شوہر کے علم و اجازت کے بغیر نکاح نامے میں تفویضِ طلاق کا اندراج اور بیوی کا طلاق کا نوٹس
سوال
ہمارے نکاح کے وقت نکاح نامہ قاضی صاحب نے خود پُر کیا تھا اور میں نے پڑھے بغیر دستخط کر دیے تھے، اس میں ایک خانہ ہے کہ شوہر نے بیوی کو طلاق کا اختیار دیا ہے یا نہیں، اس کے سامنے "ہاں" لکھا ہوا ہے، جس کا مجھے علم ہی نہیں تھا،گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی میکے چلی گئی، اور ایک مہینہ پہلے اس نے چیئرمین کے دفتر کے ذریعے مجھے طلاق کا نوٹس بھجوا دیا ہے،میں اسے رکھنا چاہتا ہوں، کیا اس نوٹس سے طلاق ہوگئی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ نکاح خواں یا کسی اور شخص کا شوہر کی اجازت کے بغیر نکاح نامے میں تفویضِ طلاق کا اندراج کر دینا شوہر کی طرف سے تفویض شمار نہیں ہوتا، بلکہ یہ شوہر کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، اور جو تحریر شوہر نے نہ خود لکھی ہو اور نہ لکھوائی ہو، اس سے طلاق کا حکم متعلق نہیں ہوتا جب تک شوہر اس کا اقرار نہ کرے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً نکاح نامہ قاضی صاحب نے سائل سے پوچھے بغیر پُر کیا تھا، سائل نے نہ زبانی طور پر بیوی کو طلاق کا اختیار دیا اور نہ قاضی صاحب کو اس خانے میں "ہاں" لکھنے کی اجازت دی، اور اس اندراج کا علم ہونے کے بعد بھی سائل نے اسے منظور نہیں کیا، بلکہ انکار کیا تو محض نکاح نامے پر دستخط کر دینے سے بیوی کو طلاق کا اختیار حاصل نہیں ہوا، بیوی کی طرف سے چیئرمین کے دفتر کے ذریعے بھیجے گئے نوٹس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔
البتہ اگر بیوی کا دعویٰ ہو کہ سائل نے نکاح کے وقت اسے طلاق کا اختیار دیا تھا اور سائل اس کا منکر ہو، تو یہ متنازع صورت ہے، اس میں دونوں فریق بالمشافہہ کسی مستند دار الافتاء سے رجوع کرکے فیصلہ حاصل کریں۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن ابن عباس، قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل، فقال: يا رسول الله، إن سيدي زوجني أمته، وهو يريد أن يفرق بيني وبينها، قال: فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر، فقال: يا أيها الناس، ما بال أحدكم يزوج عبده أمته، ثم يريد أن يفرق بينهما، إنما الطلاق لمن أخذ بالساق."
(کتاب الطلاق، باب طلاق العبد، رقم: 2081، ج: 1، ص: 672، ط: دار إحياء الكتب العربية)
المحیط البرہانی میں ہے:
"رجل كتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقه وقرأه على الزوج وأخذه الزوج وطوى وختم وكتب في عنوانه وبعثه إلى امرأته، فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها، وكذلك لو قال لذلك الرجل: ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم تقم عليه بينة بالكتاب ولم يقر أنه كتابه ولكنه وصف الأمر على وجهه، فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لا يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه."
(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 276، ط: دار الکتب العلمیۃ)
تبیین الحقائق میں ہے:
"والأصل فيه أن كل تصرف صدر من الفضولي وله مجيز حال وقوعه انعقد موقوفا على الإجازة عندنا وإن لم يكن له مجيز حالة العقد لا يتوقف ويقع باطلا."
(کتاب البیوع، باب الاستحقاق، ج: 4، ص: 103، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"رجل استكتب من رجل آخر إلى امرأته كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه وطواه وختم وكتب في عنوانه وبعث به إلى امرأته فأتاها الكتاب وأقر الزوج أنه كتابه فإن الطلاق يقع عليها، وكذلك لو قال لذلك الرجل ابعث بهذا الكتاب إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم تقم عليه البينة ولم يقر أنه كتابه لكنه وصف الأمر على وجهه فإنه لا يلزمه الطلاق في القضاء ولا فيما بينه وبين الله تعالى، وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه، كذا في المحيط."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج: 1، ص: 379، ط: رشیدیۃ)
فتاوی شامی میں ہے:
"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا."
(کتاب الطلاق، باب الصریح، ج: 3، ص: 247، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"ولو ادعت جعله أمرها بيدها لم تسمع إلا إذا طلقت نفسها بحكم الأمر ثم ادعته فتسمع."
"(قوله لم تسمع) أي لعدم حصول ثمرته."
(کتاب الطلاق، باب تفويض الطلاق، باب الأمر باليد، ج: 3، ص: 329، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"واصطلاحا (من يتصرف في حق غيره) بمنزلة الجنس (بغير إذن شرعي) فصل خرج به نحو وكيل ووصي (كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع وتزويج، وإسقاطا كطلاق وإعتاق (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا)."
(کتاب البیوع، باب البيع الفاسد، فصل في الفضولي، ج: 5، ص: 106-107، ط: سعید)
فقط و اللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

