بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سیلاب میں بہہ کر آنے والی بکری اور اس کے بچوں کا حکم


سوال

پچھلی برسات میں جب پانی چڑھا تو ایک بکری بہتی ہوئی ہمارے گھر کے اونچے حصے پر آگئی۔ ہم نے اسے باندھ لیا، آس پاس کے گاؤں میں پوچھتے رہے اور مسجد میں اعلان بھی کروایا، مگر کوئی لینے نہیں آیا۔ اب تقریباً آٹھ مہینے ہوچکے ہیں، اس دوران اس نے دو بچے بھی دیے ہیں اور ہم اس کے چارے پر خرچ کرتے رہے ہیں۔ اب اس بکری اور اس کے بچوں کا کیا کریں؟

جواب

واضح رہے کہ پانی میں بہہ کر آنے والا جانور لقطہ کے حکم میں ہے، اور لقطہ کی تشہیر کے بعد جب مالک کے ملنے کی امید نہ رہے تو اٹھانے والے کے مستحق یا غیر مستحق ہونے سے حکم مختلف ہوجاتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب آس پاس کے دیہاتوں میں دریافت کرنے اور مسجد میں اعلان کے باوجود آٹھ ماہ تک کوئی مالک سامنے نہیں آیا اور اب اس کے آنے کی امید باقی نہیں رہی، تو اگر آپ خود مستحقِ زکوٰۃ ہیں تو یہ بکری اور اس کے دونوں بچے اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں، اور اگر آپ صاحبِ نصاب ہیں تو انہیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتے، بلکہ مالک کی طرف سے کسی مستحقِ زکوٰۃ کو صدقہ کردیں، اور اگر آپ کے والدین، اولاد یا بیوی مستحق ہوں تو انہیں بھی دیے جاسکتے ہیں۔ صدقہ کرنے کے بعد اگر مالک آجائے تو اسے اختیار ہوگا کہ صدقہ کو برقرار رکھے اور اس کا ثواب پائے، یا صدقہ پر راضی نہ ہو کر آپ سے یا جسے صدقہ دیا گیا ہے اس سے ضمان وصول کرے، اور اگر جانور صدقہ لینے والے کے پاس بعینہٖ موجود ہوں تو وہ انہیں واپس لے سکتا ہے۔

ان آٹھ مہینوں میں چارے پر جو خرچ آپ نے قاضی کی اجازت کے بغیر کیا ہے وہ آپ کی طرف سے تبرع شمار ہوگا، اس کا مطالبہ مالک سے نہیں کیا جاسکتا۔

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري:
"وأما إذا لم يجئ يتصدق بها ليصل خلفها إليه وهو الثواب على اعتبار إجازته التصدق بها، وإن شاء أمسكها رجاء الظفر بصاحبها. قوله (فإن جاء صاحبها) يعني بعد التصدق بها فهو بالخيار إن شاء أجاز الصدقة وله ثوابها، وإن شاء ضمن الملتقط فإن ضمنه لم يرجع بها على المسكين؛ لأنه بالتضمين ملكها فظهر أنه تصدق بملك نفسه فله ثوابها، وإن ضمن المتصدق عليه لم يرجع به أيضا على الملتقط."

(کتاب اللقطة، ج:1، ص:356، ط: المطبعة الخيرية)

البناية شرح الهداية:
"فإن أنفق الملتقط عليها بغير إذن الحاكم فهو متبرع لقصور ولايته عن ذمة المالك. وإن أنفق بأمره كان ذلك دينا على صاحبه."

(کتاب اللقطة، الالتقاط في الشاة والبقر والبعير، ج:7، ص:334، ط: دار الكتب العلمية)

الفتاوى الهندية:
"وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين."

"وما أنفق الملتقط على اللقطة بغير إذن الحاكم فهو تبرع، كذا في الكافي. وبإذن القاضي يكون دينا."

(کتاب اللقطة، ج:2، ص:290، ط: دارالفکر)

وفیہ ایضا

"إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء، كذا في الكافي."

(کتاب اللقطة، ج:2، ص:291، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804101009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں