بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا نفاس کی مدت چالیس دن سے کم بھی ہوسکتی ہے؟

سوال

نفاس کی حد چالیس دن ہے یا اس سے کم بھی ہو سکتی ہے؟

جواب

چالیس دن نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ہے، نفاس کی مدت اس سے کم بھی ہو سکتی ہے،  کم سے کم مدت  کی کوئی  مقدار متعین نہیں ہے، تھوڑی دیر بھی خون آکر بند ہوسکتا ہے۔

فتاوی هنديہ میں ہے:

"أقل النفاس ما يوجد ولو ساعة وعليه الفتوى وأكثره أربعون. كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس هكذا في المحيط."

(كتاب الطهارة، الفصل الثانى فى النفاس، ج: 1، ص: 37، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101484
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں