ایک دو تین ، تم میری بہن ہو کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
میرے شوہر نے مجھے زبانی طور پر تین طلاق دی ؛ طلاق کے الفاظ یہ تھے : " ایک، دو ، تین تم میری بہن ہو " ، یہ اس نے فون پر طلاق دی ہے ۔
میرا حق مہر جو کہ 8 تولہ سونا مہر معجل تھا ، وہ میرے شوہر کے پاس ہے ۔
آیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی اور کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟نیز اس سونے کا کیا ہوگا ؟
جواب
مسئولہ صورت میں " ایک، دو، تین تم میری بہن ہو " نہ تو طلاق کے لیے صریح ہےاورنہ ہی کنائی؛لہذا اگر تین طلاقوں کے لیے شوہر کی طرف سے یہی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں تو ان سے سائلہ (عورت) پر طلاق واقع نہیں ہوئی،دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے ، بشرطیکہ نکاح کے ٹوٹنے کا کوئی دوسرا سبب نہ پایا گیاہو، البتہ اپنی بیوی کو ماں اور بہن کہنا شرعا درست نہیں ہے، فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اپنی بیوی کو ماں، بہن یا بیٹی کہنا مکروہ ہے۔
نیز مہرشرعاً بیوی کا حق ہوتا ہے، جو شوہر کے ذمےبیوی کو دینا لازم ہوتا ہے، لہٰذا نکاح کے موقع پرجو مہر معجل مقرر کیا جائے وہ بیوی کو فوری اداکرنا لازم ہے، بیوی کا حقِ مہر ادا نہ کرنا ظلم ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے ، چنانچہ اگر واقعۃً اب تک سائلہ کے شوہرنے بیوی کا مہر ادا نا کیا ہوتو یہ مہر مذکورہ شخص (شوہر) کے ذمے سے ساقط نہیں ہوا، بلکہ اس کے ذمہ قرض ہے،مکمل مہر بیوی کو ادا کرنا واجب ہے، ورنہ آخرت میں دینا ہوگا اور آخرت میں دینا بہت مشکل ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها: أنت طالق ثلاثًا طلقت ثلاثًا، و لو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد، و من أنه لو قال: أنت طالق واحدة إن شاء الله لم يقع شيء و لو كان الوقوع بطالق لكان العدد فاصلًا فوقع."
(کتاب الطلاق، باب طلاق غیر المدخول بھا، ج:3، ص:287، ط:سعید)
وفيه ايضاً:
"(قوله: و ركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالةً على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، و أراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله: أنت طالق هكذا كما سيأتي.وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه."
( کتاب الطلاق، رکن الطلاق، ج:3، ص:230، ط:سعید)
وفيه أيضاً:
"و يكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه."
(کتاب الطلاق، باب الظھار، ج:۳، ص:۴۷۰، ط:سعید)
المبسوط للسرخسی میں ہے :
"و الدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، و لاتحبس المبدل إلا ببدل واجب و إن بعد الدخول بها يجب. و لا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن."
(كتاب النكاح، باب المهور، ج:5، ص:63، ط:بيروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج:1، ص: 304، ط:دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

