یکطرفہ عدالتی خلع کا حکم
سوال
میری بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع لے لی ہے، میری طرف سے کوئی رضامندی نہیں تھی اور نہ ہی میں نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا کیطرفہ عدالتی خلع شرعاً واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟
اور اس خلع کے بعد میرے لیے بیوی کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟
عدالت سے جاری کردہ خلع کی ڈگری سوال کے ساتھ منسلک ہے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں عدالت سے ملنے والے منسلکہ کاغذات میں صراحت ہے کہ شوہر نے عدالت میں خلع پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا بلکہ بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے پر آمادگی ظاہر کی لیکن بیوی کے اصرار کی بنا پر عدالت نے یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کر دی جبکہ شرعی طور پر خلع صحیح ہونے کے لیے طرفین یعنی میاں بیوی دونوں کی رضامندی شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں یہ یکطرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا اور نکاح حسبِ سابق قائم ہے۔
چوں کہ عدالت نے یہ فیصلہ یونین کونسل کو بھجوانے کا حکم جاری کیا ہے، لہذا آئندہ کسی پریشانی سے بچنے کے لیے انتظامی طور پر بہتر یہ ہے کہ حکومتی کوائف میں دوبارہ نکاح کے اندراج کے لیے ضروری کاروائی مثلاً ظاہری طور پر دوبارہ نکاح بنوا لیا جائے۔
الدر المختار میں ہے:
"(هو) لغة الإزالة، واستعمل في إزالة الزوجية ... (إزالة ملك النكاح) ... (المتوقفة على قبولها)... (بلفظ الخلع) ... (و) شرطه كالطلاق".
وفي الرد:
"(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع وإن لم تقبل لأنه طلاق بلا عوض فلا يفتقر إلى القبول اهـ".
(كتاب الطلاق، باب الخلع، 3/ 439-442، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وإنما اختلف الجانبان في كيفية هذا النوع لأنه طلاق عندنا، ومعلوم أن المرأة لا تملك الطلاق، بل هو ملك الزوج لا ملك المرأة، فإنما يقع بقول الزوج وهو قوله: خالعتك فكان ذلك منه تطليقا...
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول...
وإن لم يكن البدل مذكورا من جهة الزوج بأن قال لها: اخلعي نفسك مني فقالت: خلعت بألف درهم لا يتم الخلع حتى يقول الزوج خلعت".
(كتاب الطلاق،3/ 145-146، ط: سعيد)
فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:
"سوال: جب کہ زوجہ کی جانب سے درخواست طلاق گذرنے پر شوہر نان ونفقہ دینا اور حقوق زوجیت ادا کرناقبول کرتا ہے تو ایسی صورت میں بھی زوجہ خلع کرانے کی مستحق ہو سکتی ہےاور عدالت ڈگری خلع کی ہو سکتی ہے یا نہیں۔
جواب: اس صورت میں عورت خلع نہیں کرا سکتی اور عدالت سے ڈگری خلع کی بدون رضامندی شوہر کے نہیں ہو سکتی اگر ہوگی تو وہ شرعا صحیح نہ ہوگی۔"
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، ج: 10، ص: 127، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

