بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر مزدور کمزور ہو تو اس کے ساتھ نرمی برتنا

سوال

ایک مزدور جو کہ مزدوری ٹھیک طرح سے نہیں کرتا، چھٹیاں کرتا ہے اور کام کے اوقات پورے نہیں کرتا، جس وجہ سے تنخواہ کٹ کر کم ملتی ہے۔ تنخواہ کم ملنے کی وجہ سے اگر وہ گھر کا راشن پورا کرتا ہے تو کرایہ ادا نہیں کر پاتا، اور اگر کرایہ ادا کرتا ہے تو راشن پورا نہیں کر پاتا۔

چھٹیاں کرنے کی وجہ وہ یہ بیان کرتا ہے کہ میری ٹانگ میں درد ہوتا ہے، (اس کی ایک ٹانگ حقیقتاً کمزور ہے)۔ اب اگر اس کے راشن یا کرایہ ادا کرنے میں تعاون کیا جائے تو اس مضرت کا اشکال ہے کہ اس کے ساتھ تعاون کرنا اسے مزید سست اور کام چور بنا دے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں اس کی مدد کی جائے یا نہ کی جائے؟

اور اگر کی جائے تو کس صورت میں کی جائے؟

جواب

واضح رہےکہ  کسی ضرورت مند کے ساتھ تعاون کرنا، اس کی ضروریات پوری کرنا اور اس کو سہولت پہنچانا ایمانی تقاضا ہے،  اس سے انسانی زندگی برقرار رہتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ جس مزدور کو جسمانی کمزوری لاحق ہے، جس کی وجہ سے وہ شخص صحیح طرح سے کام نہیں کر پاتا ،اسی عذر کی وجہ سے اپنے ذمہ کا م کی  پابندی نہیں کر  پاتا ہے، تو اس صورت میں مذکورہ تنخواہ کے علاوہ ضروری اخراجات کے لیے  جس قدر  رقم کی ضرورت ہو اس کے مطابق تعاون کیا جاسکتا ہے۔ نفلی صدقہ و خیرات سے، مستحق زکوۃ ہو تو زکوۃ سے تعاون کیا جاسکتا ہے۔

مشکاۃ شریف میں ہے: 

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب فإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل»"

(کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقة، الفصل الأول، ج: 1 ص: 592 ط: المکتب الاسلامی) 

مرقات المفاتيح میں ہے: 

"«ولا يقبل الله إلا الطيب» " جملة معترضة بين الشرط والجزاء، وفيه إشارة إلى أن غير الحلال غير مقبول وأن الحلال المكتسب يقع بمحل عظيم، وكان شيخنا العارف بالله الولي الشيخ علي المتقي رحمه الله يحكي أن أحدا من الصالحين كان يكتسب ويتصدق بالثلث وينفق الثلث ويصرف الثلث في المكتسب، فجاءه أحد من أرباب الدنيا وقال: يا شيخ أريد أن أتصدق فدلني على المستحق، فقال: حصل المال من الحلال ثم أنفق فإنه يقع في يد المستحق، فألح عليه الغني فقال: اخرج فإذا لقيت أحدا حن عليه قلبك فأعطه، فخرج فرأى شيخا كبيرا أعمى فقيرا فأعطاه، ثم مر عليه يوما آخر فسمع أن الأعمى يحكي إلى من بجنبه أنه مر على شخص بالأمس فأعطاني كذا وكذا، فانبسطت وصرفت البارحة في الشرب مع فلانة المغنية، فجاء إلى الشيخ وحكى له بالواقعة فأعطاه الشيخ من دراهم كسبه درهما وقال له: إذا خرجت من البيت فأول من يقع نظرك عليه فادفع الدرهم إليه، فخرج فرأى شخصا من ذوي الهيئات يظهر منه آثار الغنى فخاف منه أن يعطيه لكن لما كان بأمر الشيخ عرض عليه ودفع إليه، فلما أخذه رجع من طريقه وتبعه الغني إلى أن رآه دخل في خرابة وخرج من باب آخر ورجع إلى البلد فدخل وراءه في تلك الخرابة فلم ير فيها إلا حمامة ميتة فتبعه وأقسم عليه أن يخبره بما وقع له من الحال، فذكر أن معه أولادا صغارا وكانوا في غاية من المجاعة فحصل له اضطراب، فخرج دائرا فرأى الحمامة فأخذ بها لهم، فلما حصل له من الفتوح رد الحمامة إلى مكانها فعرف تحقيق معنى كلام الشيخ، " 

(کتاب الزکاۃ، باب فضل الصدقة، الفصل الأول، ج: 4 ص: 1333 ط: دار الفکر) 

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101250
تاریخ20-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں