بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دریا برد زمین کے دوبارہ نکل آنے اور اس پر باڑ لگا کر قبضہ کرنے کا حکم


سوال

ہمارا گاؤں ایک بڑے دریا کے کنارے آباد ہے۔ تقریباً پچیس سال پہلے دریا کے کٹاؤ میں ہمارے والد مرحوم کی زرعی زمین کا بڑا حصہ دریا میں چلا گیا تھا، اس زمین کے پرانے کاغذات اب بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ پچھلے تین چار سالوں میں دریا کا رخ بدل گیا ہے اور اسی جگہ ریت اور مٹی جمع ہوکر ایک نئی زمین (چر) ابھر آئی ہے، جس کا کچھ حصہ ٹھیک ہمارے پرانے رقبے کی جگہ پر ہے اور باقی حصہ اس سے آگے دریا کی طرف ہے، جو پہلے کبھی کسی کی ملکیت نہیں رہا۔
ابھی تک سرکاری طور پر اس زمین کی پیمائش یا کسی کو الاٹمنٹ نہیں ہوئی۔ اسی دوران گاؤں کے ایک بااثر شخص نے اپنے آدمیوں کے ذریعے اس نئی زمین کے بڑے حصے پر، جس میں ہمارا پرانا رقبہ بھی شامل ہے، بانس کی باڑ لگا دی ہے اور کچھ حصے میں دھان بھی بو دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دریا سے نکلنے والی زمین کا کوئی مالک نہیں ہوتا، جو پہلے قبضہ کرلے وہی اس کا مالک ہے۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ:
1۔ دریا سے دوبارہ نکلنے والی جو زمین ٹھیک ہمارے پرانے رقبے کی جگہ پر ہے، کیا وہ شرعاً ہماری ملکیت شمار ہوگی؟
2۔جو حصہ پہلے کسی کی ملکیت نہیں تھا، کیا صرف باڑ لگانے اور فصل بونے سے وہ شخص اس کا مالک بن گیا؟ اور کیا حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس زمین کو آباد کرکے اس کا مالک بن سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس زمین کا مالک معلوم و متعین ہو وہ موات (غیر مملوکہ بنجر زمین) کے حکم میں نہیں، کوئی دوسرا شخص اسے آباد کرکے اپنی ملکیت نہیں بنا سکتا۔ جو زمین کسی کی ملکیت نہ ہو اس میں ملکیت اسے آباد کرنے سے حاصل ہوتی ہے، محض نشان لگانے یا گھیر لینے سے حاصل نہیں ہوتی۔

1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں دریا سے دوبارہ نکلنے والی زمین کا جو حصہ ٹھیک آپ کے والد مرحوم کے پرانے رقبے کی جگہ پر ہے، وہ بدستور ان کی ملکیت ہے۔ یہ حصہ ان کے ترکہ میں شامل ہے اور ان کے تمام شرعی ورثاء کا حق ہے۔ گاؤں کے مذکورہ شخص کا اس حصے پر باڑ لگانا اور اس میں کاشت کرنا ناجائز اور غصب ہے۔

2۔ نئی زمین کا جو حصہ پہلے کبھی کسی کی ملکیت نہیں رہا، اگر اس جگہ دریا کے دوبارہ لوٹ آنے کا امکان باقی نہ ہو اور وہ گاؤں والوں کے مویشی چرانے وغیرہ کی مشترکہ جگہ بھی نہ ہو، تو وہ  فقہی اصطلاح میں "موات "ہے۔ ایسی زمین پر محض باڑ لگانے سے کوئی شخص اس کا مالک نہیں بنتا۔ اسے آباد کرنے سے بھی ملکیت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب حکومت کی اجازت سے آباد کیا جائے، چنانچہ حکومت کی اجازت کے بغیر باڑ لگانے اور دھان بونے سے مذکورہ شخص اس زمین کا مالک نہیں بنا۔ اگر اس جگہ دریا کے دوبارہ لوٹ آنے کا امکان ہو، یا وہ گاؤں والوں کی مشترکہ ضرورت کی جگہ ہو، تو کسی کے لیے بھی اس کا احیاء جائز نہیں۔

صحیح بخاری میں ہے:
«من أعمر أرضا ليست لأحد فهو أحق» قال عروة: قضى به عمر رضي الله عنه في خلافته.

(كتاب المزارعة، باب من أحيا أرضا مواتا، رقم: 2335، ط: دار طوق النجاة)

صحیح مسلم میں ہے:
«من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين»

(کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرہا، رقم: 1610، ج:3، ص:1230، ط: دار إحياء التراث العربي)

وفیہ ایضاً:
«ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر»

(کتاب الفرائض، باب ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فلأولى رجل ذكر، رقم: 1615، ج:3، ص:1233، ط: دار إحياء التراث العربي)

درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:
«والموات لغة حيوان مات وهاهنا مستعار والمستعار له (أرض لم تملك في الإسلام أو ملكت) فيه (ولم يعرف مالكها وتعذر زرعها بانقطاع الماء) عنها (أو غلبته) عليها (أو نحوهما) كما إذا نزت أو صارت سبخة (وبعدت من العامر) بحيث لا يسمع صوت من أقصاه (ملكها) أي تلك الأرض (محييها بإذن الإمام) عند أبي حنيفة وعندهما بلا إذنه (ولو) كان محييها (ذميا) و(لا) يملكها (محجرها) التحجير من الحجر بفتح الجيم أو الحجر بسكونها سمي به؛ لأنهم كانوا يعلمونها بوضع الأحجار حولها أو يعلمونها بحجر غيرهم عن إحيائها فتبقى غير مملوكة كما كانت هو الصحيح ثم أنه قد يكون بغير الحجر بأن غرز حولها أغصانا يابسة أو نقى الأرض وأحرق ما فيها من الشوك... (وما عدل عنه الماء) أي موضع ما زال عنه الماء وانكشف الموضع (وامتنع عوده) إليه (فموات...»

(كتاب إحياء الموات، ج:1، ص:306، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:
«حتى إن بحرا قريبا من البلدة جزر ماؤه، أو أجمة عظيمة لم يكن ملكا لأحد يكون أرض موات في ظاهر الرواية... والصحيح جواب ظاهر الرواية، فإن الموات اسم لما لا ينتفع به فإذا لم يكن ملكا لأحد ولا حقا خاصا له لم يكن منتفعا به فكان مواتا بعيدا عن البلدة أو قريبا منها كذا في البدائع.قال القدوري فما كان عاديا أي قدم خرابه لا مالك له أو كان مملوكا في الإسلام لا يعرف له مالك بعينه... فهو موات وقال القاضي فخر الدين وأصح ما قيل فيه أن يقوم الرجل على طرف عمران القرية فينادى بأعلى صوته إلى أي موضع ينتهي إليه صوته يكون من فناء العمران لأن أهل القرية يحتاجون إلى ذلك الموضع لرعي المواشي أو غيره»

(كتاب إحياء الموات، الباب الأول في تفسير الموات، ج:5، ص:386، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضاً:
«وما ترك الفرات أو الدجلة فعدل عنه الماء فإن كان يجوز عوده إليه لم يجز إحياؤه لحاجة العامة إلى كونه نهرا وإن كان لا يجوز أن يعود إليه فهو الموات كذا في السراج الوهاج... إمام أمر رجلا أن يعمر أرضا ميتة على أن ينتفع بها ولا يكون الملك له فأحياها لم يملكها لأن هذا شرط صحيح عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى لأن عنده لا يملك الأرض إلا بإذن الإمام فإذا لم يأذن له الإمام بالتملك لا يملكه كذا في المضمرات... وإذا كان نهر مثل دجلة عليه محتطب ومرعاة فهو لمن أحياه إلا أن يكون فناء قرية فسد فناءهم فيمنع»

(كتاب إحياء الموات، الباب الأول، ج:5، ص:387، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804101006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں