بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیرونِ ملک ولی کی اجازت کے بغیر نمازِ جنازہ پڑھے جانے کے بعد وطن میں دوبارہ نمازِ جنازہ

سوال

میرے بڑے بھائی روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم تھے، وہیں ان کا انتقال ہوگیا، وہاں کی ایک مسجد میں اس مسجد کے امام صاحب نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اس وقت ہم گھر والوں میں سے کوئی وہاں موجود نہیں تھا، اور نہ ہی ہم میں سے کسی سے اجازت لی گئی۔ مرحوم کا ایک بالغ بیٹا بھی ہے۔

انتقال کے بارہ دن بعد میت گھر پہنچی ہے۔ اب گاؤں کے لوگ اور ہم رشتہ دار چاہتے ہیں کہ تدفین سے پہلے یہاں بھی نمازِ جنازہ پڑھی جائے۔ کیا شرعاً ہمارے لیے دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیرونِ ملک پڑھی گئی نمازِ جنازہ میں جب مرحوم کا کوئی ولی شریک نہیں تھا، اور نہ ہی ان سے اجازت لی گئی تھی، تو مرحوم کا ولی تدفین سے پہلے یہاں دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے۔ گاؤں کے لوگ اور رشتہ دار اس نماز میں شریک ہوسکتے ہیں، البتہ جو حضرات بیرونِ ملک والی نمازِ جنازہ میں شریک ہوچکے ہیں، وہ اس دوسری نماز میں شریک نہیں ہوں گے۔

تبیین الحقائق میں ہے:
«أي بعدما صلى الولي، وكذا بعد إمام الحي وبعد كل من يتقدم على الولي ... ولنا أن الفرض قد تأدى بالأولى، والتنفل بها غير مشروع، ولهذا لا يصلي عليه من صلى عليه مرة.»

(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، ج:1، ص:240، ط: المطبعۃ الکبری الامیریۃ)

العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
«(فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي) وإنما قيد بذكر السلطان، لأنه لو صلى السلطان فلا إعادة لأحد لأنه هو المقدم على الولي... قال الإمام الولوالجي في فتاواه: رجل صلى على جنازة والولي خلفه ولم يرض به، إن تابعه وصلى معه لا يعيد لأنه صلى مرة، وإن لم يتابعه فإن كان المصلي السلطان أو الإمام الأعظم في البلدة أو القاضي أو الوالي على البلدة أو إمام حي ليس له أن يعيد لأن هؤلاء هم الأولون منه، وإن كان غيرهم فله الإعادة.»

(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز، فصل في الصلاة على الميت، ج:2، ص:120، ط: دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:
«وإن صلى عليه الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده ... فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية. رجل صلى صلاة الجنازة والولي خلفه ولم يرض به إن تابعه فصلى معه جاز ولا يعيد الولي.»

(کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الخامس فی الصلاۃ علی المیت، ج:1، ص:164، ط: رشیدیۃ)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
«أما إذا أذن له أو لم يأذن ولكن صلى خلفه فليس له أن يعيد لأنه سقط حقه بالأذن أو بالصلاة مرة وهي لا تتكرر، ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء آخرون بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا لأن ولاية الذي صلى متكاملة.»

(کتاب الصلاۃ، فصل السلطان أحق بصلاته، ص:591، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:
«(ثم إمام الحي) فيه إيهام، وذلك أن تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي، وإلا فالولي أولى كما في المجتبى وشرح المجمع للمصنف. وفي الدراية: إمام المسجد الجامع أولى من إمام الحي: أي مسجد محلته نهر (ثم الولي) بترتيب عصوبة الإنكاح إلا الأب فيقدم على الابن اتفاقا إلا أن يكون عالما والأب جاهلا فالابن أولى.»

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج:2، ص:220-221، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:
«(وله) أي للولي، ومثله كل من يقدم عليه من باب أولى (الإذن لغيره فيها) لأنه حقه فيملك إبطاله ... (فإن صلى غيره) أي الولي (ممن ليس له حق التقديم) على الولي (ولم يتابعه) الولي (أعاد الولي) ولو على قبره إن شاء لأجل حقه لا لإسقاط الفرض؛ ولذا قلنا: ليس لمن صلى عليها أن يعيد مع الولي لأن تكرارها غير مشروع (وإلا) أي وإن صلى من له حق التقدم كقاض أو نائبه أو إمام الحي أو من ليس له حق التقدم وتابعه الولي (لا) يعيد لأنهم أولى بالصلاة منه.»

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج:2، ص:221-223، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101454
تاریخ24-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں