درخت پھل کے تہائی حصے پر دیکھ بھال کے لیے دینے کے بعد پھل کم آنے پر عامل کا الگ مزدوری کا مطالبہ
سوال
میرے سپاری اور ناریل کے تقریباً ساٹھ درخت گاؤں میں ہیں۔ میں شہر میں رہتا ہوں، اس لیے گاؤں کے ایک آدمی کو یہ درخت اس بات پر دیے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کرے گا، پانی اور کھاد دے گا، پھل اتارے گا، اور جو پھل آئے گا اس کا تیسرا حصہ اس کا ہوگا۔ مدت کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ دو سال یہ سلسلہ ٹھیک چلا، اس سال طوفان میں کئی درخت ٹوٹ گئے اور باقی درختوں پر پھل برائے نام آیا۔ اب وہ کہتا ہے کہ اس نے پورا سال محنت کی ہے، اس لیے اسے الگ سے مزدوری دی جائے۔ کیا اس کا یہ مطالبہ درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ پھل دار درخت کسی کو اس طور پر دینا کہ وہ ان کی آب پاشی اور دیکھ بھال کرے اور پیداوار کا متعین حصہ اسے ملے، "مساقات" ہے۔ اس میں پھل پکنے سے پہلے کے کام، جیسے پانی دینا اور حفاظت کرنا، عامل کے ذمے ہوتے ہیں۔ کھاد کا خرچ اور پھل اتارنے کا کام دونوں فریقوں پر ان کے حصوں کے بقدر ہوتا ہے۔ ان دونوں کاموں کو عامل کے ذمے لازم کرنے سے مساقات فاسد ہو جاتی ہے۔ مساقات فاسد ہو تو ساری پیداوار درختوں کے مالک کی ہوتی ہے، اور عامل کو اس کے کام کی اجرتِ مثل ملتی ہے، جو طے شدہ حصے سے زائد نہیں ہوتی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب کھاد ڈالنا اور پھل اتارنا بھی مذکورہ شخص کے ذمے طے ہوا تھا تو یہ معاملہ فاسد ہے۔ اس سال جو پھل آیا وہ سارا آپ کا ہے۔ اسے سال بھر کے کام کی وہ اجرت دی جائے گی جو اس جیسے کام کی عام طور پر دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ اس سال کے پھل کے تہائی حصے کی قیمت سے زیادہ نہ ہو۔ اس سے زائد مزدوری کا اس کا مطالبہ درست نہیں۔ آئندہ کے لیے معاملہ اس طرح کیا جائے کہ پانی دینا اور دیکھ بھال اس کے ذمے ہو، اور کھاد کا خرچ اور پھل اتارنا دونوں پر اپنے اپنے حصے کے بقدر ہو۔
صحیح البخاری میں ہے:
«عن نافع أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره أن النبي ﷺ عامل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع»
(كتاب الحرث والمزارعة، باب المزارعة بالشطر ونحوه، رقم: 2328، ج:3، ص:104، ط: السلطانية)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
«المساقاة دفع النخل والكرم والأشجار المثمرة معاملة بالنصف أو بالثلث أو بالربع قل أو كثر وأهل المدينة يسمونها المعاملة... (وإذا فسدت المساقاة فللعامل أجر مثله) لأنه في معنى الإجارة الفاسدة وصار كالمزارعة إذا فسدت، ثم عند أبي يوسف له أجر مثله لا يزاد على ما شرط له، وعند محمد له أجر مثله بالغا ما بلغ»
(كتاب المساقاة، ج:1، ص:373، ط: المطبعة الخيرية)
البحر الرائق میں ہے:
«(فإذا فسدت فللعامل أجر مثله) لأنها في معنى الإجارة كالمزارعة إذا فسدت وقد تقدم بيانه»
(كتاب المساقاة، ج:8، ص:188، ط: دار الكتاب الإسلامي)
مجمع الأنہر میں ہے:
«(هي دفع الشجر إلى من يصلحه بجزء معلوم من ثمره) أي الشجر (وهي) المساقاة (كالمزارعة حكما) حيث يفتى على صحتها»
(كتاب المساقاة، ج:2، ص:504، ط: دار إحياء التراث العربي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وأما الشرائط المفسدة فأنواع: (منها) كون الخارج كله لأحدهما... (ومنها) شرط الجذاذ والقطاف على العامل بلا خلاف. (ومنها) شرط عمل تبقى منفعته بعد انقضاء المعاملة نحو السرقنة ونصب العريش وغرس الأشجار وتقليب الأرض وما أشبه ذلك... وأما حكم المعاملة الصحيحة فأنواع: (منها) أن كل ما كان من عمل المعاملة مما يحتاج إليه الشجر والكرم والرطاب وأصول الباذنجان من السقي وإصلاح النهر والحفظ وتلقيح النخيل فعلى العامل، وكل ما كان من باب النفقة على الشجر والكرم والأرض من السرقين وتقليب الأرض التي فيها الكرم والشجر والرطاب ونصب العريش ونحو ذلك على قدر حقهما، وكذلك الجذاذ والقطاف"
(كتاب المعاملة، الباب الأول في تفسير المعاملة وشرائطها وأحكامها، ج:5، ص:277، ط: دار الفكر)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(متى فسدت، فالخارج لرب البذر) لأنه نماء ملكه (و) يكون للآخر أجر مثل عمله أو أرضه ولا يزاد على (الشرط) وبالغا ما بلغ عند محمد"
(كتاب المزارعة، ج:6، ص:279، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"[فروع] ما قبل الإدراك كسقي وتلقيح وحفظ فعلى العامل، وما بعده كجذاذ وحفظ فعليهما، ولو شرط على العامل فسدت اتفاقا ملتقى"
(كتاب المساقاة، ج:6، ص:291، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

