بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی دیور سے پردے کاحکم

سوال

 ایک خاتون ،مثلاً زینب نے اپنی حقیقی بیٹی، مثلاً عائشہ، کے ساتھ زید کو دودھ پلایا ہے۔

اب زینب کی بہوؤں کا زینب کے رضاعی بیٹے زید سے شرعی پردہ کرنا ضروری ہے؟

یعنی کیا زید، زینب کی بہوؤں کا رضاعی دیور ہوتا ہے یا نہیں؟

نوٹ: زید، زینب  کے  بھتیجا  ہے  اور ان کے گھر میں رہتا ہے ۔

 اب زید کی عمر 18 سال ہو گئی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں  دیور  خواہ نسبی ہو یا رضاعی، وہ غیر محرم ہے، اس   سے بلا ضرورت   بات چیت   ہنسی  مذاق    خلوت   میں ساتھ رہنا  جائز  نہیں ہے  ،  اگر  ایک گھر    میں سب   ساتھ   رہتے  ہوں ،تو اس صورت میں غیر محرم رشتہ داروں سے چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ تمام جسم کا پردہ کرنا واجب ہے۔ البتہ بے حیائی اور فتنے میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیےاحتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں، مثلاً: دیور، جیٹھ، چچازاد، ماموں زاد وغیرہ گھر میں آنے سے پہلے اطلاع دیں، گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھنٹی بجا دیں یا بلند آواز سے سلام کر لیں، مرد و خواتین اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، خواتین دوپٹے یا بڑی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں۔ البتہ اگر فتنے کا خوف ہو تو ان غیر محرم رشتہ داروں سے چہرے کا پردہ کرنا بھی واجب ہوگا۔

صحيح البخاري میں ہے:

"حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والدخول على النساء» فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: «الحمو الموت»."

(كتاب النكاح،باب لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم والدخول على المغيبة،ج:7،ص:106،ط:دارالتأ صيل)

عمدة القاري شرح صحيح البخاري میں ہے:
"قوله: (عن عقبة) وفي رواية أبي نعيم سمعت عقبة. قوله: (إياكم والدخول) بالنصب على التحذير، وإياكم مفعول بفعل مضمر تقديره: اتقوا أنفسكم أن تدخلوا على النساء، ويتضمن منع مجرد الدخول منع الخلوة بها بالطريق الأولى. قوله: (أفرأيت الحمو) بفتح الحاء المهملة وسكون الميم وبالواو يعني: أخبرني عن دخول الحمو؟ فأجاب صلى الله عليه وسلم: (الحمو الموت) . وقال الترمذي: يقال الحمو أب الزوج، كأنه كره له أن يخلو بها، وفي رواية ابن وهب عند مسلم: وسمعت الليث يقول: الحمو أخو الزوج وما أشبهه من أقارب الزوج ابن العم ونحوه، وقال النووي: المراد من الحمو في الحديث أقارب الزوج غير آبائه وأبنائه لأنهم محارم للزوجة يجوز لهم الخلوة بها، ولا يوصفون بالموت. قال: وإنما المراد: الأخ وابن الأخ والعم وابن العم وابن الأخت ونحوهم ممن يحل لها تزوجيه لو لم تكن متزوجة، وجرت العادة بالتساهل فيه، فيخلو الأخ بامرأة أخيه فشبهه بالموت. وقال القاضي: الخلوة بالأحماء مؤدية إلى الهلاك في الدين. وقيل: معناه، احذروا الحمو كما يحذر الموت، فهذا في أب الزوج فكيف في غيره؟ وقال ابن الأعرابي: هي كلمة تقولها العرب كما يقال الأسد الموت، أي لقاؤه مثل الموت، وكما يقال: السلطان نار، ويقال: معناه فليمت ولا يفعل ذلك، وقال القرطبي: معناه أنه يفضي إلى موت الدين أو إلى موتها بطلاقها عند غيرة الزوج، أو برجمها إن زنت معه."

(باب ما يجوز أن يخلو الرجل بالمرأة عند الناس،ج:20،ص:213،ط:دار الفكر )

سنن ابن ماجه میں  ہے:
"1937 - (صحيح) حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن حجاج، عن الحكم، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب."

( باب ،ما  يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ،ص:416،ط:دارالصديق)

 مرقاة المفاتيح  میں ہے:

"قال النووي رحمه الله:  والمراد بالحمو هنا أقارب الزوج غير آبائه لأن الخوف من الأقارب أكثر والفتنة منهم أوقع لتمكنهم من الوصول إليها والخلوة بها من غير نكير عليهم بخلاف غيرهم وعادة الناس المساهلة."

(كتاب النكاح]،باب النظر،ج:5 ص: 251،ط:دارالفکر)

حاشية الطحطاوي على الدر المختار میں ہے:

"وفي «الحلبي»: حمو المرأة : كل ذي رحم من زوجها، انتهى. وقال الصاحبان يقطع في الختن والصهر، وقوله: أصح، كذا في «الملتقى» وشرحه."
(كتاب  السرقه،ج:6ص:169،ط: دار الكتب العلميه)

فتاوی شامی میں ہے:

"وإن كان على المرأة ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدها وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بها بحيث تصف ما تحتها، ولم يكن رقيقا بحيث يصف ما تحته، فإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره اهـ.

وفي التبيين قالوا: ولا بأس بالتأمل في جسدها وعليها ثياب ما لم يكن ثوب يبين حجمها، فلا ينظر إليه حينئذ ..أقول: مفاده أن رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا ترى البشرة منه."

(كتاب الحظر وإباحت،فصل في النظر والمس،ج:6،ص:365،ط:سعيد)

احکام القرآن لمحمد شفیع  عثمانی میں ہے:

"ولعلك مما تلونا عليك من الآيات وسردنا لك من الروايات عرفت أن الحجاب الشرعي المأمور به فى الكتاب والسنة ثلث درجات ، بعضها فوق بعض في الاحجاب والاستنار ، وكلها صدع لهما الكتاب والسنة ولا قائل بنسخ شيئى منها،الأولى : حجاب الأشخاص بالبيوت والجدر والحدور والهوادج وأمثالها ،بحيث لا يرى الرجال الأجانب شيئا من أشخاصهن ولا لباسهن وزينتهن الظاهرة ولا الباطنة ، ولا شيئا من جسدهن من الوجه والكفين وسائر البدن،الثانية : الحجاب بالبراقع والجلابيب بحيث لا يبدوشيني من الوجه والكفين وسائر الحسد ولباس الزينة ، فلا يرى إلا أشخاصهن مستورة من فوق الرأس إلى القدم .الثالثة : الحجاب بالجلابيب وأمثالها مع كشف الوجه والكفين والقدمين۔"

(حد الحجاب الشرعي ودرجاته وتفصيل أحكامه، الجزء الثالث،ج: 4 ،ص: 454 ، ط: ادارة القرآن العلوم الاسلامية ) 

امداد الفتاوی میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

" سوال (۲۲۰): پردہ کی نسبت کیا حکم ہے، آیا پردہ فرض ہے یا واجب ہے یا کیا؟

الجواب: پردہ کے دو معنی ہیں، ایک ستر دوسرے حجاب، ستر تو فرض ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرد کو مرد کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے مگر ناف سے زانو (گھٹنے) تک جائز نہیں، اور عورت کو عورت کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے۔ اور اپنی مملوکہ حلال شرعی اور اپنی زوجہ کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے، اور اپنے محارم سے منھ اور سر اور سینہ اور پنڈلیاں اور دونوں بازو دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے۔اور ان کی پشت (پیٹھ) اور شکم (پیٹ) دیکھنا جائز نہیں، اور غیر مملوکہ کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے، اور اجنبی آزاد عورت کا کچھ دیکھنا جائز نہیں، مگر ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، اور اگر شہوت کا خوف ہو تو بغیر حاجتِ ضروری شرعی کے دیکھنا جائز نہیں، ہاں اگر حاجت ہو جیسے حاکم حکم کرتے وقت اور گواہ کو شہادت کے وقت تو چہرہ دیکھنا جائز ہے، اور طبیب کو مرض کا موضع (مقام) دیکھنا جائز ہے اگرچہ لوگوں کو خوفِ شہوت کا ہو، باقی حتی الوسع شہوت کو دل سے دور کرے۔۔۔

دوسرا حجاب ہے جو آج کل شرفاء میں معمول ہے، کہ عورت مردِ اجنبی کو بالکل بدن نہیں دکھاتی، اور غالباً غرض سائل کی اسی کا پوچھنا ہے، پس یہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر تو فرض تھا، لقوله تعالیٰ: "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ" ولِقوله تعالیٰ: "وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ" اور مؤمنینِ اُمت کی عورتوں پر فرض نہیں، چنانچہ روایتِ بالا سے معلوم ہو چکا کہ اجنبی عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، البتہ یہ حجاب سنت اور واجبِ استحسانی ہے، اور بہ نظرِ مصلحت و رفعِ شر و فتنہ ضروری ہے۔۔۔

تفسیرِ حسینی میں ہے:

"گویند ہند در شانِ زانیان ست کہ شب ہا بر سرِ راہ ہا نشستندے و دستِ تعدی بدامنِ کنیزان رسانیدے۔ و سعدی رح می فرماید کہ دراں وقت حرائر را علامت آن بود کہ سر پوشید ہ در راہ افتندے و جواری سر برہنہ بودندے،  چوں آں بدکاران از سرپوشیدگان تحاشی می نمودند لاجرم آیت آمد:  اے پیغمبر بگو مر زنان خود را و دختران خود را و زنانِ مومنان را کہ بوقتِ بیرون رفتن از خانہ نزدیک گردانند و فروگذارند برو ہائے و بدنہائے خویش چادرہائے خود را یعنی وجوہ و ابدان پوشند، این پوشیدن سر و روئے و بدن نزدیک تر است بآنکہ ایشان را بشناسند بصلاح و عفت یا متمیز شوند بآزادی پس ایذا کردہ نشوند یعنی آن زانیان تعرض نہ کنند ایشان را، انتہیٰ۔ 

(ترجمہ: کہا جاتا ہے کہ یہ (حکم) بدکار لوگوں کے بارے میں ہے، جو رات کے وقت راستوں پر بیٹھا کرتے تھے اور لونڈیوں (کنیزوں) کے دامن پر دست درازی کرتے تھے۔ اور سعدی شیرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں آزاد عورتوں کی علامت یہ تھی کہ وہ سر ڈھانپ کر راستوں میں نکلا کرتی تھیں،  اور لونڈیاں سر کھلا رکھتی تھیں۔ چونکہ وہ بدکار لوگ پردہ کرنے والی عورتوں سے تعرض کرنے سے کتراتے تھے،  اس لیے یہ آیت نازل ہوئی:اے پیغمبر! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ جب وہ گھروں سے باہر نکلیں تو اپنی چادروں کو اپنے اوپر لٹکا لیا کریں (یعنی اپنے چہروں اور جسموں کو ڈھانپ لیا کریں)۔ یہ سر، چہرہ اور بدن کو ڈھانپنا اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ نیک اور پاکدامن پہچانی جائیں یا آزاد عورتوں کے طور پر ممتاز ہوں، تاکہ انہیں اذیت نہ دی جائے، یعنی وہ بدکار لوگ ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔)

اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم فتنہ کے سبب سے ہوا۔

و في الدرالمختار ص: ۷، ج ۲ من المجلد الاول:

و تمنع المرأۃ الشابة من كشف الوجه بین الرجال لا لأنه عورۃ بل لخوف الفتنة كمسه و إن أمن الشھوۃ لأنه أغلظ، و لذا ثبت به حرمة المصاهرة کما یأتي في الحظر، انتهى.حضرت شاہ ولی اللہ صاحب آیۃ کریمہ" قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ" کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

"مترجم گوید کہ حاصل این آیت آنست کہ مواضعِ زینت دو قسم است؛ آنچہ در سترِ آں حرج است و آں وجہ و کفین بود و آنچہ در سترِ آں حرج نیست مانند سر و گردن و عضد و ذراع و ساق، پس سترِ وجہ و کفین از اجنبیان فرض نیست بلکہ سنت است، سترِ غیرِ آں از اجنبیان فرض است نہ از محارم، واللہ اعلم، فتح الرحمن۔"

(ترجمہ: مترجم کہتا ہے کہ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ زینت کے مقامات دو قسم کے ہیں: ایک وہ جنہیں چھپانے میں حرج ہوتا ہے، اور وہ چہرہ اور ہاتھ ہیں؛ اور دوسرے وہ جنہیں چھپانے میں کوئی حرج نہیں، جیسے سر، گردن، بازو، کلائی اور پنڈلی۔ لہٰذا اجنبی لوگوں کے سامنے چہرہ اور ہاتھوں کا چھپانا فرض نہیں، بلکہ سنت ہے، جب کہ ان کے علاوہ باقی اعضا کو اجنبیوں سے چھپانا فرض ہے، البتہ محرم رشتہ داروں سے چھپانا فرض نہیں۔)

اور حضرت شاہ عبدالقادر صاحب آیۃ کریمہ فَسْئَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ  الآیۃ  کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "اور اس آیت میں حکم ہوا پردہ کا کہ مرد حضرت کی ازواج کے سامنے نہ جائیں، سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں، اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے سب بدن کپڑوں میں ڈھکا ہو تو گناہ نہیں، اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے۔  موضح القرآن۔"

پس خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ستر فرض ہے اور حجاب بنظر مصلحت واجب ہے، واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔

(عورتوں کے پردے اور نظر ولمس وغیرہ کے احکام، ج: 4، ص: 177، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

ہدایۃ القرآن  میں حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 جیٹھ، دیور، بہنوئی، چچا ماموں اور پھوپھی خالہ کے لڑکے بھی غیر محرم ہیں، کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے، مگر ہمارے معاشرہ میں ان سے کامل پردہ مشکل ہے، اول تو ہندوستانی مسلمانوں کی معیشت کمزور ہے، ہر ایک کا گھر علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ دوم: ہندو معاشرہ کا مسلمانوں کے معاشرہ پر اثر پڑا ہے، اور اختلاط عام ہو گیا ہے، اس لیے ان کے معاملہ میں بھی دو شرطوں کے ساتھ تخفیف مناسب معلوم ہوتی ہے۔ اول: بغیر اجازت لیے یہ لوگ اچانک گھر میں نہ آئیں، جب بھی آئیں پہلے آگاہ کریں، تاکہ عورت خود کو سنبھال لے اور مذکورہ اعضاء کے علاوہ باقی جسم کو ڈھانپ لے۔ دوم: یہ لوگ تنہائی میں جمع نہ ہوں، اور بے تکلفی سے باتیں نہ کریں۔ حدیث میں ہے کہ عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو! ایک انصاری نے پوچھا: جیٹھ دیور کا کیا حکم ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ”جیٹھ دیور موت ہیں!“ یعنی بڑا فتنہ ہیں۔ کیوں کہ جیٹھ دیور کی بھاوج سے بے تکلفی ہوتی ہے، اس لیے فتنہ پیش آنے میں دیر نہیں لگتی۔ اور یہی حکم سالیوں کا ہے، ان کے ساتھ بھی بہنوئی کی بے تکلفی ہوتی ہے، اس لیے فتنہ پیش آتا ہے۔  (تحفۃ الالمعی ۳: ۶۱۰) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جیٹھ دیور اگرچہ غیر محرم ہیں، مگر چوں کہ ان کے ساتھ ہر وقت کا رہنا ہوتا ہے اس لیے ان کے ساتھ تنہائی اور بے تکلفی تو جائز نہیں، باقی پردے میں تخفیف ہے۔ واللہ اعلم

(سورۃ النور، ج: 6، ص: 72، ط: مکتبہ حجاز دیوبند)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101689
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں