بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 دھمکی کے ذریعے زمین کی رجسٹری کروانے کا حکم

سوال

ہماری زمین کے ساتھ علاقے کے ایک بااثر آدمی کی زمین ہے، وہ کافی عرصے سے ہماری زمین خریدنا چاہتا تھا، مگر ہم بیچنا نہیں چاہتے تھے، پچھلے سال اس کے لوگ رات کو میرے گھر آئے اور کہا کہ اگر کل رجسٹری آفس آکر دستخط نہ کیے تو تمہارے بیٹے کو اٹھا لیں گے،یہ لوگ اس سے پہلے ایک آدمی کو بری طرح مار چکے ہیں،میں ڈر کر چلا گیا اور بازار کی قیمت سے بہت کم پر رجسٹری کر دی، رقم بھی وہیں اسی دباؤ میں لے لی،اب اس آدمی کا زور ٹوٹ چکا ہے، اس کے بعد میں نے یہی کہا ہے کہ میں یہ سودا نہیں مانتا، اور ان سے کوئی مزید رقم بھی نہیں مانگی، خریدار نے اب تک زمین میں کچھ نہیں کیا، اور جو رقم اس نے دی تھی وہ ویسی کی ویسی میرے پاس رکھی ہے، میں نے خرچ نہیں کی۔
کیا شرعاً یہ سودا ہوگیا تھا؟ میں اپنی زمین واپس لینا چاہتا ہوں، اور جو رقم لی تھی اس کا کیا کروں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی ایسا شخص جو اپنی دھمکی پوری کرنے پر قادر ہو، کسی کو اس کی ذات یا اس کی اولاد کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دے کر اس کا مال بیچنے پر مجبور کرے، اور اسے دھمکی کے پورا ہونے کا غالب گمان ہو، تو اس حالت میں کی گئی بیع شرعاً فاسد ہوتی ہے۔ دباؤ ختم ہونے کے بعد مجبور شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کردے۔ البتہ اگر دباؤ ختم ہونے کے بعد وہ اپنی رضامندی سے قیمت وصول کرلے یا مبیع حوالے کردے تو بیع لازم ہوجاتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں رجسٹری پر دستخط اور رقم کی وصولی دونوں اسی دھمکی کی حالت میں ہوئے ہیں۔ دباؤ ختم ہونے کے بعد آپ کی طرف سے اس سودے پر رضامندی ظاہر نہیں ہوئی، بلکہ آپ نے اس سے انکار کیا ہے، اس لیے یہ سودا شرعاً لازم نہیں ہوا، اور آپ کو اسے فسخ کرکے اپنی زمین واپس لینے کا حق حاصل ہے، سودا فسخ کرنے کی صورت میں خریدار سے وصول شدہ رقم  واپس کرنا آپ پر لازم ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾(سورۃ النساء: 29)

ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ، لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے ہو (تو مضائقہ نہیں)۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن داود بن صالح المدني، عن أبيه، قال: سمعت أبا سعيد الخدري يقول: قال رسول الله ﷺ: «إنما البيع عن تراض»"

(أبواب التجارات، باب بيع الخيار، رقم: 2185، ج:2، ص:737، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) ... (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله ...(قوله: سلطانا أو لصا) هذا عندهما، وعند أبي حنيفة لا يتحقق إلا من السلطان ... قالوا: هذا اختلاف عصر وزمان لا اختلاف حجة وبرهان ... وفي زمانهما ظهر الفساد، وصار الأمر إلى كل متغلب، فيتحقق الإكراه من الكل والفتوى على قولهما."

(كتاب الإكراه، ج:6، ص:129، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(حتى باع أو اشترى أو أقر أو آجر فسخ) ما عقد ولا يبطل حق الفسخ بموت أحدهما ولا بموت المشتري، ولا بالزيادة المنفصلة ... (أو أمضى) لأن الإكراه الملجئ، وغير الملجئ يعدمان الرضا، والرضا شرط لصحة هذه العقود ... (و) حينئذ (يملكه المشتري إن قبض ...)(قوله: أو حبس) أي حبس نفسه قال الزيلعي: والإكراه بحبس الوالدين أو الأولاد لا يعد إكراها لأنه ليس بملجئ ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه اهـ لكن في الشرنبلالية عن المبسوط: أنه قياس وفي الاستحسان حبس الأب إكراه وذكر الطوري أن المعتمد أنه لا فرق بين حبس الوالدين والولد في وجه الاستحسان."

(كتاب الإكراه، ج:6، ص:130، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(فإن قبض ثمنه أو سلم) المبيع (طوعا) قيد للمذكورين (نفذ) يعني لزم ... (وإن) (قبض) الثمن (مكرها لا) يلزم (ورده) ولم يضمن إن هلك الثمن لأنه أمانة درر (إن بقي) في يده لفساد العقد.... وهذا العقد فاسد، لأن من شروط الصحة الرضا، وهو هنا مفقود فإذا وجد صح ولزم."

(كتاب الإكراه، ج:6، ص:131، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100834
تاریخ13-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں