
عصر کی نماز میں تیسری رکعت کے سجدے سے اٹھنے کے بعد آخری صف کے مقتدی سہواً تشہد کے لیے بیٹھ گئے، جب کہ اگلی صفوں کے مقتدی چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہو چکے ہوں، تو اگر کوئی مقتدی آخری صف والوں کو اٹھانے کے لیے ’’اللہ اکبر‘‘ یا کوئی اور لفظ کہے، تو کیا اس کی نماز فاسد ہو جائے گی؟ اور اگر وہ کچھ نہ کہے تو آخری صف کے مقتدیوں کی نماز کو فاسد ہونے سے بچانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
نماز میں اٹھتے بیٹھتے ہوئے قدر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے سے مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی مقتدی نے آخری صف کے مقتدیوں کو توجہ دلانے کی عرض سے بلند آواز سے اللہ اکبر کہہ دیا ، تو اس کی وجہ سے اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی، تاہم آخری صف کے وہ مقتدی جو سہواً بیٹھ گئے ہوں انہیں چاہیے کہ اگلی صفوں کے مقتدیوں کو دیکھ کر خود ہی کھڑے ہو جائیں۔ سہواً بیٹھنے سے ان کی نماز فاسد نہیں ہوگی، کیونکہ مقتدی کا سہو معاف ہے۔
فتاوى تاتارخانیہ میں ہے:
"وإن عرض للإمام شيء فسبح له فلا بأس به، وكذا إذا سبح ليعلم غيره أنه في الصلاة لا تفسد صلاته وفي الخلاصة : وكذا إذا قال لا إله إلا الله وأراد به ليعلم أنه في الصلاة لم تفسد بالإجماع . ("وفي فتاوى الحجة : المصلي إذا كبر بنية أن يعلم غيره أنه في الصلاة لا تفسد صلاته، والأولى التسبيح لقوله عليه السلام : التسبيح للرجال والتصفيق للنساء»، ولو صفق الرجل وسبحت المرأة لا تفسد صلاتهما وقد تركا السنة."
(كتاب الصلاة، الفصل الخامس ما يفسد الصلاة وما لا يفسد، ج:2، ص:221، ط:رشيديه)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فأما المقتدي إذا سها في صلاته فلا سهو عليه؛ لأنه لايمكنه السجود؛ لأنه إن سجد قبل السلام كان مخالفًا للإمام، وإن أخره إلى ما بعد سلام الإمام يخرج من الصلاة بسلام الإمام؛ لأنه سلام عمد ممن لا سهو عليه، فكان سهوه فيما يرجع إلى السجود ملحقًا بالعدم لتعذر السجود عليه، فسقط السجود عنه أصلاً."
(کتاب الصلاۃ، فصل بيان من يجب عليه سجود السهو ومن لايجب عليه سجود السهو، ج:1، ص:175، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144804101214
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن