بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1448ھ 18 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آگ میں جل کر مرنے والے کی شہادت کی شرعی حیثیت اور سرکاری کھاتے میں اندراج کا حکم

سوال

میرے بھائی کی سنٹر جیل میں پولیس میں نوکری تھی، اور وہ جیل کے اندر ایک سرکاری گھر میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیوی اور ۵ بچے بھی تھے۔ اس گھر میں سوئی گیس کی وجہ سے آگ لگ گئی جس کی وجہ سے میرا بھائی اور میری بھابھی شہید ہو گئے، اور بچے بھی جل گئے۔ بچوں کا میں نے علاج کروایا اور اچھے اسکول میں داخل کروا دیا، اور وہ ابھی تک میرے پاس ہی رہتے ہیں۔  
​جب میں نے بھائی کی پنشن کے کاغذات بنوائے تو حکومت والوں نے مجھے کہا کہ آپ کے بھائی کو ہم شہیدوں کے کھاتے میں لکھ دیتے ہیں، لیکن اب انہوں نے شہیدوں کے کھاتے میں نہیں لکھا ہے۔  
​اب سوال یہ ہے کہ:
۱۔ میرا بھائی شرعاً شہید ہے یا نہیں؟
۲۔ کیا حکومت والوں پر شہیدوں کے کھاتے میں لکھنا لازم ہے یا نہیں؟ 

جواب

فقہاءِ کرام نے شہید  کی دو قسمیں بیان کی ہیں:  حقیقی اور حکمی۔

شہید حقیقی اس کو کہتے ہیں کہ کوئی مسلمان اللہ کے راستہ میں اللہ کے دین  کی سربلندی کے لیے شہید ہوجائے یاظلمًا اس طور پر قتل کردیا جائے کہ اس کے قتل کے بدلے اصلًا قصاص واجب ہو، اس کو نہ تو غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی کفن،  بلکہ  ان ہی کپڑوں میں اس کی نماز جنازہ پڑھ کراس کو دفن کردیا جاتا ہے  جو اس نے پہنے ہوئے ہوں۔

شہید  کی دوسری قسم شہید حکمی ہے جس کو شہید اخروی بھی کہتے ہیں،  یعنی: ثواب اور اُخروی اعتبار سے وہ شہید کہلائے گا، یہ وہ شخص  ہے وہ جو  كسي تكليف ده بیماری  وغیرہ کی حالت  میں  مرجائے،حدیث میں آتا ہے جو شخص طاعون میں مرجائے یا پانی میں ڈوب کر مرجائے یا جل کر مرجائے یا پیٹ کی بیماری سے  مرجائے، یا  ذات الجنب  بیماری سے مرجائے، یا دب کر مرجائے، یا عورت دردِ زہ کی وجہ سے مرجائے، تو یہ سب  شہید ہیں۔

شہید حکمی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ساتھ دنیا میں حقیقی  شہیدوں والا معاملہ نہیں کیا جائے گا، یعنی اسے غسل اور کفن دیاجائے گا،البتہ  ثواب اور اُخروی اعتبار سے اس کو شہادت کا رتبہ ملے  گا۔​لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے مرحوم بھائی اور بھابھی جو گیس کی آگ میں جھلس کر جاں بحق ہوئے ہیں، وہ شرعی شہید نہیں ہیں، بلکہ صرف ’’حکمی شہیدِ‘‘ ہیں۔

 جہاں تک سرکاری ریکارڈ میں انہیں شہیدوں کے کھاتے میں درج کرنے کا تعلق ہے، تو اس کا مدار حکومت اور متعلقہ محکمے کے اپنے طے شدہ قوانین و ضوابط پر ہے؛ اگر محکمے کے ضوابط کے مطابق سرکاری گھر میں اس طرح حادثاتی موت کا شکار ہونے والے ملازم کو شہداء کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے، تو متعلقہ حکام پر لازم ہے کہ وعدے کے مطابق ان کا نام اس کھاتے میں درج کریں، اور اگر محکمانہ ضابطے میں یہ سہولت صرف دورانِ ڈیوٹی باقاعدہ مقابلے وغیرہ میں جاں بحق ہونے والوں کے ساتھ خاص ہو، تو پھر محض ’’حکمی شہیدِ ‘‘ ہونے کی بنا پر حکومت والوں پر شرعاً لازم نہیں ہوگا کہ وہ انہیں شہیدوں کے کھاتے میں لکھیں۔
​الدر المختار وحاشية ابن عابدين  میں ہے:
"وكل ذلك في الشهيد الكامل، وإلا فالمرتث شهيد الآخرة وكذا الجنب ونحوه، ومن قصد العدو فأصاب نفسه، والغريق والحريق والغريب والمهدوم عليه والمبطون والمطعون...(قوله: في الشهيد الكامل) وهو شهيد الدنيا والآخرة... وشهادة الآخرة بنيل الثواب الموعود للشهيد... (قوله: والحريق) أي من مات بالحرق."

(کتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز، مطلب في تعداد الشهداء، ج: 2، ص: 252، ط: دار الفكر - بيروت)​

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101700
تاریخ17-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں