بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1448ھ 07 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی کے عوض بیٹے کو میراث سے محروم کرنے کا حکم

سوال

میرے دادا کی حیات میں میرے چچا نے بہت سارے قرضے لیے تھے اور غائب ہو گئے تھے، تو میرے دادا نے ان کے قرضے ادا کرتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا کہ اس کو جو کچھ میراث میں ملنا تھا وہ ہو گیا (یعنی میراث میں ان کو حصہ نہیں ملے گا) ۔ اب دادا کا انتقال ہوگیا ہے، سوال یہ ہے کہ ان چچا کا دادا کی میراث (یعنی ترکہ کی زمینوں) میں حصہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میراث کا حق انسان کی موت کے بعد اس کے ورثاء کے لیے ثابت ہوتا ہے اور یہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے، اس لیے کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے کسی وارث کو اپنی میراث سے محروم کردے، یعنی اگر کوئی یوں کہے کہ میرے فلاں وارث کو میرے ترکہ میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا تو شرعا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ایسا کہنے کے باوجود اس کا وہ وارث اس کے انتقال کے وقت زندہ ہونے کی صورت میں اس کی میراث سے محروم نہیں ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں  اگر آپ کے دادا نے اپنے ایک بیٹے کے قرضے اپنی طرف سے ادا کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ "اس کو جو کچھ میراث میں ملنا تھا وہ ہو گیا (یعنی میراث میں اس کو حصہ نہیں ملے گا)" تو محض اس قول کی وجہ سے بیٹے کا حقِ میراث ساقط نہیں ہوگا، کیونکہ مورث کی زندگی میں وارث کا حقِ میراث ثابت ہی نہیں ہوتا، بلکہ مورث کے انتقال کے بعد شرعی وراثت ثابت ہوتی ہے، لہٰذا مورث اپنی زندگی میں کسی وارث کو آئندہ ملنے والے میراث کے حق سے محض زبانی طور پر محروم نہیں کرسکتا ہے۔

آپ کے دادا کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ اپنے اس بیٹے کا قرضہ ادا نہ کرتے، یا اس بیٹے سے یہ معاہدہ کر کے قرضہ ادا کرتے کہ میں اس شرط پر آپ کا قرضہ ادا کروں گا کہ آپ میرے انتقال کے بعد میراث کے حق سے دست بردار ہونے کا معاہدہ کرلیں،  اگر بیٹا یہ معاہدہ کرلیتا تو دادا کے انتقال کے بعد اس کو میراث میں حصہ نہیں ملتا، لیکن چوں کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، بلکہ دادا نے یکطرفہ طور پر بیٹے کو میراث سے دست بردار کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کا قرضہ ادا کیا تھا اس لیے اس یکطرفہ فیصلے کا اعتبار نہیں ہوگا اور دادا کی طرف سے بیٹے کے سابقہ قرضوں کی ادائیگی کو اس کے میراث کے حصے کا بدل قرار نہیں دیا جائے گا۔

مشکاۃ شریف میں ہے:

"عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ‌قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة."

ترجمہ”انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کاٹی تو روزِ قیامت اللہ تعالیٰ اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا۔ “ 

(كتاب الفرائض والوصايا، ج:2، ص:926، ط:المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"فقال في الخانية: إن الاستحقاق المشروط كإرث ‌لا ‌يسقط ‌بالإسقاط. اهـ ."

(‌‌كتاب الوقف، مطلب في الاستدانة على الوقف، ج:4، ص:440، ط: سعید)

تکملة رد المحتار  لمحمد علاء الدین   میں ہے: 

" الإرث جبري لايسقط بالإسقاط"

(کتاب الدعوی، باب التحالف، ج:7، ص:116، ط:دار الفكر، بيروت)

کفایت المفتی میں ہے:

"بیٹے کو عاق کر کے میراث سے محروم کرنا نا جائز ہے"

 (سوال)  میں اپنے لڑکے مسمی عید و عمرش کو اپنی فرزندیت سے عاق کرنا چاہتا ہوں مجھے کس طرح سے عاق کرنا چاہئیے ؟ المستفتی نمبر: ٢٥٧٤

 (جواب: ٥١١ ) جو لڑکا والدین کا نافرمان ہوا انہیں ایذا پہنچائے وہ تو خود ہی عاق ہے، یعنی نافرمان۔ رہا یہ کہ عاق کر دینا یعنی اس کو میراث سے محروم کر دینا تو یہ کوئی شرعی بات نہیں ہے اور نہ شرعا اس کی اجازت ہے اگرچہ عوام میں یہ بات مشہور ہے مگر بے اصل ہے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔"

( کتاب الفرائض، ج:8، ص:365، ط: دار الاشاعت )

امداد الأحكام میں ہے:

"عاق اور محروم الارث کرنے کا جو دستور ہے مثلاً والد کہہ دیتا ہے کہ میرے فلاں بیٹے کو میرے ترکہ میں سے کچھ حصہ نہ ملے اس کی شرع میں کوئی اصل نہیں ۔ اس طرح کہنے کے بعد بھی وہ وارث ہو گا ۔ اگر عاق کر دینے کی وجہ سے دوسرے ورثاء نے اس کا حصہ نہ دیا تو وہ گناہ گار ہوں گے ۔ اس لئے محروم الارث کرنا بالکل فضول ہے۔ البتہ اگر اپنے نیک بخت بچوں کی زندگی میں ہبہ دیدے اور ہبہ تمام شرائط کے ساتھ پورا کر دے پھر اس فاسق کو کوئی حق نہ ہوگا۔ اور اس مہید میں کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ بہتر ہے۔

في العالمكيرية : (ص: 1064، 1065،  ج:3) ، ولو كان ولده فاسقا واراد ان يصرف ماله إلي وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه كذا فى الخلاصة (فتاوى امدادية ص: 100، ج:3) و في الدر المختار: ولوكان ولده مسيئاً دون البعض لزيادة اشده لا باس به و لو كانا سواء يجوز في القضاء ولكن هو آثم ( مجموعة الفتاوى - مع خلاصة الفتاوى ص :393 - ج :4 )

( كتاب الفرائض، صرف عاق لکھ دینے سے وارث محروم نہیں ہوگا اور فاسق بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنے کا طریقہ، ج:4، ص:214،215، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100886
تاریخ07-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں