مسجد کے لیے زبانی دی گئی زمین کے پیچھے خالی جگہ پر وارث کا گھر بنانا
سوال
میرے دادا نے اپنی زمین میں سے مسجد کے لیے جگہ دی تھی، زبانی کہا تھا کہ یہاں مسجد بنا لو۔ مسجد بنی اور تیس سال سے اس میں نماز ہو رہی ہے، لیکن کاغذات میں زمین اب بھی دادا کے نام ہے۔ مسجد کی عمارت کے پیچھے کچھ خالی جگہ پڑی ہے، جس پر میرے چچا اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں کہ کاغذ میں یہ ہمارے نام ہے۔ کیا وہ وہاں گھر بنا سکتے ہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کے دادا نے جو جگہ مسجد کے لیے مختص کر دی تھی اور ان کے حکم پر مسجد کی تعمیر بھی کر دی گئی تھی، تو مذکورہ جگہ دادا کی ملکیت سے نکل کر مسجد کے لیے وقف ہو گئی تھی، لہٰذا مذکورہ جگہ اگرچہ حال میں دادا کے نام پر ہو، اس کے باوجود مرحوم کے ورثہ میں سے کسی کا حق نہیں ہوگا۔ البتہ مسجد کے علاوہ جو جگہ دادا نے مسجد کے لیے مختص نہ کی ہو، وہ مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوگی اور وراثت کے شرعی ضابطے کے مطابق مرحوم کے تمام ورثہ میں تقسیم کی جائے گی، کسی ایک وارث کا تنہا اس پر استحقاق نہیں ہوگا۔ لہٰذا زائد جگہ اگر دادا نے مسجد کے لیے مختص کر دی تھی، اس پر مرحوم کے مذکورہ بیٹے، سائل کے چچا، کے لیے اپنا ذاتی گھر بنانا جائز نہیں ہوگا۔
صحیح مسلم میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين."
(کتاب المساقاۃ، باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها، رقم: 1610، ج: 3، ص: 1230، ط: دار إحياء التراث العربي)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه."
(کتاب الوصایا، ج: 2، ص: 926، ط: المكتب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأجمعوا على أن من جعل داره أو أرضه مسجدا يجوز، وتزول الرقبة عن ملكه لكن عزل الطريق وإفرازه والإذن للناس بالصلاة فيه، والصلاة شرط عند أبي حنيفة ومحمد، حتى كان له أن يرجع قبل ذلك، وعند أبي يوسف تزول الرقبة عن ملكه بنفس قوله: جعلته مسجدا، وليس له أن يرجع عنه."
(كتاب الوقف والصدقة، فصل في شرائط جواز الوقف، ج: 6، ص: 219، ط: دار الکتب العلمیة)
البحر الرائق میں ہے:
"وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد."
(کتاب الوقف، فصل في أحكام المسجد، ج: 5، ص: 271، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما."
(كتاب الوقف، الباب الأول في تعريف الوقف وركنه، ج: 2، ص: 350، ط: رشیدیه)
درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المادة: 97، ج: 1، ص: 98، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

