بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 05 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوتگی کے حوالے سے دو رسموں کا حکم

سوال

میرا سوال علاقہ کے دو رسموں  کے بارے میں ہے: 

1۔ جب فوتگی ہوجائے تو میت کے گھر والے کھانا بناتے ہیں، اس بات کو وہاں کے علماء نے اس لیے جائز کہا ہے کہ پہاڑی علاقہ ہے، اور ہوٹل وغیرہ کا انتظام نہیں ہوتا، اور لوگ جنازہ کے لیے بہت دور سے آتے ہیں، اور پیدل راستہ میں آتے ہوئے اکثر بھوک لگ جاتی ہے، اس لیے میت کے گھر والوں کا سب کے لیے کھانا پکانا جائز ہے، آپ حضرات اس مسئلہ کا حکم مذکورہ وجوہات کے ضمن میں بیان کریں۔ 

2۔ جب فوتگی ہوجائے تو باہر سے جو رشتہ دار خواتین آتی ہیں، تو وہ خالی ہاتھ نہیں آتیں بلکہ انہیں اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ رقم لے کر آنا ضروری ہوتا ہے، اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

1۔ واضح رہے کہ  جس گھر میں فوتگی  ہوجائے ان کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے مستحب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں، اور خود ساتھ بیٹھ کر اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے، اہلِ میت کو یہ کھانا کھلانا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ میت کے گھر میں یا میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا ممنوع ہے، بلکہ اس وجہ سے   ہوتا ہے کہ غم اور تکلیف  اور تجہیز و تکفین کی مشغولیت کی وجہ سے ان کو کھانا پکانے کا موقع نہیں ملے گا، لہٰذا اگر میت کے گھر والے خود اپنے لیے اسی دن کھانا بنائیں تو اس کی بھی اجازت ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر  میت کے اہل خانہ اپنے کھانے کے واسطے کچھ پکالیں یا دیگر رشتہ داروں کی طرف سےان کے کھانے کا انتظام ہو، تو  اس کھانے میں اگر د دور دراز علاقوں سے  میت کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آنے والے افراد شریک ہوجائیں تو  ان کا شریک ہونا درست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، تاہم تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے میت والوں کے ہاں سے باقاعدہ کھانے کا انتظام کرناخلافِ سنت عمل ہے، اس کو ترک کرنا لازم اور ضروری ہے۔ 

2۔ صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ رقم اہل میت کو بطور تعاون دی جاتی ہے تو فی نفسہ یہ عمل جائز ہے، اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، لیکن چونکہ عام طور پر بہت سے علاقوں میں یہ رسم بن چکا ہے، اور اسے ضروری سمجھا جاتا ہے، اور جو ادا نہ کرے اسے عار دلایا جاتا ہے، اور بعض مواقع پر مذکورہ رقم کا باقاعدہ اندراج کیا جاتا ہے، تاکہ اگلی مرتبہ اتنی ہی رقم کی ادائیگی کی جاسکے، تو ایسی صورت میں مذکورہ رقم قرض کے زمرے میں آکر یہ عمل شرعاً ناجائز ہوگا؛ کیوں کہ بلاوجہ قرض لینا ایک الگ گناہ ہے، اور اگر رسم کی پابندی کی وجہ سے مجبوری میں(دلی رضامندی کے بغیر)رقم ادا کردی تو اس کا وصول کرنا بنص قطعی ظلم و زیادتی ہے، لہذا مذکورہ وجوہات کی بناء پر یہ رسم شرعاً ناجائز ہے، اور جو لوگ اس میں شریک ہیں انہیں چاہیے کہ اس فعل پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لیے اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ 

مشكوة المصابيح میں ہے: 

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه." 

(کتاب البیوع، باب الغصب و العاریة، ج: 1، ص: 261، ط: رحمانیة)

ترجمہ: 

"حضرت ابو حرۃ رقاشی رحمہ اللہ نے اپنے چچا سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خبردار کسی پر ظلم نہ کرنااچھی طرح سنو کہ کسی دوسرے شخص کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔" 

(مظاہر حق جدید، ج: 3، ص: 171، ط: مکتبۃ العلم)

فتاوی شامی میں ہے: 

"وباتخاذ طعام لهم.....(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت: وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة، وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة." 

(كتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجنازۃ، ج: 2، ص: 240، ط: ایچ ایم سعید)

وفیہ أيضاً: 

"وفي الفتاوى الخيرية سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله، وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولا ينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطا، قلت: والعرف في بلادنا مشترك نعم في بعض القرى يعدونه فرضا حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى فإذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه." 

(کتاب الھبة، ج: 5، ص: 696، ط: ایچ ایم سعید)

العقود الدریہ میں ہے: 

"كل مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنية أمر أو وجوبه فهو مكروه." 

(مسائل و فوائد شتی من الحظر والإباحة، ج: 2، ص: 574، ط: دار الکتب العلمیة)

کفایت المفتی میں ہے: 

"اہل میت کے گھر ضیافت کھانے کی جو رسم پڑگئی ہے یہ یقیناً واجب الترک ہے صرف اہل میت کے وہ عزیز و اقارب جو دور دور سے آئے ہوں اور ان کی امروز واپسی نہ ہوسکے یا اہل میت کی تسلی کے لیے ان کا قیام ضروری ہووہ میت کے گھر کھانا کھالیں تو خیر باقی تمام تعزیت کرنے والوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہیےنہ میت کے گھر قیام کریں نہ ضیافت کھائیں۔" 

(کتاب الجنائز، الباب الرابع، ج: 4، ص: 123، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101037
تاریخ05-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں