بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1448ھ 30 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں نے تین دفعہ دے دی تھی،سنی نہیں کیا اس جملہ سے طلاق کا حکم


سوال

ایک مرتبہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان کسی بات پر بحث ہو رہی تھی۔ دورانِ گفتگو میں نے اپنے شوہر سے کہا: "مجھے طلاق کبھی مت دیجیے گا، زندگی میں۔ اس کے جواب میں میرے شوہر نے کہا: "میں نے تین دفعہ دے دی تھی،سنی نہیں کیا؟" یہ بات سن کر میں نے فون بند کر دیا۔ بعد میں میرے شوہر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے طلاق نہیں دی، میں نے صرف ایک بات پوچھی تھی" یعنی ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد طلاق دینا نہیں تھا بلکہ وہ صرف سوال کر رہے تھے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ: 1. شوہر کے مذکورہ الفاظ "میں نے تین دفعہ دے دی تھی، سنی نہیں کیا؟" کہنے سے شرعاً طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ 2. اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو ایک طلاق واقع ہوئی ہے یا تین؟ 3. بعد میں شوہر کا یہ کہنا کہ "میں نے طلاق نہیں دی، صرف ایک بات پوچھی تھی" شرعی حکم پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ 4. اس صورت میں ہمارا نکاح بدستور قائم ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں واضح حکم بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب

صورت مسئولہ میں جب بیوی نے گفتگو کے دوران شوہر سے کہا کہ " مجھے طلاق کبھی مت دیجئے گا، زندگی میں ، اس کے جواب میں شوہر نے کہا  کہ "میں نےتین دفعہ دے دی تھی،سنی نہیں کیا"تو اس جملہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکیں اور وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اور نکاح ختم ہوچکاہے۔اب بیوی  عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

 "(قال): وإن قال لها: طلقتك أمس، وهو كاذب كانت طالقا في القضاء، فأما فيما بينه وبين الله تعالى فهي امرأته؛ لأن الإقرار إخبار محتمل للصدق، والكذب إلا أن دينه وعقله يحمله على الصدق ويمنعه عن الكذب فحملنا كلامه في الظاهر على الصدق، فأما فيما بينه وبين الله تعالى فالمخبر عنه إذا كان كذبا لا يصير بالإخبار عنه صدقا؛ فلهذا لا يقع شيء."

(کتاب الطلاق،باب من الطلاق، ج: 6، ص: 140،ط:  دار المعرفة)

 العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامديةمیں ہے:

 "وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة."

(کتاب الطلاق،ج: 1،ص: 40،ط: دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:
"ولو قال: أنت مني ثلاثا طلقت إن نوى أو كان في مذاكرة الطلاق."
(کتاب الطلاق،مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:3،ص:275،ط: سعید)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804101013

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں