بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میں بالکل بیوی نہیں کرتا، میں بالکل شادی نہیں کرتا کہنے طلاق واقع ہوئی ؟ یا نہیں

سوال

ایک شخص نے نکاح کیا ہے، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی اور میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں ہوا۔ اس کی بیوی اپنے والد کے گھر ہے۔ اس شخص نے یہ الفاظ کہے" زه بیخي ښځه نه کوم، زه بیخي واده نه کوم ’’یعنی  میں بالکل بیوی نہیں کرتا، میں بالکل شادی نہیں کرتا۔‘‘ یہ الفاظ کہتے وقت اس کی طلاق کی نیت تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟اگر واقع ہوئی تو کتنی طلاق ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں،  مذکورہ شخص کی جانب سے مذکورہ الفاظ کہ  ’’ زه بیخي ښځه نه کوم، زه بیخي واده نه کوم یعنی میں بالکل بیوی نہیں کرتا، میں بالکل شادی نہیں کرتا ،کہنے سے  کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے،  کیونکہ مذکورہ الفاظ نہ طلاقِ صریح میں سے ہیں اور نہ کنایہ میں سے ہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"فالألفاظ التي يقع بها الطلاق في الشرع نوعان: صريح وكناية أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، سمي هذا النوع  صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح  فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها."

(كتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية، ج: 3، ص: 101، ط: دار الكتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن قال لم أتزوجك ونوى الطلاق لا يقع الطلاق بالإجماع كذا في البدائع. ولو قال ما لي امرأة لا يقع وإن نوى وكذا لو قال علي حجة إن كانت لي امرأة وهذا بالإجماع ذكره الإمام السرخسي في نسخته والشيخ الإمام نجم الدين في شرح الشافي كذا في الخلاصة.

 قد اتفقوا جميعا أنه لو قال والله ما أنت لي بامرأة أو لست والله لي بامرأة فإنه لا يقع شيء وإن نوى ولو قال لا حاجة لي فيك ينوي الطلاق فليس بطلاق."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج:1، ص:375، ط:رشيديه)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

جواب :بکر کا محض یہ کہنا کہ میں زید کی لڑکی سے شادی نہ کرونگا اور کئی کئی بار انکار کیا یہ آباد کرنے کی نفی ہے یہ الفاظ طلاق کے نہیں ہیں لہٰذا اگر بکر نے کوئی دیگر الفاظ طلاق کے نہ کہے ہوں محض ان الفاظ کے کہنے سے اس کی بیوی مطلقہ نہیں بنتی۔ بدستور اس کی بیوی ہی ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

( کتاب الطلاق، ج:6،  ص: 414 ، ط: ادارہ الفاروق )

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100924
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں