بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قریب قریب ایسے دو گاؤں جن میں کل 120 گھر اور مجموعی آبادی 500ہو اس میں جمعہ کے قیام کا حکم

سوال

ہمارا گاؤں ڈسٹرک تور غر  میں ہے، اور آج تک ہمارے گاؤں میں جمعہ اور عید کی نمازیں  نہیں ہو رہی ہیں، وجہ یہ ہے کہ  ہمارے اس مذکورہ بڑے گاؤں میں  آس پاس دو گاؤں ہیں، ایک گاؤں میں تیس کے قریب گھر ہیں اور دوسرے گاؤں میں نوے کے قریب گھر ہیں، اور ہمارے وہاں چار دکانیں راشن کی ہیں، اور دو ڈاکٹر کی کلینک ہیں، اور گاؤں کی طرف بازار سے سنگل روڈ بھی آیا ہوا ہے، باقی ضروریات زندگی کا سامان ہم بازار سے منگواتے ہیں، یہی سہولیات ہمارے گاؤں میں  دستیاب ہیں، نیز گاؤں کی کل آبادی تقریباً 500 کے قریب جب کہ نمازی حضرات تقریباً دو سو کے قریب ہو ں گے۔

اب جو ہماری مسجد کے امام صاحب ہیں، ان کے بقول اتنی آبادی والے گاؤں میں عید اور جمعہ کی نماز نہیں ہو سکتی، اور وہ یہ کہتے ہیں کہ شرعاً اتنی آبادی والے گاؤں میں جمعہ اور عید کی نماز جائز نہیں ہے۔

برائے مہربانی اس صورتحال میں شرعاً کیا حکم ہے؟ اس گاؤں میں جمعہ کا قیام جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گاؤں میں جمعہ کی شرائط نہ پائی جانے کی وجہ سے جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے، ظہر کی نماز ہی ادا کی جائے۔

فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

"(ولأدائها شرائط في غير المصلي). منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان.وفي الخلاصة وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها، هكذا في الغياثية. وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر."

(كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج: 145،ص:1، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق .... وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات ."

(کتاب الصلوۃ ، باب صلوۃ الجمعة، ج:2ص:138،ط: دارالفکر)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”قصبہ اور بڑےگاؤں میں حنفیہ کے نزدیک جمعہ جائز ہے،چھوٹے گاؤں میں جائز نہیں ،بڑا گاؤں وہ  ہےجس میں گلی کوچے ہوں ،بازارہو،روزمرہ کی ضروریات ملتی ہوں،تین چار ہزار کی آبادی ہو،ان میں مسلمان  خواہ اقلیت میں یا برابر یازائد“۔

(باب صلوۃ الجمعۃ،فصل فی اشتراط المصر للجمعۃ، ج:8، ص:98، ط:دار الإفتاء جامعہ فاروقیہ)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

”محققین کی تحقیق یہ ہے کہ جو قریہ مثل چھوٹے قصبہ کے ہو مثلاً تین چار ہزار آدمی اس میں آباد ہوں وہ قریہ کبیرہ ہے اور جو اس سے کم ہو وہ چھوٹا ہے۔ 

            لہذا جس بستی کی آبادی تین چار ہزار افراد سے کم ہو اور وہاں ضروریات زندگی میسر نہ ہوں تو وہاں جمعہ ادا کرنا درست نہیں، لیکن اگر وہاں کافی عرصہ سے جمعہ پڑھا جارہا ہو اور جمعہ بند کرنے کی صورت میں فتنہ و فساد اور انتشار کاخوف ہو تو ایسی صورت میں لوگوں کو فقہی مسئلہ سے مطلع کرکے جمعہ بند کرنے کی کوشش کی جائے، اگر اس کے باوجود فتنہ کا اندیشہ ہو تو جمعہ پڑھنے دیا جائےاور امام کے پیچھے جمعہ کی نماز ادا کریں، اپنی ظہر کی نماز نہ پڑھیں۔“

 ( کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:294،  ط:دارالاشاعت)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101547
تاریخ20-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں