھا اوقیہ (یعنی بیس درہم) اس طرح کل مہر پانچ سو درہم ہوا؛ یہی ازواج مطہرات کا مہر تھا۔“
مرقاۃالمفاتیح میں ہے:
"(وعن عائشة) رضي الله عنها (قالت: «قال النبي صلى الله عليه وسلم الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة») أي: أفراده وأنواعه (أيسره) أي: أقله أو أسهله، (مؤنة) أي: من المهر والنفقة للدلالة على القناعة التي هي كنز لا ينفد ولا يفنى."
(كتاب النكاح، الفصل الثالث ج :5، ص :2049، ط.دار الفكر)
النتف فی الفتاوٰی میں ہے :
"وأما المهر فإنه لا نهاية لأكثره."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج :1، ص :295، ط :مؤسسة الرسالة )
مقدمہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :
"وحاصل ما ذكره الشيخ قاسم في تصحيحه: أنه لا فرق بين المفتي والقاضي إلا أن المفتي مخبر عن الحكم والقاضي ملزم به، وأن الحكم والفتيا بالقول المرجوح جهل وخرق للإجماع. . . وأن الخلاف خاص بالقاضي المجتهد، وأما المقلد فلا ينفذ قضاؤه، بخلاف مذهبه أصلا كما في القنية.
قلت: ولا سيما في زماننا، فإن السلطان ينص في منشوره على نهيه عن القضاء بالأقوال الضعيفة، فكيف بخلاف مذهبه فيكون معزولا بالنسبة لغير المعتمد من مذهبه، فلا ينفذ قضاؤه فيه وينقض كما بسط في قضاء الفتح والبحر والنهر وغيرها. قال في البرهان: وهذا صريح الحق الذي يعض عليه بالنواجذ، نعم أمر الأمير متى صادف فصلا مجتهدا فيه نفذ أمره، كما في سير التتارخانية وشرح السير الكبير فليحفظ."
(ج :1، ص :76، ط :سعید)
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے :
"وفي «المحيط»: في المهر حقوق ثلاثة، حق الشرع وهو أن لا يكون أقل من عشرة، وحق الأولياء وهو أن لا يكون أقل من مهر مثلها، وحق المرأة وهو كونه ملكا لها غير أن حق الشرع، وحق الأولياء يعتبر وقت العقد لا في حالة البقاء."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج :5، ص :142، ط :دار الكتب العلمية)
التجرید للقدوری میں ہے :
"ويدل عليه قوله - عليه السلام -: (أدوا العلائق). قيل: يا رسول الله ما العلائق؟ قال: (ما تراضى عليه الأهلون في المهر) فدل على تعلق حقهم به."
(کتاب النکاح، ج :9، ص :4400، ط :دار السلام)
وفيه ايضاً :
"ولأن عمر ندب الناس إلى ترك المغالاة في المهر بقوله: لا تغلوا في صدقات النساء. وأمرهم أن يقتدوا برسول اللهﷺ."
(كتاب النكاح، ج :9، ص :4395، ط :دار السلام)
تبیین الحقائق میں ہے :
"ألا ترى أن ابن عمر - رضي الله عنهما - تزوج صفية على عشرة آلاف درهم وكان يزوج بناته على عشرة آلاف وتزوج عمر أم كلثوم بنت علي من فاطمة على أربعين ألف درهم . . .روي عن الحسن بن علي أنه تزوج امرأة فساق إليها مائة جارية قيمة كل واحدة منهن ألف درهم، وتزوج ابن عباس شميله على عشرة آلاف درهم وتزوج أنس امرأة على عشرة آلاف درهم ومعلوم أن عادتهم لم تجر بذلك والله أعلم."
(کتاب النکاح، باب باب الأولياء والأكفاء، ج :2، ص :131، دار الكتاب الإسلامي)
فتاوٰی محمودیہ میں ہے :
”سوال :قوم کے سربر آوردہ لوگوں نے یہ تجویز پاس کی ہے کہ آئندہ سب لوگوں اپنی اولاد کے نکاح25 روپے سے زیادہ کی رقم پر نہ کرنا چاہئے، چنانچہ تمام قوم اس کی پابند ہے، مخالف پر جرمانہ وغیرہ کیا جاتا ہے، تو تعیینِ مہر کا ان لوگوں کو حق ہے یا نہیں؟ صحتِ نکاح میں کوئی خرابی ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً و مصلیاً ؛
مہر پچیس روپیہ یا اس سے زائد یا اس سے کم دس درہم تک مقرر کرنا جائز ہے اور بہر صورتِ نکاح صحیح ہو جاتا ہے، کم کی مقدار دس درہم شریعت کی جانب سے متعین ہے، زیادہ کی مقدار متعین نہیں، کسی اور کو انتہائی مقدار لازمی طور پر متعین کرنے کا حق حاصل نہیں، نہ کسی کی تعیین سے متعین ہو سکتی ہے، البتہ زیادہ مہر مقرر کرنا کچھ فضیلت کی بات نہیں، خصوصاً جب کہ اس کی وسعت بھی نہ ہو ۔“
(کتاب النکاح، باب المہر ، ج :12، ص :37، ط :ادارۃ الفاروق کراچی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

