بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیدہ کا نکاح غیر کفو میں کرانے کا حکم


سوال

سید لوگ اپنی لڑکیاں سیدوں کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سید لڑکی کی شادی کسی دوسری قوم میں کردی جائے تو یہ گناہِ کبیرہ اور حرام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سید کے علاوہ دوسرے لوگ ان کے برابر نہیں ہیں۔ لیکن جب لڑکی خود اپنی مرضی سے کسی غیر سید سے شادی کرنے کی بات کرتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا مرتبہ کم ہوجائے گا۔

یہ سوال اس لیے ہے کہ پہلے زمانے میں لڑکیاں ماں باپ کے طے کردہ رشتے خوشی سے قبول کرلیتی تھیں، لیکن آج کل لڑکیاں کہتی ہیں کہ ہم کافر تو نہیں ہیں، ہم خاندان سے باہر شادی کریں گی۔ پھر اگر ماں باپ رشتہ نہ دیں تو وہ خود شادی کرلیتی ہیں، جس سے خون خرابہ ہوتا ہے۔ اگر باپ خود لڑکی کا رشتہ پٹھانوں میں دے تو سید لوگ باپ کو نہیں چھوڑتے۔ آپ بتائیں کہ لڑکی کا گھر سے نکل کر خود شادی کرنا اور پھر خاندان والوں کے ہاتھوں قتل ہونا بہتر ہے یا ماں باپ کا عزت سے رشتہ دے دینا؟ اب کیا کرنا چاہیے؟ براہِ کرم واضح فرمائیں۔ گاؤں میں اس معاملے پر بہت فتنہ کھڑا ہوگیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ لڑکی نے پٹھان سے شادی کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے، اور یہ کہ ان کی اولاد ہوکر کسی  کم مرتبے کے آدمی سے شادی کرلی۔ یہ جنت میں نہیں جائے گی ۔ پھر اسے مار دیتے ہیں۔

کیا کریں؟ سید خاندان میں اچھے لڑکے کا رشتہ نہیں ملتا، اور لڑکیاں بوڑھی ہوجاتی ہیں یا وفات پا جاتی ہیں۔ اگر وہ خود شادی کرلیں تو انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔ بہت مسئلہ ہورہا ہے، کیوں کہ لوگ بے شرم ہوگئے ہیں۔ لڑکیاں کہتی ہیں کہ شادی ہمارا حق ہے۔ ہم بہت کم نسب والوں، مثلاً نائیوں، سے شادی نہیں کریں گی، لیکن پٹھان خان معزز اور عزت دار ہیں؛ انہیں رشتہ دے دیں، ورنہ ہم خود شادی کرلیں گی۔ اور اگر وہ ایسا کریں تو قتل کردیا جاتا ہے۔

کیا واقعی سید لڑکی کسی غیر سید سے شادی نہیں کرسکتی؟ اگرچہ دوسرے خاندانوں کے لوگ ان کے ہم پلہ نہیں سمجھے جاتے، لیکن پٹھان تو معزز، عزت دار اور خاندانی لوگ ہیں۔ کیا سید لڑکی کا رشتہ ان میں نہیں دیا جاسکتا؟

جواب

واضح رہے کہ سید لڑکی کا نکاح غیر سید لڑکے سے کرنا جائز ہے اور اسے حرام اور گناہ سمجھنا غلط ہے ، لہذا  اگر لڑکی کے جوڑ کا دیندار اور باعمل لڑکے کا رشتہ   ہو تو محض خاندان والوں کی باتوں کی وجہ سے ایسے رشتے سے انکار نہیں کرنا چاہیے،اور نکاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا: نماز جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ جب تیار ہوجائے، اور کنواری عورت کا نکاح جب اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے۔ یعنی جوڑ کا لڑکا ملتے ہی نکاح کردینا چاہیے۔ ایک اور حدیث میں لڑکی کے اولیا کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’جب تمہیں ایسا شخص نکاح کا پیغام بھیجے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اس سے نکاح کردو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔‘‘

لہذا اگر لڑکا غیر سید ہے اور رشتے کے لیے موزوں ہے تو سیدہ لڑکی کا اس سے نکاح کرانا جائز ہے، اور  اگر لڑکی نے ازخود  غیر سید سے نکاح کرلیا، اگرچہ ایسا کرنا نہایت معیوب اور ناپسندیدہ بات ہے، تاہم یہ نکاح منعقد ہوجائے گا، اور اگر لڑکا لڑکی کا کفو نہ ہو    تو پھر ولی کو بچے  کی پیدائش سے پہلے پہلے عدالت سے اس نکاح کو فسخ کرانے کا اختیار ہوگا۔نیز اس بنیاد پر اگر لڑکی نے ازخود نکاح کیا ہے، اس کو قتل کرنا کسی صورت  جائز نہیں،یہ حرام ہے اور سنگین جرم ہے۔

لہذا سید گھرانے میں رشتہ دستیاب نہ ہو تو  سید ہ بیٹی کو بٹھانے رکھنا ، اور  غیر سید سے اس کا رشتہ نہ کرنا ظلم ہے، بلکہ ایسا عمل معاشرہ میں بے راہ روی کا پروان چڑھانے  کا باعث ہے، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ بیٹی  کے بالغ ہونے کے بعد  اس کا رشتہ نہ کرنے کی وجہ سے اگر وہ گناہ میں مبتلا ہوجائے، تو اس  کے والد کے سر ہوتا ہے ۔

قرآن مجید میں ہے:

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا (النساء أية:93)

ترجمہ :" اور جو شخص کسی مسلمان کو قصدا قتل کرڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا ہے (ف ٢) اور اس پر الله تعالیٰ غضبناک ہونگے اس کو اپنی رحمت سے دور کردینگے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کریں گے ۔"

سنن ترمذی میں ہے:

" حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا."

(باب ما جاء في تعجيل الجنازة، ج:1، ص:213،ط:دار الغرب الإسلامي)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عمر بن الخطاب وأنس بن مالك رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " في التوراة مكتوب: من بلغت ابنته اثنتي عشرة سنةً ولم يزوّجها فأصابت إثماً فإثم ذلك عليه. رواهما البيهقي في شعب الإيمان."

(كتاب النكاح، باب الولي في النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث، ج:2، ص:239، ط:المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافًا لمالك (نسبًا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض.

(قوله: فقريش إلخ) القرشيان من جمعهما أب هو النضر بن كنانة فمن دونه، ومن لم ينتسب إلا لأب فوقه فهو غير قرشي والنضر هو الجد الثاني عشر للنبي صلى الله عليه وسلم فإنه محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، على هذا اقتصر البخاري والخلفاء الأربعة كلهم من قريش وتمامه في البحر. (قوله: بعضهم أكفاء بعض) أشار به إلى أنه لا تفاضل فيما بينهم من الهاشمي والنوفلي والتيمي والعدوي وغيرهم، ولهذا زوج علي وهو هاشمي أم كلثوم بنت فاطمة لعمر وهو عدوي قهستاني فلو تزوجت هاشمية قرشيا غير هاشمي لم يرد عقدها وإن تزوجت عربيا غير قرشي لهم رده كتزويج العربية أعجميا بحر وقوله لم يرد عقدها ذكر مثله في التبيين، وكثير من شروح الكنز والهداية، وغالب المعتبرات فقوله في الفيض القرشي لا يكون كفؤا للهاشمي كلمة لا فيه من تحريف النساخ، رملي.

(قوله: وبقية العرب أكفاء) العرب صنفان: عرب عاربة: وهم أولاد قحطان ومستعربة: وهم أولاد إسماعيل والعجم أولاد فروخ أخي إسماعيل، وهم الموالي والعتقاء والمراد بهم غير العرب وإن لم يمسهم رق سموا بذلك إما لأن العرب لما افتتحت بلادهم وتركتهم أحرارا بعد أن كان لهؤلاء الاسترقاق، فكأنهم أعتقوهم، أو لأنهم نصروا العرب على قتل الكفار والناصر يسمى مولى، نهر." 

(كتاب النكاح، باب الكفاءة،  ج:3، ص:83 ، ط:سعيد)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال:میری دو خالائیں پٹھان چچا یا تایا کی دختریں ہیں: بڑی خالہ مرحومہ رفیع الدین کی بیگم اور دوسری خالہ مرحومہ نواب عبدالرزاق کی بیگم۔ رفیع الدین کی بڑی لڑکی سید متین سے بیاہی گئیں، ان کی ایک دختر
نفیسہ پروین ہے۔ عبدالرزاق کی دختر ننھیال میں رحمت اللہ خاں سے بیاہی گئیں، ان کا ایک صاحبزادہ عزیز اللہ خاں ہے، کچھ رشتہ دار عزیز اللہ خاں کا رشتہ نفیسہ سے کرنا چاہتے ہیں، اور بعض کی رائے ہے کہ
سید کی بیٹی پٹھانوں میں نہیں دی جاتی ہے کیونکہ سید کا مرتبہ بڑا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب :اگر پٹھان میں اچھی صفات، اعمالِ صالحہ، اخلاقِ فاضلہ موجود ہوں اور سید کی لڑکی اور اس کے ولی پسند کریں تو ایسے پٹھان سے شادی کرنا بھی درست ہے ۔
(کتاب النکاح، باب الکفاءۃ، ج:11، ص:262، ط:ادارہ الفاروق)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144804101049

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں