” مرحا سکینہ“ کا کیا مطلب ہے اور نام رکھنا کیسا ہے؟
سوال
” مرحا سکینہ“ کا کیا مطلب ہے اور نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ”مرحا سکینہ “ کا تلفظ اور معنی متعین ہونے کی صورت میں حکم بیان کیا جائے گا؛کیونکہ حرکات کے اختلاف سے ان الفاظ کے معانی مختلف ہوجاتے ہیں۔اگر ” مَرَحا “ ( میم اور راء کے زبر کےساتھ )ہو تو اس کے معنیٰ:” اکڑنا، اترانااور تکبر کرنا “ کے آتے ہیں ۔ اوراگر ”مرحیٰ “ ( میم کےزبر اور راء ساکن کے ساتھ ) ہو تو اس کے معنی یہ ہے: ” اِترانے والا“ یا ” ہلکا“ کے آتے ہیں، جبکہ اس کے بعض معنی: ” تیر کے نشانے پر لگنے کی صورت میں شاباش دینا، خوشی سے جھومنا“ بھی بیان کیے گئے ہیں ۔ اسی طرح ” سُکَینَہ“ ( سین پر پیش، کاف پر زبر اور یاء ساکن کے ساتھ ) کے معنی: ” شوخ اور خوش مزاج لڑکی کے ہیں۔جبکہ ”سَکینہ“ (سین پر زبر، کاف پر زیر اور یاء ساکن کے ساتھ) کے معنی: ” سکون، اطمینان اور وقار کے ہیں۔
مذکورہ معانی کے لحاظ سے” مَرَحا سُکینہ/ سَکینہ یا مَرحیٰ سُکینہ / سَکینہ “ لڑکی کا نام رکھنادرست نہیں ہے ،البتہ صرف ” سُکینہ یا سَکینہ “ نام رکھنا جائز ہے۔ تاہم نام رکھنے کے لیے ایسے نام کا انتخاب بہتر ہے جس کا معنیٰ واضح طور پر اچھا اور پسندیدہ ہو۔ بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا نام حضرات اُمہات المؤمنین اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں پر رکھا جائے ، یہ باعث خیر وبرکت بھی ہے ۔
چند اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
فاطمہ، نائلہ، آمنہ،ماریہ،اُمامہ، خَدِیجہ، مَیمُونہ، صَفِیّہ،رَملہ، حَفصہ،سَودَہ، حَمنہ، رُقَیّہ، کُلُثُوم، جُوَیرِیہ، بَرِیرَہ، رَیحانہ، مَریم، سُعاد، نَفِیسَہ۔
نیز اس سلسلے میں ہماری ویب سائٹ پر اسلامی نام کے سیکشن سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔
تاج العروس من جواهر القاموس میں ہے:
" ( مَرِحَ، كفَرِحَ: أَشِرَ وبَطِرَ ) ، والثلاثةُ أَلفاظٌ مترادفةٌ، وَمِنْه قَوْله تَعَالَى: { بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى الاْرْضِ بِغَيْرِ الْحَقّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ } ( غَافِر: 75 ) وَفِي المفردَاتِ: المَرَحَ: شِدَّةُ الفَرَحِ والتَّوسُّع فِيهِ.( و ) مَرِحَ: ( اخْتَالَ ) ، وَمِنْه قَوْله تَعَالَى: { وَلَا تَمْشِ فِى الاْرْضِ مَرَحًا } ( الإِسراء: 37 ) أَي متبختِراً مُخْتَالاً.( و ) مَرِحَ مَرَحاً: ( نَشِطَ ) . فِي ( الصِّحَاح ) و ( الْمِصْبَاح): المَرَحُ: شِدَّة الفَرَحِ، والنَّشاط حتّى يُجاوِزَ قَدْرَه، ( و ) مَرِحَ مَرَحاً، إِذَا خَفَّ، قَالَه ابْن الأَثير. وأَمْرَحَه غيرُه. ( وَالِاسْم ) مرَاحٌ، ( ككِتَاب، وَهُوَ مَرِحٌ ) ، ككَتِف ( ومِرِّيحٌ، كسكِّين، مِنْ ) قَوْم ( مَرْحَى ومَرَاحَى ) ، كِلَاهُمَا جمْع مَرِحٍ ...
( ومَرْحَى ) مَرّ ذِكرُه ( فِي برح ) قَالَ أَبو عمرِو بنُ العلاءِ: إِذا رَمَى الرّجلُ فأَصابَ قيل: مَرْحَى لَه، وَهُوَ تَعجبٌ من جَودةِ رَمْيِه. وَقَالَ أُميّة بن أَبي عَائِذ:
يُصِيب القَنيصَ وصِدْقاً يَقُ ول مَرْحَى وأَيْحَى إِذا مَا يُوالِي
وإِذا أَخطأَ قيل لَهُ: بَرْحَى. ( و ) مَرْحَى: ( اسمُ ناقةِ عَبْدِ الله بن الزَّبِيرِ ) ، كأَمِيرٍ، ( الشَّاعِر ) ، عَن ابْن الأَعرابيّ وأَنشد:
مَا بالُ مَرْحَى قَد امْسَتْ وَهِي ساكنةٌ باتَتْ تَشَكَّى إِليَّ الأَينَ والنَّجَدَا."
( فصل الميم مع الحاء المهملة، مرح، ج: 7، ص: 113، ط: ودار إحياء التراث )
فیروز اللغات (ص: 489) میں ہے:
” سَکِینَت (سَکِینَہ): آرام، سکون۔ “
القاموس الوحیدمیں ہے:
”۔۔۔ السُّکَیْنَة: پھرتیلی اور شوخ و خوش مزاج لڑکی۔“
(القاموس الوحید، ص: 786، ط: ادارہ اسلامیات)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

