اشتہارات کے لیے نصب اسکرینیں خرید کر اسی کمپنی کو کرائے پر دینے کا حکم
سوال
جو روڈ پر اسکرین لگی ہوتی ہیں، اشتہارات دکھانے کے لیے، جن میں عورتوں کی تصاویر بھی ہوتی ہیں کسی چیز کی نمائش کے لیے، ان اسکرینوں کو خریدنا اور ان کو انہی اسکرین کمپنی کو کرائے پر دینا کیسا ہے؟
وضاحت اس کی یہ ہے کہ مثلاً ایک کمپنی نے کسی روڈ پر اسکرینیں لگائی ہیں، اب ایک بندہ کمپنی کو دو لاکھ روپے دے کر دو اسکرین خرید لے تو یہ اسکرین اس کی ہو جائے گی اور اس کو ماہانہ اس کا کرایہ آتا رہے گا کمپنی کی جانب سے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں اشتہارات دکھانے کے لیے نصب اسکرینیں خرید کر اسی کمپنی کو کرائے پر دینے کا مذکورہ معاملہ شرعاً جائز نہیں ہے؛اس لیے کہ اس معاملے میں اسکرینوں کی خرید و فروخت اور کرایہ داری کے دونوں معاملات ایک دوسرے کے ساتھ مشروط ہیں، یعنی اسکرین خریدنے کے ساتھ ہی اسے اسی کمپنی کو کرائے پر دینا بھی طے ہوتا ہے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک معاملہ میں دومشروط معاملوں کو انجام دینے سے منع فرمایا ہے۔
نیز مذکورہ اسکرینیں پہلے سے سڑکوں پر نصب ہیں، لہٰذا اگر خریدار انہیں خریدنے کے بعد اپنے قبضے میں لیے بغیر ہی اسی کمپنی کو کرائے پر دے دیتا ہو تو یہ معاملہ اس وجہ سے بھی ناجائز ہوگا؛ کیوں کہ منقولی چیز خریدنے کے بعد اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے کرائے پر دینا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح سوال میں مذکور وضاحت کے مطابق ان اسکرینوں پر جان دار کی تصاویر والے اشتہارات اور عورتوں کی تصاویر پر مشتمل اشتہارات بھی دکھائے جاتے ہیں، لہٰذا ایسے کام کے لیے اسکرینیں کرائے پر دینا گناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے بھی جائز نہیں ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك»."
(کتاب البیوع، باب المنهي عنها من البيوع، رقم الحديث: 2870، 3/114، ط: مكتبة البشرى)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وكذلك ما سوى الطعام من المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا ... والإجارة في ذلك كله كالبيع."
(باب البيوع الفاسدة، 13/8، ط: إدارة القرآن)
الجامع الكبير میں ہے:
"رجل اشترى عبدًا ولم يقبضه حتى أعاره أو آجره من البائع، لم يجز."
(باب ما يكون إجارة في البيع وما لا يكون وما يبيع قبل القبض، ص: 240، ط: الاستقامة)
شرح مجلة الأحكام العدلية میں ہے:
"ودخل في البيع الإجارة لأنها بيع المنافع ... فليس للمشترى أن يؤجر المبيع من آخر قبل قبضه."
(كتاب البيوع، الباب الرابع، الفصل الأول في بيان حق التصرف، 2/174، ط: مكتبة إسلامية، كوئٹه)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

