نابالغ بیٹے کا ماموں کی دی ہوئی سائیکل کم قیمت پر فروخت کرنا
سوال
میرا بیٹا تیرہ سال کا ہے۔ اس کے ماموں نے اسے ایک سائیکل خرید کر دی تھی۔ چند دن پہلے اس نے وہ سائیکل اپنے ایک ہم جماعت کے بڑے بھائی کو بہت کم قیمت پر بیچ دی اور کچھ پیسے خرچ بھی کر دیے۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا۔
کیا یہ بیچنا درست ہوا، اور کیا میں ان سے سائیکل واپس لے سکتا ہوں؟
جواب
واضح رہے کہ سمجھ دار نابالغ بچے کی خرید و فروخت منعقد تو ہو جاتی ہے، لیکن ولی کی اجازت پر موقوف رہتی ہے، ولی اجازت دے تو نافذ ہوگی اور رد کر دے تو ختم ہو جائے گی۔ لڑکے کا بلوغ احتلام وغیرہ علامات سے ثابت ہوتا ہے، اور کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو پندرہ سال پورے ہونے پر اسے بالغ سمجھا جاتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائیکل بیچتے وقت آپ کے بیٹے میں بلوغ کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھی اور آپ نے اسے خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی تھی، تو اس کا یہ سودا آپ کی اجازت پر موقوف ہے۔ آپ اس سودے کو رد کر کے خریدار سے سائیکل واپس لے سکتے ہیں۔ رد کرنے کی صورت میں جو قیمت وصول کی تھی وہ واپس کر کے سائیک واپس لیا جاسکتا ہے۔
اور اگر بیچتے وقت بیٹا بالغ ہو چکا تھا تو اس کا یہ سودا نافذ ہو چکا ہے، اس صورت میں آپ کو سائیکل واپس لینے کا اختیار نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الذي يرجع إلى العاقد فنوعان: أحدهما أن يكون عاقلا، فلا ينعقد بيع المجنون والصبي الذي لا يعقل؛ لأن أهلية المتصرف شرط انعقاد التصرف والأهلية لا تثبت بدون العقل فلا يثبت الانعقاد بدونه، فأما البلوغ فليس بشرط لانعقاد البيع عندنا، حتى لو باع الصبي العاقل مال نفسه ينعقد عندنا موقوفا على إجازة وليه، وعلى إجازة نفسه بعد البلوغ."
(کتاب البیوع، فصل في شرائط ركن البيع، ج:5، ص:135، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا باع الصبي وهو يعقل البيع عبدا من رجل بألف درهم، وقبض الثمن، ودفع العبد ثم ضمن رجل للمشتري ما أدركه في العبد من درك فاستحق العبد من يدي المشتري فإن كان الصبي مأذونا رجع المشتري بالثمن إن شاء على الصبي، وإن شاء على الكفيل ... وإن كان الصبي محجورا عليه فالضمان عنه باطل إن كان الثمن قد هلك في يده أو استهلكه، وإن كان قائما بعينه في يده أخذه المشتري."
(کتاب المأذون، الباب الثاني عشر في الصبي أو المعتوه يؤذن له في التجارات، ج:5، ص:111، ط: دارالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ... (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا."
(کتاب الحجر، فصل في البلوغ، ج:6، ص:153، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

