بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1448ھ 01 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے دل ہی میں نماز کی نیت کر لینا کافی ہے۔


سوال

  میرا پہلا مسئلہ یہ ہے کہ باجماعت نماز پڑھتے وقت نیت میں پیچھے اس امام کے کہنا ضروری ہے یا نہیں؟

 دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ رکوع اور سجدے میں جو ہم لوگ تسبیحات پڑھتے ہیں اس کے بارے میں حکم ہے کہ وہ طاق عدد میں پڑھنی چاہیں تو کیا اگر جماعت میں شامل ہونے کے لیے یا کسی وجہ سے ہم لوگ ایک دفعہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

 تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر چار رکعت نماز فرض میں جماعت میں شامل ہوتے وقت اگر پہلی رکعت چھوٹ جائے اور دوسری رکعت کی قعدہ  میں ہم لوگ شامل ہوں تو کیا ہم لوگ قعدہ میں بیٹھ کر تشہد پوری پڑھیں گے یا نہیں؟ اور اگر پڑھیں گے تو پھر اس طرح ترتیب کے حساب سے تو تین دفعہ ہم لوگوں کو تشہد پڑھنا پڑے گاجب کہ چار رکعت نماز میں دو دفعہ تشہد پڑھنا پڑتی ہے تو اس میں،  درست طریقہ کیا ہے؟

جواب

1۔امام کے پیچھے دل میں امام کے متابعت کی نیت کر لینا کافی ہے، زبان سے"پیچھے اس امام کے" کہنا شرعاً ضروری نہیں، البتہ زبان سے بھی کہہ دینا بہتر ہے۔

2۔رکوع اور سجدے میں تین مرتبہ تسبیح پڑھنا سنت ہے، اگر کسی وجہ سے ایک مرتبہ تسبیح پڑھی گئی تو نماز ہو جائے گی۔

3۔اگر کوئی شخص دوسری رکعت کے قعدہ میں  شامل ہو تو اس کے لیے امام کی اقتداء کی وجہ سے قعدہ میں پوری تشہد پڑھنا ضروری ہو گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

(وينوي) المقتدي (المتابعة) لم يقل أيضا لأنه لو نوى الاقتداء بالإمام أو الشروع في صلاة الإمام ولم يعين الصلاة صح في الأصح وإن لم يعلم بها لجعله نفسه تبعا لصلاة الإمام، بخلاف ما لو نوى صلاة الإمام وإن انتظر تكبيره في الأصح لعدم نية الاقتداء إلا في جمعة وجنازة وعيد على المختار."

(کتاب الصلاۃ،‌‌باب شروط الصلاة،ج:1،ص:420،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(الفصل الرابع في النية) النية إرادة الدخول في الصلاة والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي وأدناها ما لو سئل لأمكنه أن يجيب على البديهة وإن لم يقدر على أن يجيب إلا بتأمل لم تجز صلاته ولا عبرة للذكر باللسان، فإن فعله لتجتمع عزيمة قلبه فهو حسن، كذا في الكافي".

(کتاب الصلاۃ،‌‌ ج: 2، ص: 459، ط: دار الفکر)

 فتاوی شامی میں ہے:

"(بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز؛ ولو سلم والمؤتم في أدعية التشهد تابعه لأنه سنة والناس عنه غافلون.

 (قوله: فإنه لا يتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد (قوله: لوجوبه) أي لوجوب التشهد كما في الخانية وغيرها، ومقتضاه سقوط وجوب المتابعة كما سنذكره وإلا لم ينتج المطلوب فافهم (قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح، ونازعه ط والرحمتي، وهو مفاد ما في شرح المنية حيث قال: والحاصل أن متابعة الإمام في الفرائض والواجبات من غير تأخير واجبة فإن عارضها واجب لا ينبغي أن يفوته بل يأتي به ثم يتابعه لأن الإتيان به لا يفوت المتابعة بالكلية وإنما يؤخرها، والمتابعة مع قطعه تفوته بالكلية، فكان تأخير أحد الواجبين مع الإتيان بهما أولى من ترك أحدهما بالكلية، بخلاف ما إذا عارضتها سنة لأن ترك السنة أولى من تأخير الواجب. اهـ.

(کتاب الصلاۃ،‌‌باب شروط الصلاة، ج: 1، ص: 496، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804101094

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں