مذاکرہ طلاق کے وقت (طلاق، طلاق، طلاق) کہنے کا حکم
سوال
میرے بیٹے نے مجھ سے کہا کیا آپ نے والدہ کو طلاق دی ہے؟ میں نے کہا پہلے تو نہیں دی اب دے رہا ہوں ”طلاق، طلاق، طلاق“ میں نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائیں۔
کیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہو چکی ہے؟ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہیں ، اس کا کیا حکم ہے؟ میاں بیوی ایک گھر میں رہ رہے ہیں، اور بیوی عدت میں ہے۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب بیٹے کے جواب میں یہ الفاظ ”پہلے تو نہیں دی اب دے رہا ہوں: طلاق، طلاق، طلاق“ کہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہوگئی ہیں،نکاح ختم ہوچکا ہے اور بیوی سائل پر حرمتِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔ اب سائل کے لیے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں۔ نیز سائل اکٹھی تینوں طلاقیں دینے کی وجہ سے گناہ گار ہوا، سائل پر توبہ و استغفار لازم ہے۔
مطلقہ اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
البتہ اگر مطلقہ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سےکسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، نکاح کے بعد اس دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے، اس کے بعد وہ دوسرا شوہر خود اسے طلاق دے دے یا عورت اسے طلاق لے لے، یا اس کا انتقال ہوجائے، تو اس کی عدت گزار کر شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کرکے سائل کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے:
"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "(البقرة: (229.230
” وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ... پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔“ ) ترجمہ از بیان القرآن)
حدیث مبارک میں ہے:
"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."
(صحيح البخاری، كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، ج: 2، ص: 300، ط: رحمانية)
ترجمہ: ” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔“
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز."
(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به الطلقة، ج: 1، ص: 473، ط: رشیدیة)
رد المحتار میں ہے:
"ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ."
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: سعید)
وفیہ ایضًا:
"(والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، أو) واحدة في (حيض موطوءة).
(قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى."
(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 232، ط: سعید)
امداد الفتاویٰ میں ہے:
”سوال:میں نے حالتِ غصہ میں یہ کلمے کہے ہیں، (طلاق دیتا ہوں، طلاق، طلاق) اور میں نے کوئی کلمہ فقرہ بالا سے زیادہ نہیں کہا، اور نہ میں نے اپنی منکوحہ کا نام لیا، اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا، اور نہ وہ اس جگہ موجود تھی، اور نہ اس کی کوئی خطا ہے، یہ کلمہ صرف بوجہ تکرار کے نکلے، جس وقت میرا غصہ فرو ہوا تو وہ اپنی زوجہ کو لے آیا، ان دو اشخاص میں ایک میرے ماموں اور ایک غیر شخص ہے، اور مستوراتیں ہیں۔
جواب: چونکہ دل میں اپنی ہی منکوحہ کو طلاق دینے کا قصد تھا، لہذا تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں۔“
(کتاب الطلاق، جلد:2، صفحہ:427، طبع: مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

