بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1448ھ 05 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

كهيل کے نتيجے پر تین طلاقیں معلق کرنا

?سوال

ورلڈ کپ کے دوران ایک مرتبہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: "اگر اس مرتبہ ارجنٹینا نہیں جیتی تو میری بیوی کو تین طلاق۔"اتفاق سے ارجنٹینا نہیں جیتی۔ اس کے بعد سے میری بیوی مجھ سے بات نہیں کر رہی اور میرے گھر سے بھی چلی گئی ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میرے مذکورہ الفاظ سے میری بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟ چونکہ میں نے طلاق کو ایک شرط کے ساتھ معلق کیا تھا اور وہ شرط پوری نہیں ہوئی، اس صورت میں شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ نیز اب ہمارے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟

✓جواب

طلاق اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں سے ایک حد اور شریعت کا سنجیدہ حکم ہے، کھیل تماشے یا ہار جیت کی شرط کی چیز نہیں۔ قرآنِ کریم نے طلاق کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی آیات کو مذاق بنانے سے صراحۃً منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ایک شخص کے بیک وقت تین طلاقیں دینے کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا: "کیا اللہ کی کتاب سے کھیل کیا جا رہا ہے، حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کو ان امور میں شمار فرمایا ہے جن میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی۔ ایک ساتھ تین طلاقیں دینا طلاقِ بدعت اور گناہ ہے، اگرچہ طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔

لہذا سائل نے اپنی بیوی کے طلاق کو ٹیم کے جیتنے کے ساتھ جو معلق کیا ہے یہ شریعت کے حکم کے ساتھ مذاق  کیا اور اپنا گھر بھی برباد کیا، سخت گناہ کا مرتکب ہوا لہذا اس پر مستقل توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے۔

 سائل نے تین طلاقوں کو ارجنٹینا کے نہ جیتنے پر معلق کیا تھا، اور ارجنٹینا نہیں جیتی، تو شرط پائی گئی اور سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ 

نکاح ختم ہو چکا ہے اور بیوی سائل پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے۔اب رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش نہیں۔ مطلقہ پر عدت لازم ہے: حمل نہ ہونے کی صورت میں مکمل تین ماہواریاں، اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک۔ عدت گزرنے کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

 ﴿والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء﴾

[البقرة: 228]

ترجمہ:

"اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔"

قرآن کریم میں ہے:

 ﴿تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون﴾

 [البقرة: 229]

ترجمہ:

 "یہ اللہ کی حدود ہیں، سو ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔"

قرآن کریم میں ہے:

 ﴿ولا تتخذوا آيات الله هزوا واذكروا نعمت الله عليكم وما أنزل عليكم من الكتاب والحكمة يعظكم به واتقوا الله واعلموا أن الله بكل شيء عليم﴾

[البقرة: 231]

ترجمہ:

"اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہے، اور اس کتاب و حکمت کو جو اس نے تم پر نازل کی، جس کے ذریعے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔"

سنن أبي داود میں ہے:

"عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس فجاءه رجل، فقال: إنه طلق امرأته ثلاثا، قال: فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه، ثم قال: ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس، يا ابن عباس، وإن الله قال: ﴿ومن يتق الله يجعل له مخرجا﴾، وإنك لم تتق الله فلم أجد لك مخرجا، عصيت ربك، وبانت منك امرأتك."

(کتاب الطلاق، باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث، رقم: 2197، ج:2، ص:260، ط: المكتبة العصرية)

ترجمہ:

"حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کی بیوی اسے لوٹا دیں گے۔ پھر فرمایا: تم میں سے کوئی جاتا ہے اور حماقت کر بیٹھتا ہے، پھر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 'اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔' تم اللہ سے نہیں ڈرے، اس لیے میں تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا۔ تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے بائنہ (جدا) ہوگئی۔"

سنن النسائي میں ہے:
"عن محمود بن لبيد قال: أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا، ثم قال: أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ حتى قام رجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله؟"

(کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، رقم: 3401، ج:6، ص:142، ط: المكتبة التجارية الكبرى)

ترجمہ:

 "حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا جس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوگئے، پھر فرمایا: کیا اللہ کی کتاب سے کھیل کیا جا رہا ہے حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟ یہاں تک کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے قتل نہ کردوں؟"

اللباب في شرح الكتاب میں ہے:
"(وإذا كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة) ولو قبل الدخول (لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها) أي يطأها (ثم يطلقها أو يموت عنها) وتنقضي عدتها منه."

(کتاب الرجعة، ج:3، ص:58، ط: المكتبة العلمية)

الفتاوى الهندية میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، ج:1، ص:420، ط: رشیدیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144804101237
تاریخ05-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں