بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم کے کفارے میں مدرسے کو دس طلبہ کے دو وقت کے کھانے کا خرچ دینا

سوال

مجھ پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔ ہمارے گاؤں کے مدرسے میں بورڈنگ ہے، میں ایک دن کے لیے دس طلبہ کے دونوں وقت کے کھانے کا خرچ مدرسے کو دینا چاہتا ہوں۔ کیا اس سے کفارہ ادا ہوجائے گا؟

جواب

قسم کے کفارے میں دس مساکین کو ایک دن دونوں وقت (صبح و شام) پیٹ بھر کر کھانا کھلانا درست ہے، اور یہ کھانا خود کھلانے کے بجائے کسی دوسرے کو وکیل بنا کر کھلوانا بھی جائز ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل مدرسے کے ذمہ داران کو یہ بتا کر رقم دے کہ یہ قسم کے کفارے کی رقم ہے اور اس سے دس طلبہ کو ایک دن کے دونوں وقت کا کھانا کھلانا ہے، اور ذمہ داران درج ذیل طریقے کے مطابق کھلا دیں، تو کفارہ ادا ہوجائے گا:

1۔ یہ دس طلبہ مسکین ہوں، مالدار نہ ہوں۔
2۔ جن دس طلبہ کو صبح کا کھانا کھلایا جائے، شام کا کھانا بھی انہی کو کھلایا جائے۔ اگر شام کا کھانا دوسرے طلبہ کو کھلایا گیا تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔
3۔ دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلایا جائے۔

پس  مدرسہ کے ذمہ دار کے لیے مذکورہ رقم بورڈنگ کے عمومی خرچ میں شامل کرنے اور متعین دس طلبہ کو کفارے کی نیت سے دونوں وقت  کھانا نہ کھلانے کی شرعا اجازت نہیں ہوگی، اگر ذمہ دار نے کفارہ کی رقم مصالح مدرسہ میں استعمال کرلی ، تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔

قرآن کریم میں ہے:

 «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الأيمان فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة فمن لم يجد فصيام ثلاثة أيام»

[المائدة: 89]

بداية المبتدي میں ہے:

 «وإن أمر غيره أن يطعم عنه من ظهاره ففعل أجزأه، فإن غداهم وعشاهم جاز قليلا كان ما أكلوا أو كثيرا»

(کتاب الطلاق، باب الكفارة، ص:82 ط:مكتبة ومطبعة محمد علي صبح)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

 «فإن غداهم وعشاهم جاز» (ج:3، ص:165) ... «ولا بد من شبعهم في الأكلتين ... ولو غدى ستين وعشى ستين غيرهم لم يجزه إلا أن يعيد على ستين منهم غداء أو عشاء»

(کتاب الطلاق، باب الظهار، فصل كفارة الظهار، ج:3، ص:166)

الفتاوى الهندية میں ہے:

 «أو إطعامهم، والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار، هكذا في الحاوي للقدسي»

(کتاب الأیمان، الباب الثاني، الفصل الثاني في الكفارة، ج:2، ص:61، ط: دارالفکر)

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

"کیا کفارات کا مصرف دینی مدارس ہیں؟ج: مدرسہ میں اگر طلبہ کے کھلانے میں لگادیوے تو درست ہے۔ بشرطیکہ کفارہ میں دس طلبہ کو یا روزہ کے کفارہ میں ساٹھ طلبہ کو بہ نیت کفارہ دونوں وقت کھلاوے یا بقدر فطرہ ہر ایک کو نصف صاع (پونے دو سیر) گندم یا اس کی قیمت دیوے ۔۔۔ مد کی تصریح ضروری ہے اس لیے کہ اپنے مصرف کے بغیر خرچ کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوتا۔"

(کتاب الطلاق، ج:7، ص:297، ط: جمعیۃ پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101503
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں