بچوں کے آپس کے جھگڑوں میں اولاد کی تربیت، دفاع اور دوسروں کے بچوں کو مارنے کا حکم
سوال
جب بچے لڑتے ہوں، یاکچھ بچے اکثر دوسرے بچوں کو مارتے ہیں، تو اس صورت میں اپنے بچوں کو کیا سکھانا چاہیے، کیا اپنے بچوں کو ان سے دور رکھناچاہیے، جو یا تو بہت مشکل ہے یا ممکن ہی نہیں، یا ان بچوں کو جو مارتے ہیں ان کے مارنے پر مارا جائے؟ اس طرح پھر اکثر بڑوں کے درمیان لڑائیاں ہوجاتی ہیں، یا پھر بچوں کو سکھانا چاہیے کہ جب کوئی آپ کو مارے تو آپ بھی ان کو اپنے دفاع میں ماریں، کیونکہ اگر ایسا بھی نہ کیا جائے تو بچے بزدل اور ڈرپوک بن جائیں گے، براہ کرم قران و سنت اور سلف صالح کے اقوال سے رہنمائی فرمائیں کہ ان کا کیا طرز عمل تھا؟
جواب
واضح رہے کہ اولاد کو ادب سکھانا، خیر کی تعلیم دینا اور بری باتوں سے روکنا والدین کی ذمہ داری ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں والدین اپنے بچوں کو یہ تعلیم دیں کہ وہ کسی پر ہاتھ نہ اٹھائیں اگردوسرا بچہ پہل کرےتو پہل کرنے والا گناہ گار ہے، اگر کوئی بچہ انہیں مارے تو اپنے دفاع میں اتنا ہی بدلہ لینے کی اجازت ہے جتنی زیادتی ہوئی ہو، اس سے بڑھنا جائز نہیں، اور بدلے میں بھی چہرے پر مارنے سے بچا جائے۔ البتہ معاف کر دینا اور صلح کر لینا افضل اور باعثِ اجر ہے۔(بچہ خودبدلہ لینے کی بجائے اپنے والدیاسرپرست کوبتائے)نیز بچوں میں ہمت اور قوت پیدا کرنا شرعاً مطلوب ہے، اور اصل طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے، اسی کی تربیت دی جائے۔
جو بچے عادتاً دوسروں کو مارتے ہوں، جہاں تک ممکن ہو اپنے بچوں کو ان کی صحبت سے بچایا جائے، مارنے والے بچے کو موقع پر ہاتھ پکڑ کر روک دیا جائے، لیکن دوسروں کے بچوں کو اپنی طرف سے مار کر سزا دینا درست نہیں، بلکہ ان کے والدین یا سرپرست کو اطلاع دی جائے تاکہ وہ اپنے بچے کی اصلاح کریں۔
بچوں کے جھگڑے کو بنیاد بنا کر بڑوں کا آپس میں گالم گلوچ اور لڑائی کرنا ناجائز اور گناہ ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ جات
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾
(سورۃ الشوریٰ: 40)
ترجمہ:
اور برائی کا بدلہ ہے برائی ویسی ہی، پھر جو کوئی معاف کرے اور صلح کرے سو اس کا ثواب ہے اللہ کے ذمہ، بیشک اس کو پسند نہیں آتے گناہ گار۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انصر أخاك ظالما أو مظلوما، قالوا: يا رسول الله، هذا ننصره مظلوما، فكيف ننصره ظالما؟ قال: تأخذ فوق يديه."
(کتاب المظالم، باب أعن أخاك ظالما أو مظلوما، رقم: 2444، ج:3، ص:128، ط: السلطانیۃ)
وفیہ ایضاً:
"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر."
(کتاب الأدب، باب ما ينهى من السباب واللعن، رقم: 6044، ج:8، ص:15، ط: السلطانیۃ)
وفیہ ایضاً:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ليس الشديد بالصرعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب."
(کتاب الأدب، باب الحذر من الغضب، رقم: 6114، ج:8، ص:28، ط: السلطانیۃ)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المستبان ما قالا، فعلى البادئ ما لم يعتد المظلوم."
(کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النهي عن السباب، رقم: 2587، ج:4، ص:2000، ط: دار إحياء التراث العربي)
وفیہ ایضاً:
"عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إنما مثل الجليس الصالح والجليس السوء كحامل المسك ونافخ الكير، فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة، ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد ريحا خبيثة."
(کتاب البر والصلۃ والآداب، باب استحباب مجالسة الصالحين ومجانبة قرناء السوء، رقم: 2628، ج:4، ص:2026، ط: دار إحياء التراث العربي)
وفیہ ایضاً:
"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير، احرص على ما ينفعك واستعن بالله ولا تعجز."
(کتاب القدر، باب في الأمر بالقوة وترك العجز، رقم: 2664، ج:4، ص:2052، ط: دار إحياء التراث العربي)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"{يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم وأهليكم نارا} روي عن علي في قوله: {قوا أنفسكم وأهليكم} قال: علموا أنفسكم وأهليكم الخير، وقال الحسن: تعلمهم وتأمرهم وتنهاهم... ومعلوم أن الراعي كما عليه حفظ من استرعي وحمايته والتماس مصالحه فكذلك عليه تأديبه وتعليمه."
(سورۃ التحریم، الآیۃ: 6، مطلب: يجب علينا تعليم أولادنا وأهلينا، ج:3، ص:624، ط: دار الکتب العلمیۃ)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا ضرب أحدكم) أي أحدا في حد أو تعزير (فليتق الوجه) أي فليتجنب من ضرب وجهه."
(کتاب الحدود، باب التعزير، ج:6، ص:2380، ط: دار الفكر)
البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:
"وفي العيون: المعلم والأستاذ إذا ضربا الصبي بغير إذن الأب أو الوصي ضمنا، ولو ضرباه بإذنهما لا يضمنان."
(کتاب الإجارات، ج:10، ص:259، ط: دار الکتب العلمیۃ)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

