بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر قبرستان میں پانی جمع ہورہا ہو تو اس میں مٹی ڈال کر اونچا کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

سوال

 اگر قبرستان نشیبی ہو اور ارد گرد کی گلیاں تقریباً سات سے آٹھ فٹ اونچی ہوں اور سارے محلے کی نالیوں اور گٹروں کا گندہ پانی اور غلاظت بارش کے  پانی کے ساتھ بہہ  کر قبرستان میں جمع ہو جاتا ہو اور کئی کئی دن قبریں پانی کے اندر ڈوبی رہیں اور قبرستان کا رقبہ تقریبًا چالیس مرلہ ہو ۔ تو اتنے بڑے رقبے کو سات سے آٹھ فٹ مٹی ڈال کر اونچا کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ جبکہ اتنی زیادہ مٹی جو تقریبا   ہاتھ والی ٹرالیوں سے چار سو سے زیادہ  ٹرالیاں بنتی ہیں، اور یہ کام  کافی محنت طلب اور  اس کے لیے  طویل مدت بھی درکار ہے۔   اگر گنجائش ہے تو  ٹرالیوں کے ذریعے  اوپر سے مٹی ڈال کر کیا ٹریکٹر کے ذریعے اس مٹی کو ہموار کیا جا سکتا ہے؟ 

جواب

اگر قبرستان نشیبی جگہ پر واقع ہے اور   اس کے آس پاس گلیاں اونچی جگہ پر واقع ہیں،جس کی وجہ سے  گندہ پانی  بارش  کے پانی کے ساتھ   بہہ کر  اس میں  جمع ہورہا ہے ،اور  کئی کئی دنوں  تک قبریں پانی میں ڈوبی رہتی ہیں، تو  قبرستان کو اونچا کرنے کے لیے اس میں  مٹی ڈالنی چاہیے؛ تاکہ گندہ پانی قبروں میں جا کر قبروں کی توہین نہ ہو۔  البتہ مٹی ہموار کرنے کے لیے ٹریکٹر چلانا درست نہیں، بلکہ مزدوروں کے ذریعے ہموار کیا جائے؛  کیونکہ    ٹریکٹر کے ذریعے مٹی ہموار کرنے  کی صورت میں قبروں کو روندنا پڑے گا، جو کہ ناجائز ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔

رد  المحتار میں ہے:

"قلت: وتقدم أنه إذا بلي الميت، وصار ترابا يجوز زرعه، والبناء عليه، ومقتضاه جواز المشي فوقه. ثم رأيت العيني في شرحه على صحيح البخاري ذكر كلام الطحاوي المار، ثم قال: فعلى هذا ما ذكره أصحابنا في كتبهم من أن وطء القبور حرام وكذا النوم عليها ليس كما ينبغي، فإن الطحاوي هو أعلم الناس بمذاهب العلماء ولا سيما بمذهب أبي حنيفة انتهى.قلت: لكن قد علمت أن الواقع في كلامهم التعبير بالكراهة لا بلفظ الحرمة، وحينئذ فقد يوفق بأن ما عزاه الإمام الطحاوي إلى أئمتنا الثلاثة من حمل النهي على الجلوس لقضاء الحاجة يراد به نهي التحريم، وما ذكره غيره من كراهة الوطء والقعود إلخ يراد به كراهة التنزيه في غير قضاء الحاجة. وغاية ما فيه إطلاق الكراهة على ما يشمل المعنيين، وهذا كثير في كلامهم، ومنه قولهم مكروهات الصلاة، وتنتفي الكراهة مطلقا إذا كان الجلوس للقراءة كما يأتي، والله سبحانه أعلم."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج: 2، ص: 245، ط: سعید)

وفیه أیضًا:

"و لو بلي الميت وصار ترابًا ‌جاز ‌دفن غيره في قبره و زرعه و البناء عليه اهـ."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج: 2، ص: 233، ط: سعید)

حاشیۃ  الطحطاوی میں ہے:

"وفي شرح المشكاة والوطء لحاجة كدفن الميت لا يكره وفي السراج فإن لم يكن له طريق إلا على القبر جاز له المشي عليه للضرورة ولا يكره المشيء في المقابر بالنعلين عندنا."

(کتاب الصلاۃ، باب أحکام  الجنائز، ص: 620، ط: دار الکتب العلمیة)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"قال الطيبي: إشارة إلى أنه لا يهان ميتا، كما لا يهان حيا."

(کتاب الجنائز، باب دفن المیت، ج: 3، ص: 1226، ناشر: دار الفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101259
تاریخ13-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں