مرض الوفات میں بہو کو دیے گئے کنگنوں کا حکم
سوال
میری والدہ کینسر کی وجہ سے تقریباً ایک مہینہ ہسپتال میں رہیں، اس دوران میری بیوی نے دن رات ان کی خدمت کی۔ انتقال سے دس دن پہلے والدہ نے اپنے سونے کے کنگن اتار کر میری بیوی کو دے دیے کہ یہ تمہارے ہیں۔ میری بہنوں کا کہنا ہے کہ یہ کنگن بھی ترکے میں شامل ہوں گے۔ شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ مرض الوفات میں کیا گیا ہبہ عقد کے اعتبار سے ہبہ اور حکم کے اعتبار سے وصیت ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے تام ہونے کے لیے ہبہ کرنے والے کی زندگی میں قبضہ ضروری ہے، اور قبضہ ہو جانے کے بعد بھی یہ ترکہ کے ایک تہائی ہی میں نافذ ہوتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ نے مرض الوفات میں اپنے کنگن اتار کر سائل کی بیوی کوجو دیے تھے، اور سائل کی بیوی نے والدہ کی زندگی میں ہی ان پر قبضہ کر لیا تھا، تو یہ ہبہ مکمل ہو گیا تھا، البتہ اس کا نفاذ مرحومہ کے ترکہ کے ایک تہائی میں ہوگا۔ کنگنوں سمیت مرحومہ کے کل ترکہ میں سے تجہیز و تکفین اور قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچے، اگر کنگنوں کی مالیت اس کے ایک تہائی کے برابر یا اس سے کم ہو تو مذکورہ کنگن سائل کی بیوی کی ملکیت شمار ہوں گے، انہیں واپسی کرنے کی چندہ ضرورت نہیں ہوگی،اس صورت میں مرحوم کی بیٹیوں کی جانب گنگنوں کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں ، البتہ مذکورہ کنگنوں کی مالیت اگر ایک تہائی کل ترکہ سے زیادہ ہو، یا کنگنوں کے علاوہ مرحومہ کا کوئی مال ہی نہ ہو، تو ایک تہائی کے بقدر مالیت کی کنگن سائل کی بیوی کی ملکیت شمار ہوں گے، اور زائد حصہ ورثاء کو لوٹانا سائل کی بیوی پر لازم ہوگا جو مرحومہ کے تمام وارثوں میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ البتہ اگر مرحومہ کے تمام ورثاءعاقل بالغ ہوں والدہ کے تصرف کو اپنی خوشی سے بعینہ تسلیم کر لےتو ایک تہائی سے زائد حصے کے لینےکی بھی اجازت دے ۔ اگر مرحومہ کے ذمہ اتنا قرض ہو جو ان کے پورے ترکہ کو گھیر لے تو یہ ہبہ نافذ نہیں ہوگا۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وأنا بمكة... قلت: يا رسول الله أوصي بمالي كله؟ قال: لا، قلت: فالشطر؟ قال: لا، قلت: الثلث؟ قال: فالثلث والثلث كثير، إنك أن تدع ورثتك أغنياء خير من أن تدعهم عالة يتكففون الناس في أيديهم"
(کتاب الوصایا، باب أن يترك ورثته أغنياء خير من أن يتكففوا الناس، رقم: 2742، ج:4، ص:3، ط: السلطانية)
صحیح مسلم میں ہے:
"قال: يا رسول الله إن لي مالا كثيرا وإنما يرثني ابنتي أفأوصي بمالي كله؟ قال: لا، قال: فبالثلثين؟ قال: لا، قال: فالنصف؟ قال: لا، قال: فالثلث؟ قال: الثلث والثلث كثير"
(کتاب الوصیۃ، باب الوصیۃ بالثلث، رقم: 1628، ج:3، ص:1253، ط: دار إحياء التراث العربي)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعد بن أبي وقاص قال: مرضت عام الفتح مرضا أشفيت على الموت فأتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني فقلت: يا رسول الله إن لي مالا كثيرا وليس يرثني إلا ابنتي أفأوصي بمالي كله؟ قال: لا، قلت: فثلثي مالي؟ قال: لا، قلت: فالشطر؟ قال: لا، قلت: فالثلث؟ قال: الثلث والثلث كثير"
(کتاب الفرائض والوصایا، باب الوصایا، الفصل الأول، رقم: 3071، ج:2، ص:924، ط: المکتب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"يعتبر كونه وارثا له وقت الموت لا وقت الهبة؛ لأن هبة المريض في معنى الوصية حتى تعتبر من الثلث"
(کتاب الوصایا، فصل وأما شرائط الركن، ج:7، ص:337، ط: دار الكتب العلمية)
مجمع الانہر میں ہے:
"(ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين) أي ثم يبدأ بوصيته أي بتنفيذها من ثلث ما بقي بعد التجهيز والدين"
(کتاب الفرائض، ج:2، ص:747، ط: دار إحياء التراث العربي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"قال في الأصل: ولا تجوز هبة المريض ولا صدقته إلا مقبوضة فإذا قبضت جازت من الثلث وإذا مات الواهب قبل التسليم بطلت، يجب أن يعلم بأن هبة المريض هبة عقدا وليست بوصية واعتبارها من الثلث ما كانت لأنها وصية معنى؛ لأن حق الورثة يتعلق بمال المريض وقد تبرع بالهبة فيلزم تبرعه بقدر ما جعل الشرع له وهو الثلث، وإذا كان هذا التصرف هبة عقدا شرط له سائر شرائط الهبة ومن جملة شرائطها قبض الموهوب له قبل موت الواهب، كذا في المحيط.
إن كانت الهبة دارا فقبضها ثم مات ولا مال له غيرها جازت الهبة في ثلثها ورد الثلثين إلى الورثة، وكذلك سائر ما يقسم وما لا يقسم، كذا في المبسوط.
مريض وهب لرجل جارية فوطئها الموهوب له ثم مات الواهب وعليه دين مستغرق ترد الهبة"
(کتاب الھبة، الباب العاشر في هبة المريض، ج:4، ص:400، ط: دار الفکر)
وفیہ ایضاً:
"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية"
(کتاب الوصایا، الباب الأول، ج:6، ص:90، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(من غالب حاله الهلاك بمرض أو غيره بأن أضناه مرض عجز به عن إقامة مصالحه خارج البيت) هو الأصح ... وفي حقها أن تعجز عن مصالحها داخله كما في البزازية"
(کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج:3، ص:384، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(قوله ولا يصح تبرعه إلا من الثلث) أي كوقفه ومحاباته وتزوجه بأكثر من مهر المثل"
(کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، ج:3، ص:386، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت، ولو كانت في مرض الموت للأجنبي كما سبق في كتاب الوقف"
(کتاب الھبة، ج:5، ص:690، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"وهب في مرضه، ولم يسلم حتى مات بطلت الهبة، لأنه وإن كان وصية حتى اعتبر فيه الثلث فهو هبة حقيقة، فيحتاج إلى القبض"
(کتاب الھبة، باب الرجوع في الهبة، ج:5، ص:700، ط: سعید)
فقط و الله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

