بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی ملکیت کی نیت سے تعمیر کردہ مکان کی فروخت اور بہنوں کے شرعی حصے کا حکم

سوال

ہمارے والد صاحب نے ایک لاکھ پندرہ ہزار (1,15,000) روپے میں ایک مکان خریدا تھا۔ کچھ عرصہ رہنے کے بعد ہم بھائیوں نے اس مکان کو گرا کر از سرِ نو تین منزلہ تعمیر کیا۔ اب ہم بھائی اس مکان کو بیچ رہے ہیں۔ مکان کی کل قیمت دو کروڑ اسی لاکھ (2,80,00,000) روپے ہے، جبکہ صرف پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ (1,00,00,000) روپے بنتی ہے۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بہنوں کا شرعی حصہ پورے مکان کی رقم میں ہوگا یا صرف پلاٹ کی رقم میں؟

وضاحت:

۱۔ابتدائی طور پر جب مکان خریدا گیا تو والد صاحب خود کچھ کماتے نہیں تھے، ہم بھائی کما کر والد صاحب کو پیسے دیتے تھے اور والد صاحب نے اپنے نام پر مکان خریدا تھا۔

۲۔مکان کو از سرِ نو تعمیر کرتے وقت ہم بھائیوں کی یہ نیت ہرگز نہیں تھی کہ زمین والد صاحب کی رہے گی اور عمارت کے مالک صرف ہم بھائی ہوں گے، اور نہ ہی ہم نے یہ تعمیری اخراجات والد صاحب کو بطورِ قرض دیے تھے، بلکہ یہ مکان والد صاحب ہی کا سمجھا جاتا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب بیٹوں نے مکان تعمیر کرتے وقت یہ نیت نہیں کی تھی کہ زمین والد کی رہے گی اور عمارت کے تنہا مالک وہ خود ہوں گے، اور نہ ہی اس مکان کی تعمیر میں خرچ کردہ رقم سے متعلق والد صاحب سے کوئی  معاملہ ہوا تو ایسی صورت میں شرعاً یہ تعمیر والد صاحب کے حق میں تبرع و احسان شمار ہوگی اور پوری عمارت زمین سمیت والد مرحوم ہی کی ملکیت قرار پائے گی۔ لہٰذا اب پورا مکان (زمین مع تعمیرات) والد صاحب کا ترکہ شمار ہوگا اور اس کی مکمل قیمت میں بہنیں بھی اپنے شرعی حصوں کے مطابق حقدار ہوں گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  میں ہے:

"(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها)... وفيه عن العدة: كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره، ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع، ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر."

( کتاب الغصب، مسائل شتی، ج: 6، ص: 747، ط: سعید)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:

"المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

(کتاب المداینات، ج: 2، ص: 226، ط: دار المعرفة - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101068
تاریخ12-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں