
اگر میاں بیوی فجر کی نماز کے بعد یا تھوڑی تاخیر سے صحبت کریں تو کیا ایسا کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے؟ اور کیا ایسے وقت صحبت کے بعد اگر وہ سو جائیں یا دوسرے کاموں میں لگ جائیں اور ظہر کے قریب غسل کریں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور ہمیشہ ہی ایسا کیا جائے تو گناہ تو نہیں ہوگا؟
فجر کی نماز کے بعد میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے،باقی ہم بستری کے بعد افضل یہی ہے کہ کچھ فاصلہ دے کہ جلدی غسل کر کے دونوں پاک صاف ہوجائیں، لیکن اگر نماز کے وقت تک غسل کو مؤخر کردیاجائے تو گناہ نہیں ہے،اور اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہوجائے، جائز نہیں ہے،البتہ اگر ہم بستری کے بعد سونا ہو تو بہتر یہ ہے کہ استنجا اوروضو کرکے سوجائیں، اور پھر بیدار ہوکر غسل کرلیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط".
(كتاب الطهارة، الباب الثالث، الفصل الأول، ج1، ص16، ط:رشيدية)
وفیہ أیضاً:
"ومن أصبح جنبا أو احتلم في النهار لم يضره كذا في محيط السرخسي".
(كتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج1، ص200، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804101120
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن