فرض حج میں تاخیر کا حکم اور شیر خوار بچے کی پرورش و دیکھ بھال کی وجہ سے تاخیر کی شرعی گنجائش
سوال
ایک عورت پر چند سال سے حج فرض ہے، لیکن ابھی تک وہ حج ادا نہیں کر سکی۔ اب اس کے سسر اس کے شوہر کے ساتھ اس کے حج پر جانے کا انتظام کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس عورت کی ایک شیر خوار بیٹی ہے، حج پر روانگی کے وقت بچی کی عمر تقریباً چھ ماہ ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچی کا دودھ چھڑوا کر اس سال حج پر چلی جائے، یا وہ بچی کو تقریباً ڈیڑھ سال تک اپنا دودھ پلانے کے بعد اگلے سال حج کی تیاری کرے؟
جواب
جس شخص پر حج فرض ہو جائے اس پر لازم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو حج ادا کر لے، حدیث شریف میں آتا هےجس كا مفهوم يه هے کہ (فرض) حج کی ادائیگی میں جلدی کرو ،اس لیے کہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیا معاملہ (مرض یا کوئی ضرورت وغیرہ) پیش آجائے ۔حج فرض ہونے کے بعد وقت ملنے پر بھی بلا عذرِ شرعی تاخیرنہیں کرنی چاہیے،تاہم اگر زندگی میں ادا کر لیا تو ادا ہو جائے گا اور تاخیر کا گناہ بھی نہ رہے گا، اور اگر زندگی میں ادا نہ کر سکا تو گناہ گار ہو گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بچے کے دودھ اور دیکھ بھال کا متبادل انتظام موجود ہو ، اور بچے کو گھر چھوڑنے میں اس کی جان یا صحت کا کوئی معقول اور حقیقی خطرہ نہ ہو، تو صرف عارضی تکالیف،اور چند دن کی جدائی کے صدمے کی بنا پر فرض حج میں تاخیرنہیں کرنی چاہیے ،ایسی صورت میں عورت کے لیے فرض حج کو مؤخر کرنا درست نہیں ہوگا،اور اگر بچہ محض اپنی ماں ہی کے دودھ پر انحصار کرتا ہو، اور اس کے لیے دودھ پلانے والی کسی اورعورت کا انتظام ممکن نہ ہو، اور ماں کے سفر پر جانے یا بچے کو ساتھ لے جانے میں بچے کی ہلاکت، شدید بیماری یا ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو فقہاء کرام کے نزدیک یہ "حاجتِ ظاہرۃ" (شدید مجبوری و عذرِ شرعی) کے زمرے میں آتا ہے،اور اس عذر کی بنا پر حج کو مؤخر کرنے کی گنجائش ہوگی ،تاخیرکی وجہ سے گناہ نہیں ہوگا۔جب بچہ دودھ چھوڑ دے یا متبادل غذا پر قادر ہو جائے تو سائلہ اگلے ممکنہ سال حج ادا کرلے۔
مسند احمد میں ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تعجلوا إلى الحج - يعني الفريضة -، فإن أحدكم لا يدري ما يعرض له."
(مسند الخلفاء الراشدین،ج:5،ص:58،رقم الحدیث:2867،ط:مؤسسة الرسالة)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"وعنه (أي عن ابن عباس رضي الله عنهما) قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أراد الحج فليعجل.
والأصح عندنا أن الحج واجب على الفور."
(كتاب المناسك،ج5،ص:1749،رقم الحديث:2523،ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(على الفور) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا لأن تأخيره صغيرة وبارتكابه مرة لا يفسق إلا بالإصرار بحر ووجهه أن الفورية ظنية لأن دليل الاحتياط ظني، ولذا أجمعوا أنه لو تراخى كان أداء وإن أثم بموته قبله وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر كما قيده في الظهيرية.
(قوله على الفور) هو الإتيان به في أول أوقات الإمكان ويقابله قول محمد إنه على التراخي وليس معناه تعين التأخير بل بمعنى عدم لزوم الفور.....(قوله: كان أداء) أي ويسقط عنه الإثم اتفاقا كما في البحر قيل: المراد إثم تفويت الحج لا إثم التأخير. قلت: لا يخفى ما فيه بل الظاهر أن الصواب إثم التأخير إذ بعد الأداء لا تفويت وفي الفتح: ويأثم بالتأخير عن أول سني الإمكان فلو حج بعده ارتفع الإثم اهـ وفي القهستاني: فيأثم عند الشيخين بالتأخير إلى غيره بلا عذر إلا إذا أدى ولو في آخر عمره فإنه رافع للإثم بلا خلاف. "
(کتاب الحج، ج: 2، ص: 456 /457، ط: سعید)
غنیۃ الناسک میں ہے:
"وفي الكبير عن التتمة : من عليه الحج ومرضت زوجته لا يكون عذرا في التخلف عن الحج، ومرض الوالد والوالدة يكون عذرًا إذا احتاجا إليه، والولد الصغير المحتاج إليه عذر في التخلف مريضا كان أو لم يكن."
(مقدمة في تعريف الحج وما يتعلق بفرضيته،تتمة في التخلف عن الحج بعذر،ص:23،ط: المصباح)
اعلاء السنن میں ہے:
"عن أبي أمامة رضي الله عنه مرفوعا: "من لم يحبسه مرض، أو حاجة ظاهرة، أو مشقة ظاهرة، أو سلطان جائر، فلم يحج فليمت إن شاء يهوديا، وإن شاء نصرانيا ". أخرجه سعيد بن منصور في سننه وأحمد وأبو يعلى والبيهقى وله طرق عديدة ذكرها الشوكاني في النيل ثم قال: إن مجموع تلك الطرق لا يقصر عن كون الحديث حسنا لغيره وهو محتج به عند الجمهور اهـ .
قوله : " عن أبي أمامة" إلخ : قلت فيه دلالة على أن التأخير في الحج لأجل المرض ـ والمراد به ما يمنع عن السفر والذهاب إلى بيت الله ـ أو لأجل الحاجة الظاهرة - كحضانة الولد الصغير المحتاج إليه ـ أو تعهد الوالد أو الوالدة المريضين المحتاجين إلى خدمته . أو لأجل المشقة الظاهرة - كما إذا كان معضوبا أى شيخا كبيرا لا يثبت على الراحلة بنفسه أو لأجل الحبس والخوف من السلطان، أو قطاع الطريق، حتى غلب الخوف على القلوب لوقوع النهب والغلبة من المحاربين مرارا، لا يوجب الوعيد. ويجوز لمن ابتلى بمثل هذه الأعذار أن يؤخر الحج إلى زوال العذر."
(کتاب الحج، باب اشتراط الصحة وعدم الحبس والخوف من السلطان......إلخ، ج:10،ص:9،ط: ادارة القرآن والعلوم الإسلامية)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

