ورثاء میں ایک نابالغ اور غائب شخص کے ہوتے ہوئے غیر شرعی تقسیم
سوال
ترکہ کا مال تقسیم کرتے وقت اگر ایک بھائی غائب ہو، اسی طرح ایک بھائی نابالغ ہو اور دونوں سے پوچھے بغیر باقی بھائیوں نے آپس میں ترکہ تقسیم کردیا، میراث کے اصولوں کے خلاف، جس پر یہ دونوں بھائی (غائب اور نابالغ) رضامند نہیں ہیں اور بھائیوں نے ان دونوں کے لیے جو حصہ متعین کیا تھا، اس میں انہوں نے کوئی تصرف بھی نہیں کیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ ان دو بھائیوں کا باقی بھائیوں سے یہ مطالبہ کرنا کہ : "ہم پہلی تقسیم پ رضامند نہیں ہیں، دوبارہ تقسیم ہونی چاہیے، درست ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رهے كه ترکہ کی تقسیم اگر تمام ورثاء اپنی رضامندی سے کرلیں تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور کوئی وارث غائب بھی نہ ہو، لیکن اگر کوئی وارث غائب ہے ، یا راضی نہیں ہےیا نابالغ ہے، تو وہ تقسیم درست نہیں ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ پہلی تقسیم غیر شرعی تھی اور تقسیم کے وقت ایک وارث غائب تھا اور ایک وارث نابالغ بھی موجود تھا، اس لیےاس تقسیم کو فسخ یعنی ختم کر کے دوبارہ شرعی طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔
شرعی تقسیم معلوم کرنے کے لیے ورثاء کی تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"وصحت برضا الشركاء إلا إذا كان فيهم صغير) أو مجنون (لا نائب عنه) أو غائب لا وكيل عنه لعدم لزومها حينئذ إلا بإجازة القاضي أو الغائب أو الصبي إذا بلغ أو وليه، هذا لو ورثة، ولو شركاء بطلت منية المفتي وغيرها."
(كتاب القسمة، ج:6، ص:257، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

