والدین سے ملاقات کی مدت
سوال
اولاد کو والدین سے ملنے کتنے دن میں آنا چاہیے؟ کتنے وقت کے بعد ؟اگر اولاد بالغ ہو شادی شدہ ہو کر الگ رہتے ہیں تو کتنےوقت بعد ملاقات کے لیے آنا چاہیے اور والدہ بیمار 10، 12 دن تک ہسپتال میں ایڈمٹ رہے اور کوئی بیٹا ان کی عیادت کے لیے نہیں گیاجب کہ سب بچے عالم حافظ ہیں اور سال بھی لگائے ہوئے ہیں شادی شدہ لڑکی کے لیے اپنے والدین کے گھر کتنے دن میں جانا چاہیے شرعا کیا حکم ہے؟
جواب
شادی کے بعد اگر بیٹا اپنی بیوی بچوں کے ساتھ الگ مکان میں رہتا ہو تو محض الگ رہائش اختیار کرنے کی وجہ سے والدین کے حقوق ختم نہیں ہوجاتے، والدین کے حقوق تاحیات قائم رہتے ہیں، اور ان کی تعظیم و خدمت شرعاً بدستور واجب ہے، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، صلۂ رحمی، ملاقات اور بقدرِ ضرورت خدمت بدستور اولاد کی ذمہ داری رہتی ہے،البتہ شریعت نے شادی شدہ بیٹے کے لیے کوئی مدت کو مقرر نہیں کیا کہ وہ اتنے دنوں میں والدین سے ملاقات کرے۔ اس معاملے میں اصل اعتبار والدین کی ضرورت، ان کی عمر و صحت، قرب و بُعدِ مکان کا ہے،اگر والدین بوڑھے، بیمار، کمزور یا کسی خدمت کے محتاج ہوں اور کوئی متبادل نہ ہو اور ان کی ضرورت ایسی ہو کہ انہیں بیٹے کی روزانہ حاضری یا خدمت درکار ہو تو بیٹے کے لیے روزانہ جانا بھی ضروری ہوسکتا ہے۔ اور اگر ہفتے میں چند مرتبہ جانے سے ضرورت پوری ہوجاتی ہو تو اتنی ہی حاضری کافی ہوگی،باقی شادی شدہ بیٹی کے لیے صراحت ملتی ہے کہ ہفتہ میں ایک بار اپنے والدین سے ملنے کا حق رکھتی ہے اور اسی طرح سال میں ایک بار اپنے دیگر محارم رشتہ داروں سے ملنے کا بھی حق رکھتی ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر والدین قریب ہیں تو ہفتہ میں ایک بار ملاقات کرنی چاہیے ،نیز والدین کی بیماری کی صورت میں ان کی تیمار داری اور عیادت بھی اولاد کی ذمہ داری ہے ،اس میں بلاعذر کوتاہی کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔والدین کی حق تلفی دنیا وآخرت میں خسارے کا باعث ہے۔
مسلم شریف میں ہے:
"حدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا أبو عوانة عن سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال "رغم أنف، ثم رغم أنف، ثم رغم أنف" قيل: من؟ يا رسول الله! قال "من أدرك أبويه عند الكبر، أحدهما أو كليهما فلم يدخل الجنة".
(کتاب البر والصلة،ج :4،ص :1978،رقم الحدیث :2551،ط :دارإحیاءالتراث العربی)
ترجمہ: اس کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور پھر بھی ان کی خدمت کر کے جنت نہ کما سکا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"الصحيح المفتى به من أنها تخرج للوالدين في كل جمعة بإذنه وبدونه، وللمحارم في كل سنة مرة بإذنه."
(باب النفقة،مطلب في الكلام على المؤنسة،٦٠٣/٣، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

