بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1448ھ 08 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منکوحہ عورت کا دوسرا نکاح اور اس سے متعلق نسب وعدت کے احکام

سوال

 ایک عورت کا پہلے سے کسی شخص کے ساتھ نکاح موجود تھا، اس کے باوجود لاعلمی میں یا جان بوجھ کر یا کسی اور وجہ سے اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ عورت پہلے ہی کسی دوسرے شخص کے نکاح میں تھی۔

 اس صورت میں درج ذیل امور کی وضاحت مطلوب ہے:

 1. اگر دوسرے شخص سے کیا گیا نکاح باطل یا فاسد ہو تو کیا اس نکاح کے گواہ بننے والے افراد کے اپنے نکاح پر بھی کوئی اثر پڑے گا ؟

2. اگر اس دوسرے نکاح سے ایک بچی پیدا ہوئی ہو تو اس کا نسب کس شخص سے ثابت ہوگا، اور اس بچی کی حضانت کا زیادہ حق کس کو ہوگا؟

3. اگر دونوں میاں بیوی (دوسرے نکاح والے) علیحدگی اختیار کرلیں تو کیا عورت پر عدت لازم ہوگی؟ اگر دوسرا نکاح باطل تھا اور شرعاً نکاح ہی منعقد نہیں ہوا تو کیا اس صورت میں بھی عدت ہوگی؟

جواب

1-واضح رہے  کہ عورت کا کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری جگہ نکاح کرنا ناجائز اور حرام ہے، ایسی صورت میں میاں بیوی کو فوراً الگ ہو کر اپنے اس ناجائز عمل پر اللہ تعالیٰ کے حضور صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں گواہوں  کو اگر پہلے نکاح کا علم نہیں تھا، تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، اور اگر ان کو علم تھا، اس کے بعد بھی وہ دوسرے نکاح میں گواہ بن گئے، تو اس صورت میں وہ سخت گناہ گار ہوئے ہیں، اس پر انہیں توبہ و استغفار کرنی چاہیے، تاہم اس گواہی سے ان کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اور گواہوں کو علم ہونے کے باوجودجائز سمجھ کر نکاح میں گواہ بنے تو تجدید ایمان اور تجدید نکاح دونوں کرنا لازم ہوگا۔

2- اگر دوسرے شخص نے یہ نکاح لاعلمی میں کیا ہو یعنی اس کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ کسی اور کے نکاح میں ہے تو اس نکاح سے جو بچی پیدا ہوئی ہے، وہ اسی دوسری شخص سے ثابت النسب ہوگی ۔

 اور اگر اس (دوسرے شخص) کو اس بات کا علم تھا کہ یہ کسی اور کے نکاح میں ہے تو یہ نکاح باطل ہے، فریقین فوری علیحدگی اختیار کریں، اور اس صورت میں اس نکاحِ باطل کی بنیاد پر قائم ہونے والے تعلقات سے پیدا ہونے والے بچی کا نسب اس دوسرے شخص سے ثابت نہیں ہوگا، بلکہ عورت پہلے سے جس مرد کے نکاح میں ہے، بچی کا نسب اسی سے ثابت ہوگااور پرورش کا حق بھی والدہ ہی کوحاصل ہوگا۔ 

3- اگر دوسرے شوہر کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کسی اور کی منکوحہ ہے، تو اس صورت میں دونوں (مرد و عورت) کے الگ ہونے کے بعد مذکورہ عورت پر عدت گزارنا واجب ہے، اور اگر شوہر کو علم تھا کہ یہ غیر کی منکوحہ ہے، تو اس صورت میں اس پر کوئی عدت نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص: 280، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو تزوج بمنكوحة الغير وهو لا يعلم أنها ‌منكوحة ‌الغير فوطئها؛ تجب العدة، وإن كان يعلم أنها ‌منكوحة ‌الغير لا تجب حتى لا يحرم على الزوج وطؤها، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج: 1، ص: 280، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

''( وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا ) فلا عدة في باطل وكذا موقوف قبل الإجازة اختيار لكن الصواب ثبوت العدة والنسب بحروفي الرد: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها اه قلت ويشكل عليه أن نكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد كما علمت مع أنه لم يقل أحد من المسلمين بجوازه وتقدم في باب المهر أن الدخول في النكاح الفاسد موجب للعدة وثبوت النسب ومثل له في البحر هناك بالتزوج بلا شهود وتزوج الأختين معا أو الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة اه''

( كتاب الطلاق،باب العدة،ج: 3،ص:516، ط:سعيد)

دوسری جگہ ہے:

 "(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبراً وإلا لا، (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.

(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 566، ط: سعید)

(2)کفایت المفتی میں ہے:

''عدت کا علم ہوتے ہوئے معتدہ سے نکاح حرام ہے

(سوال) اگر کوئی شخص کسی عورت سے جو طلاق کی عدت کے اندر ہے یعنی قبل از اختتامِ عدتِ طلاق دیدہ و دانستہ نکاح پڑھا لے تو کیا یہ نکاح صحیح ہوگا اور اگر نہیں تو کیوں اور پھر اب کیا ہونا چاہیے؟ اور اس درمیان میں جو اولاد ہوچکی ہے اس کا کیا حکم ہے؟

(جواب ۴۳۵) عدت ختم ہونے سے پہلے معتدہ عورت کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ یہ قرآنِ پاک کا صریح حکم ہے۔ وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ (۱) پس جو نکاح عدت کے اندر ہوا وہ جائز نہیں ہوا، اور اگر با وجود اس علم کے کہ عورت معتدہ ہے نکاح کیا گیا تو اس کا وجود و عدم برابر اور اولاد بھی حرامی ہوئی۔ (۲) البتہ اگر شوہر کو عورت کے معتدہ ہونے کا علم نہ ہوا ہو تو اولاد ثابت النسب ہوگی۔ (۳)''

اس کے تحت حاشیہ (2) میں ہے:

(۲) اولاد اس صورت میں حرام ہوئی جب پہلے شوہر سے اس کا نسب ثابت ہونا ممکن نہ ہو۔ اگر ممکن ہو :تو حلال ہوئی۔ ولو تزوجت معتدة بائن فولدت لا قل من سنتين منذبانت ولا من الا قل منذتزوجت فالولد للاول لفساد نکاح الآخر ... عن البدائع انه للثاني معللا ، فان اقدامها على النكاح دليل انقضاء عدتها حتى لو علم بالعدة فانكاح فاسد و ولدها للاول ان امکن اثباته منه بان تولد لا قل من سنتين مذطلق او مات (الدر المختار ، كتاب الطلاق ، فصل في ثبوت النسب ۳ - ۵۵۵ سعید)

(کتاب لنکاح،ج:5،ص:257،ط:دارلاشاعت)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

''(سوال ۷۶۰) ہندہ نے اپنا عقد ثانی بعد گزرنے ایام عدت کے زید سے کر لیا تین ماہ بعد زید لڑائی پر چلا گیا بعدہُ ہندہ نے تین یا چار ماہ بعد عمر سے اپنا عقد کر لیا حالانکہ عمر و نیز سب لوگوں کو اطلاع تھی کہ اس کا شوہر لڑائی پر ہے اب زید لڑائی سے واپس آ گیا یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں اور عمر اور اس کی معین لوگوں کے متعلق شرعاً کیا حکم ہے؟ اور عمر سے جو لڑکا ہوا وہ حلال ہے یا حرام اور صحیح النسب لڑکی سے اس کا نکاح جائز ہے یا نہیں؟

(الجواب) ہندہ کا نکاح عمر سے صحیح نہیں ہوا بلکہ باطل وناجائز ہوا کذا فی کتب الفقہ۔۔۔ لڑکے کا نسب عمر سے ثابت نہ ہوگا''

عدت میں نکاح کرنے سے جو اولاد ہوئی اس کا نسب

(سوال ۷۶۳) ایک شخص نے عدت میں نکاح کیا اور اس سے اولاد ہوئی اس کو یہ معلوم ہو کہ یہ نکاح شرع میں جائز ہے تو یہ نکاح ہوا یا نہیں اور اولاد کا نسب ثابت ہو گیا یا نہیں اور اس کی وارث ہوگی یا نہیں؟

(جواب) زمانہ عدت میں نکاح باطل ہے لیکن نسب ثابت ہے اور اولاد وارث ہوگی{(۲)} فقط''

(کتاب النکاح،ج:7،ص:337،336،ط:دارالاشاعت)

وفیه أیضاً:

''منکوحہ غیر مطلقہ کا دوسرے مرد سے نکاح اور اس کی اولاد

(سوال ۱۱۴۷) ایک عورت جس کا خاوند زندہ ہے نکل کر دوسری جگہ نکاح کر کے بیٹھ گئی ہے اور خاوند اول نے اس کو طلاق نہیں دی ہے۔ وہ اولاد جو خاوند ثانی سے ہوئی ہے حلال ہے یا حرام؟ اور اس اولاد کا دیگر نسلوں سے رشتہ کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

(الجواب) غیر مطلقہ عورت کا نکاح ثانی ناجائز اور باطل ہے، اولاد جو شوہر ثانی سے ہے وہ شوہر اول کی طرف شرعاً منسوب ہوگی، لقوله عليه السلام الولد للفراش وللعاهر الحجرـ (۱) اور جب کہ اس اولاد کا نسب شوہر اول سے ثابت ہے تو رشتہ کرنا اس سے جائز ہے۔ فقط وهذا إذا لم يعلم بأن لها زوجاً غيره فكيف إذا ظهر زوج غيره فلا شك في عدم ثبوته من الثاني شامي باب ثبوت النسبـ (۲) وكذا لا عدة لو تزوج امرأة الغير عالماً بذلك (۳) الخ عن العدة.''

(باب ثبوت النسب،ج:11،ص:17،ط:دارالاشاعت)

وفیه أیضاً:

''نکاح کا علم نہ ہونے کی وجہ سے منکوحہ غیر سے نکاح کیا تو اولاد صحیح النسب ہوگی

۔۔۔۔پس ہندہ جب کہ منکوحہ زید تھی تو بکر کے ساتھ نکاح اس کا باطل ہے اور نسب اولاد شوہر ثانی کا شوہر ثانی سے ثابت نہیں ہےلا نه زنا ولا نسب في الزنا لقوله عليه الصلوة والسلام الولد للفراش وللعاهر الحجر۔  جب ہے کہ بکر کو علم ہو کہ ہندہ منکوحہ زید کی ہے ،اور اگر اس کو یہ علم نہ ہوا اور اس نے بر بناء عدمِ ثبوتِ نکاحِ زید خود نکاح کیا اور بعد میں نکاحِ زید کا ثبوت ہو گیا تو اس کے لئے یہ حکم ہے کہ عورت شوہرِ اول کو ملے گی یعنی زید کو اور اولاد بکر کی ہے۔''

(باب ثبوت النسب،ج:11،ص:47،ط:دارلاشاعت)

امداد الفتاوی میں ہے:

''ازیں روایت معلوم شد کہ ایں نکاح باطل است کہ در عدت واقع شد بعد عدت اگر زوجین خواہند تجدید نکاح توانند کرد۔ نیز واضح گشت کہ وجوب عدت در صورت مسئولہ عنہا مختلف فیہ است واحوط وجوب ست و نیز ہویدا گشت کہ ہر دو عدت متداخل باشند لیکن عدت وفات حق متوفیٰ است اتمامش بہر حال واجب ست و عدت ثانیہ مسبب از وطی ثانی ست پس اگر آں زن بغیر وطی ثانی نکاح جدید کند اتمام ایں ثانی ہم واجب نہ خواهد بود اگرچہ بتداخل تمام کردہ شود و اگر بایں وطی نکاح جدید کند اتمام واجب نباشد۔''

(کتاب لطلاق ،ج:2،ص:497،ط:دارالعلوم کراچی)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

’’اگر شوہرِ ثانی کو نکاح کرتے وقت یہ علم تھا کہ یہ عورت دوسرے کے نکاح میں ہے، اور اس نے طلاق نہیں دی تو یہ نکاح بالکل باطل ہوا، اب اس کے لیے عدت بھی ضروری نہیں، بلکہ جس طرح بھی ممکن ہو عورت اس سے علیحدہ ہو کر دوسری جگہ نکاح کرے۔

اگر اس کو علم نہ تھا اس سے علیحدگی کرے‘‘۔

(کتاب النکاح، باب النکاح الفاسد، نکاح منکوحۃ الغیر، ج:11، ص:95، ط:ادارۃالفاروق)

خیر الفتای میں ہے:

''منکوحہ غیر ہونے کا علم ہونے کے باوجود نکاح کیا تو نکاح باطل ہے

نور محمد نے چونکہ اس کے منکوحہ ہونے کے علم کے باوجود اس سے نکاح کیا ہے۔ لہٰذا اس میں کوئی عدت وغیرہ بھی نہیں ہے ۔''

(نکاح،ج:4،ص:327،ط:مکتبہ امدادیہ)

فتاوی مفتی محمود میں ہے:

''اگر اس شخص نے دوسرے کی معتدہ عورت سے دیدہ و دانستہ با وجود علم کے نکاح کر لیا ہے تو یہ نکاح صحیح نہیں ہوا۔ دوسرے خاوند نے اگر جماع کیا ہے تو احتیاطاً عورت پر عدتِ اولیٰ کے ساتھ دوسرے خاوند کی عدت بھی ہوگی۔ مگر دونوں عدتوں میں تداخل ہوگا۔ عدتِ اولیٰ کے گزرنے کے بعد اگر عورت اسی خاوند کے ساتھ نکاح کرنا چاہے جس سے اب نکاح ہوا ہے تو عدتِ ثانیہ گزرنے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے گی تو دونوں عدتوں کا گزرنا لازمی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم''

(کتاب النکاح،ج:4،ص:258،ط:جمیعت پبلیکیشنز)

دوسری جگہ ہے:

 ''اگر زید کو یہ معلوم تھا کہ ابھی تک عدت پوری نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود اس نے ہندہ سے نکاح کر لیا تو یہ نکاح باطل ہے اور نکاحِ باطل کالعدم ہوتا ہے۔ اس میں نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی دوسرے احکامِ نکاح کے ثابت ہوتے ہیں۔ شامی ص ۱۳۲ ج ۳ میں ہے۔

اما نکاح منكوحة الغير و معتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة ان علم انها للغير لانه لم يقل احد بجوازہ ۔ اس لیے مسماۃ ہندہ اس وقت آزاد ہے جہاں چاہے زید سے طلاق لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ 

البتہ اگر زید کو بوقتِ نکاح اس کے معتدہ ہونے کا علم نہیں تھا تو پھر یہ نکاح فاسد ہے۔ جس میں عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے اس خاوند سے طلاق لینے کی ضرورت ہوگی یا مسلمان حاکم سے تفریق حاصل کرے۔ فقط واللہ اعلم''

(کتاب الطلاق،ج:7،ص:414،ط:جمیعت پبلیکیشنز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804101001
تاریخ08-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں