بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں مکتب قائم کرکے بچوں کو اجرت کے عوض تعلیم دینے کا شرعی حکم

سوال

مسجد مین بچوں کو دینی تعلیم دینے کے عوض ان سے فیس وصول کرنا شرعاً جائز ہے یانہیں؟

اور اس فیس  کو مدرسہ کے اخراجات اور اساتذہ  کی تنخواہوں میں خرچ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد میں مستقل بنیاد پر مدرسہ یا مکتب قائم کرکے اجرت کے عوض تعلیم دینا مکروہ ہے، تاہم اگر واقعی ضرورت ہو، مسجد کے علاوہ قرآنِ کریم کی تعلیم کے لیے کوئی مناسب جگہ میسر نہ ہو، اور بغیر فیس کے تعلیم کا نظم چلانا ممکن نہ ہو، تو بقدرِ ضرورت بچوں سے فیس لے کر مسجد میں دینی تعلیم دینے کی گنجائش ہے۔

البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسجد کے آداب و تقدس کا مکمل لحاظ رکھا جائے، بچے اتنے چھوٹے نہ ہوں کہ پاکی و ناپاکی کی تمیز نہ رکھتے ہوں یا مسجد میں گندگی پھیلانے کا اندیشہ ہو، اور مسجد میں شور و غل، سخت الفاظ سے ڈانٹنا، بلند آواز سے چیخنا، مارنا یا سزا دینا وغیرہ نہ ہو۔ نیز وصول شدہ فیس کو مدرسہ کے ضروری اخراجات اور اساتذہ کی تنخواہوں میں خرچ کرنا بھی درست ہے۔

ساتھ ہی اہلِ محلہ کو چاہیے کہ مستقل طور پر کسی مناسب متبادل جگہ کا انتظام کرنے کی کوشش جاری رکھیں، تاکہ قرآنِ کریم کی تعلیم مسجد کے بجائے کسی مناسب جگہ پر دی جاسکے اور مسجد کی حرمت و وقار بھی برقرار رہے۔

فتح القدیر میں ہے:

"ولا يجوز أن تعمل فيه الصنائع لأنه مخلص لله فلا يكون محلا لغير العبادة غير أنهم قالوا في الخياط إذا جلس فيه لمصلحته من دفع الصبيان وصيانة المسجد لا بأس به للضرورة. ولا يدق الثوب عند طيه دقا عنيفا.
والذي يكتب إذا كان بأجر يكره وبغير أجر لا يكره، هذا إذا كتب العلم والقرآن لأنه في عبادة، أما هؤلاء المكتبون الذين تجتمع عندهم الصبيان واللغط فلا لو لم يكن لغط لأنهم في صناعة لا عبادة، إذ هم يقصدون الإجادة ليس هو لله بل للارتزاق، ومعلم الصبيان القرآن كالكاتب إن كان لأجر لا وحسبة لا بأس به. ومنهم من فضل هذا إن كان لضرورة الحر وغيره لا يكره وإلا فيكره، وسكت عن كونه بأجر أو غيره، وينبغي حمله على ما إذا كان حسبة، فأما إن كان بأجر فلا شك في الكراهة، وعلى هذا فإذا كان حسبة ولا ضرورة يكره لأن نفس التعليم ومراجعة الأطفال لا تخلو عما يكره في المسجد."

(كتاب الصلاة، فصل ويكره استقبال القبلة بالفرج في الخلاء، ج:1، ص: 422، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله ومن علم الأطفال إلخ) الذي في القنية: أنه يأثم ولا يلزم منه الفسق، ولم ينقل عن أحد القول به، ويمكن أنه بناء على أنه بالإصرار عليه يفسق. أفاده الشارح.

قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة وفي الخلاصة تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ لكن استدل في القنية بقوله عليه الصلاة والسلام «جنبوا مساجدكم صبيانكم ومجانينكم."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل فى البيع، ج:6، ص: 428، ط: سعيد)

فتاوی بزازیہ میں ہے :

"معلم الصبیان بأجر لو جلس فیہ لضرورۃ الحر لا بأس بہ، وکذا التعلیم  إن بأجرکرہ  إلا للضرورۃ وإن حسبۃ لا۔"

(بزازية على هامش الهندية، كتاب الصلاة، ج: 4، ص: 82 ، ط: رشیدیۃ)

فتاویٰ  ہندیہ میں ہے:

"ولو جلس المعلم في المسجد والوراق يكتب، فإن كان المعلم يعلم للحسبة والوراق يكتب لنفسه فلا بأس به؛ لأنه قربة، وإن كان بالأجرة يكره إلا أن يقع لهما الضرورة، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الكراهية،الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف، وما كتب فيه شيء من القرآن، ج:5، ص:321، ط: دار الفكر بيروت)

-کفایت المفتی میں ہے:

"(۱) داخلہ فیس کا حکم (۲) ماہوار فیس لی جاسکتی ہے

(سوال) ایک اسلامی مدرسہ کی مالی حالت نہایت خراب ہے، یہاں کے مسلمان اس قدر بے حس ہیں کہ باوجود خدمات کے اعتراف کے مالی امداد کی طرف راغب نہیں ہوتے اس مدرسہ میں نہ گورنمنٹ سے کوئی مالی امداد لی جاتی ہے نہ کسی بورڈ وغیرہ سے اندریں صورت (۱) اگر بچوں کے داخلہ کے وقت کوئی رقم داخلہ فیس کے طور پر لی جائے تو جائز ہے یا نہیں؟ (۲) درجہ قرآن یا حفظ و ناظرہ اردو یا فارسی یا عربی ان میں سے کسی درجہ کے لڑکوں پر ماہواری فیس شرعاً مقرر کرنا درست ہے یا نہیں؟

(جواب ۱۹) (۱) داخلہ کی فیس تو کوئی معقول نہیں (۲) ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔"

(کتاب العلم، ج:2، ص1: 4، ط: دارالاشاعت)

فتاوی بینات میں ہے:

"صورت مسئولہ میں دوسری صورت جائز ہے کہ طلباء کی ماہانہ فیس مقرر کر دی جائے اور جو طلباء صاحب حیثیت ہوں اور وہ فیس ادا کر سکتے ہوں تو وہ اپنی طرف سے فیس ادا کر دیا کریں اور جو طلباء فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اگر وہ بالغ ہیں تو وہ خود لکھ کر دے دیں کہ ہم فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اس لئے ہماری زکوٰۃ سے امداد کی جائے۔

اسی طرح جو طلباء نابالغ ہوں اور ان کے سرپرست ماہانہ فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو سرپرست یہ لکھ کر دے دیں کہ ہم ماہانہ فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے لہذا زکوٰۃ سے ہماری مدد کی جائے تو اس صورت میں ایسے مستحق زکوٰۃ طلباء کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں پھر اس رقم سے طلباء سے ماہانہ فیس بھی لے سکتے ہیں اور طلباء اپنی کتابیں وغیرہ بھی خرید سکتے ہیں، اس فیس سے جمع ہونے والی رقم سے اساتذہ کی تنخواہیں دینا جائز ہے اور دیگر انتظامی امور میں خرچ کرنا بھی جائز ہے۔"

(کتاب الزکوٰۃ، ج:2، ص: 652، ط: مکتبہ بینات)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101478
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں