سسرال کی طرف سے مہر میں دیے گئے زیورات کی ملکیت
سوال
نکاح نامے میں میرے مہر کے ایک حصے کے بارے میں لکھا گیا کہ زیورات کی صورت میں ادا کردیا گیا ہے۔ شادی کے دن سسرال والوں نے مجھے سونے کا ہار، کانوں کی بالیاں اور چوڑیاں پہنائی تھیں۔ پچھلے سال ساس نے یہ کہہ کر سارے زیورات اپنے پاس رکھ لیے کہ گھر میں محفوظ نہیں، اور اب کہتی ہیں کہ یہ خاندانی زیور ہیں، بہو کو صرف پہننے کے لیے دیے گئے تھے۔ میرے شوہر اس معاملے میں خاموش ہیں۔ یہ زیورات کس کی ملکیت ہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب نکاح نامے میں مہر کے ایک حصے کے متعلق یہ درج ہے کہ وہ زیورات کی صورت میں ادا کردیا گیا ہے، اور شادی کے دن یہ زیورات سائلہ کو پہنا کر اس کے حوالے کردیے گئے تھے، تو مہر کی مد میں دیے گئے یہ زیورات سائلہ کی ملکیت ہیں۔ ساس یا سسرال کے کسی فرد کا انہیں خاندانی زیور کہہ کر اپنی ملکیت قرار دینا درست نہیں۔ ساس نے حفاظت کے نام سے جو زیورات اپنے پاس رکھے ہیں، سائلہ کے مطالبے پر انہیں واپس کرنا لازم ہے، اور سائلہ کی رضامندی کے بغیر انہیں روکے رکھنا جائز نہیں۔
مجمع الأنہر میں ہے:
«أي إن حطت المرأة مهرها المعقود عليه بعضا أو كلا عن الزوج (صح) الحط؛ لأن المهر حقها، والحط يلاقي حقها وإن لم يقبل الزوج»
(کتاب النکاح، باب المہر، ج:1، ص:349، ط: دار إحياء التراث العربي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
«وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك»
(کتاب النکاح، الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج:1، ص:327، ط: رشیدیۃ)
درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
«لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي» ... «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا»
(مادہ: 97، ج:1، ص:98، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

