بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 امام کا لوگوں کو نیک اور نمازی ہونے کی تصدیق لکھ کر دینا

سوال

میں گاؤں کی مسجد میں امام ہوں۔ محلے کے لوگ نوکری یا باہر جانے کے کاغذات کے لیے اکثر مجھ سے یہ لکھوا لیتے ہیں کہ یہ شخص نیک اور نمازی ہے۔ ان میں سے بعض کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ نماز نہیں پڑھتے، اور بعض کو میں ٹھیک سے جانتا بھی نہیں۔ کیا ایسے لوگوں کو یہ تصدیق لکھ کر دے سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کے بارے میں کوئی بات لکھ کر اس کی تصدیق کرنا گواہی ہے، اور گواہی صرف اسی بات کی دی جا سکتی ہے جس کا گواہ کو یقینی علم ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جن لوگوں کے بارے میں آپ کو معلوم ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتے، ان کو نیک اور نمازی ہونے کی تصدیق لکھ کر دینا جھوٹی گواہی کے زمرے میں داخل ہے جو کبیرہ گناہ ہے، لہذا جن افراد کے نمازی اور ظاہری اعتبار  سے نیک ہونے کا علم ہو، ان کو یوں تصدیق لکھ کر دینا جائز  ہوگا، البتہ  جن لوگوں کے بارے میں آپ ٹھیک سے علم نہ ہو، ان کے نیک اور نمازی ہونے کی تصدیق صریح  الفاظ میں لکھنا بھی جائز نہیں ہوگا، ان کے بارے میں صرف وہی بات لکھی جا سکتی ہے جو آپ کے علم میں ہو، نیز مبہم الفاظ میں سفارش رکھنے کی بھی گنجائش ہوگی۔

صحیح بخاری میں ہے:
"عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ قلنا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس فقال: ألا وقول الزور وشهادة الزور، ألا وقول الزور وشهادة الزور، فما زال يقولها حتى قلت: لا يسكت."

(كتاب الأدب، باب عقوق الوالدين من الكبائر، رقم: 5976، ج:8، ص:4، ط: السلطانية)

صحیح مسلم میں ہے:
"عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ (ثلاثا) الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وشهادة الزور، (أو قول الزور) وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم متكئا فجلس، فما زال يكررها حتى قلنا: ليته سكت."

(كتاب الإيمان، باب بيان الكبائر وأكبرها، رقم: 87، ج:1، ص:91، ط: دار إحياء التراث العربي)

المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وقال الله تعالى: ﴿إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [الزخرف: 86] وقال صلى الله عليه وسلم للشاهد: إذا رأيت مثل الشمس فاشهد وإلا فدع، فمع الجهل لا حاجة إلى الشهادة بل هو ممنوع عن أدائها."

(ج:17، ص:185، ط: دار المعرفة) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144804101421
تاریخ06-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں