بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاقوں کا حکم

سوال

میرے شوہر نے مجھے جھگڑے کے دوران دو مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں اور کہا کہ تیسری طلاق میں آپ کو بعد میں دوں گا، پھر ایک ڈیڑھ ہفتے بعد کہا کہ اب میں تجھے تینوں طلاقیں دے رہا ہوں، پھر تین مرتبہ کہا: میں تجھے طلاق دیتا ہوں اور کہا: اب جاؤ میرے گھر سے، پھر والدین مجھے اپنے گھر لے آئے، اب میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟   میں اب والدہ کے گھر رہ رہی ہوں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سوال میں آپ نے اپنے شوہر کے جو الفاظ نقل کیے ہیں کہ پہلے انہوں نے دو مرتبہ کہا: میں تجھے طلاق دیتا ہوں، پھر ایک ڈیڑھ ہفتے بعد تین مرتبہ کہا: میں تجھے طلاق دیتا ہوں، تو آپ کے اوپر تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، نکاح ختم ہو چکا ہے، اب ساتھ رہنا جائز نہیں ہے اور دوبارہ نکاح بھی جائز  نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر."

(کتاب الطلاق، باب الرجعة، 187/3، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101142
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں