نکاح سے متعلق چند خاندانی رسوم کا حکم
سوال
ہمارے ہاں کچھ رسوم ہیں جن کے بارے میں شرعی راہ نمائی درکار ہے۔
1۔ جب کوئی شخص اپنے بیٹے کا رشتہ کرنا چاہے، تو رشتہ کرنے سے پہلے لڑکے کا والد لڑکی والوں کی طرف ایک گائے یا کوئی بھی جانور بھیجتا ہے، اور اسے ہمارے علاقہ میں ضروری سمجھاجاتا ہے، اور جو نہ کرے اسے عار دلایا جاتا ہے، یہ مہر کی مد میں نہیں ہوتا بلکہ ایک فری چیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے غریب افراد کے لیے اپنی اولاد کی شادیاں کرانا مشکل ہوگیا ہے، تو کیا ایسا کرنا اور پھر اسے ضروری سمجھنا شرعاً جائز ہے؟
2۔ شادی ہوجانے کے کچھ دنوں کے بعد لڑکی اپنے والد کے گھر جاکر کم از کم ایک سال رہتی ہے، پھر اس کے والد بہت سارا سامان تیار کرکے سامان سمیت بیٹی کو اس کے شوہر کے گھر بھیج دیتا ہے، تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟
3۔ نیز ہمارے علاقہ میں مہر اتنا زیادہ نہیں ہوتا، دیگر علاقوں کی بنسبت کم ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں مہر کی ادائیگی کا کوئی خاص رواج نہیں ہے، بلکہ شوہر اپنی بیوی کو کہہ کر معاف کرادیتا ہے، تو کیا اس طرح معاف کروادینے سے مہر شوہر کے ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے؟ اور کیا اس مہر کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہوتی؟ شریعت کی رو سے مکمل راہ نمائی فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے دین کے احکامات کا مدار آسانی پر رکھا ہے، تاکہ ہر قسم کے شعبہ زندگی سے وابستہ افراد اپنی استطاعت کے مطابق دین متین پر مضبوطی سے عمل پیرا رہ سکیں، اسی سلسلہ کی ایک کڑی نکاح کا ایک بابرکت رشتہ ہے، شریعت مطہرہ نے نکاح کو خواہشات کی تسکین کے ساتھ ساتھ اسے ایک اہم عبادت اور قرب خداوندی کا ذریعہ بھی بتلایا ہے، اور آپ ﷺ نے اپنی امت میں اسے عام کرنے کے لیے اپنے مختلف بیانات کے ذریعہ اس کو آسان سے آسان تر کرنے کی ترغیبات دی ہیں، اور اسے ہر قسم کے مشکل بنانے والے قیودات و خرافات سے پاک رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔
1۔ صورت مسئولہ میں اگر واقعتاً سائل کے علاقہ کے عرف کے مطابق لڑکے کے والد اپنے بیٹے کے رشتہ کرانے سے پہلے لڑکی والوں کی طرف کوئی جانور بھیجتا ہے، اوراسے ضروری سمجھاجاتا ہے، اور جو نہ کرے اسے عار دلایا جاتا ہے، تو یہ عمل ایک غیر شرعی رسم ہے، جس کو ختم کرنا ضروری ہے ۔
2۔ واضح رہے کہ شادی ہوجانے کے بعد عورت پر اس کے والدین سے زیادہ اس کے شوہر کا حق ہوتا ہے، اور عورت کا ایک مستقل تعلق اپنے شوہر کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے، اسی لیے شریعت مطہرہ نے بیوی کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی رضامندی کو ملحوظ خاطر رکھے، اور اسی کے صلاح اور رضامندی کے مطابق اپنے والدین کے ہاں جایا کرے، اور اگر بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے والدین سے ملاقات کے لیے جائے تو عورت ناشزہ اور نافرمان شمار ہوگی، اور اس کا نان و نفقہ شوہر پر لازم نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ واپس نہ آئے، نیز شریعت مطہرہ نے شوہر کو یہ ترغیب دی ہے کہ اپنے عرف کی رعایت رکھتے ہوئے اپنی بیوی کو اس کے والدین کے ہاں ملاقات کے لیے اجازت دے دیا کرے۔
لہذا صورت مسئولہ میں ذکرکردہ رسم کہ شادی کے کچھ ایام گزرجانے کے بعد لڑکی اپنے والدین کے ہاں کم از کم ایک سال گزارے اور پھر سامان وغیرہ لے کر آئے، اور شوہر کو بیوی کی حاجت ہونے کے باوجود اس رسم کی پیروی کرتے ہوئے بیوی کو میکے چھوڑنے پر مجبور ہو تو یہ رسم قابل اصلاح ہے، اس رسم سے اجتناب کرنا شرعاً ضروری ہے۔
3۔ مہر عورت کا ایک حق ہے،شوہر کے ذمہ اس کی ادائیگی بنص قطعی لازم اور ضروری ہے،جس طرح دیگرحقوقِ واجبہ کوخوش دلی کے ساتھ اداکرناضروری ہے ، اسی طرح مہرکوبھی خوش دلی کے ساتھ اداکرنالازم ہے، نیز عورتوں کا مہرادا نہ کرنایا جبراً ان سے معاف کروادینا دونوں ہی ظلم اور ناانصافی کے زمرے میں آتے ہیں، کسی دوسرے کے مال کو غصب کرنا شریعت میں بڑاجرم اور گناہ کبیرہ ہے، لیکن اگر عورت اپنا مکمل مہر یا اس کا کچھ حصہ دلی رضامندی و خوشی سے معاف کردیتی ہے، تو وہ مہر شرعاً معاف ہوجاتا ہے، اور اس کی ادائیگی شوہر کے ذمہ سے ساقط ہوجاتی ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
{وَمَا جَعَلَ عَلَيكُم فِي الدِّينِ مِن حَرَج} [الحج: 78]
ترجمہ:
"اور(اس نے) تم پر دین(کے احکام) میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی۔"
(بیان القرآن، ج: 2، ص: 534، ط: رحمانیہ)
وفيه أيضاً:
{وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقتِهِنَّ نِحلَة} [النساء: 5]
ترجمہ:
"اور تم لوگ بیبیوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو۔"
(بیان القرآن، ج: 1، ص: 326، ط: رحمانیہ)
مشکوۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة."
(کتاب النکاح، الفصل الثالث، ج: 2، ص: 276، ط: رحمانیة)
ترجمہ:
"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا:سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس کی مشقت کم ہو۔"
(مظاہر حق جدید، ج: 3، ص: 276، ط: مکتبۃ العلم)
وفیہ أيضاً:
"عن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة فقال: ما هذا؟ قال: إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب قال: بارك الله لك أولم ولو بشاة."
(كتاب النكاح، باب الولیمة، ج: 2، ص: 286، ط: رحمانیة)
ترجمہ:
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف پر زردی کا نشان ان کے جسم یا کپڑے پر دیکھا، یعنی ان کے بدن یا کپڑے کو زعفران لگی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے ایک عورت سے نوات کی مقدار کے برابر سونے پر نکاح کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے، ولیمہ کرو خواہ ایک بکری سے ہو، یعنی کھانا پکاکر لوگوں کو کھلاؤخواہ ایک بکری ہو۔"
(مظاہر حق جدید، ج: 3، ص: 385، ط: مکتبۃ العلم)
فتاوی شامی میں ہے:
"ينبغي أن يأذن لها في زيارتهما في الحين بعد الحين على قدر متعارف، أما في كل جمعة فهو بعيد، فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إذا كانت شابة والزوج من ذوي الهيئات."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 602، ط: سعید)
وفیہ أيضاً:
"(ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة، وفي غيرهما من المحارم في كل سنة) لها الخروج ولهم الدخول زيلعي (ويمنعهم من الكينونة) وفي نسخة: من البيتوتة لكن عبارة منلا مسكين: من القرار (عندها) به يفتى خانية."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 603، ط: سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"ومنها المهر فلا جواز للنكاح بدون المهر عندنا.....المهر شرط جواز نكاح المسلم."
(كتاب النكاح، فصل المهر، ج: 2، ص: 274، ط: ایچ ایم سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"للمرأة أن تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها، كذا في شرح الطحاوي."
(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل العاشر في هبة المهر، ج: 1، ص: 347، ط: دار الکتب العلمیة)
وفیہ أيضاً:
"ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق."
(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج: 1، ص: 359، ط: دار الکتب العلمیة)
شرح المجلہ میں ہے:
"لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المادة: 97، ج: 1، ص: 264، ط: رشیدیة)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

