
ہمارے علاقے میں زمین کے مقدمات میں یہ بات عام ہے کہ کاغذی کارروائی پوری کرنے کے لیے ایسے لوگوں کو گواہ بنایا جاتا ہے جنہوں نے سودا اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہوتا، صرف فریقین کے کہنے پر دستخط کر دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض کو کچھ رقم بھی دی جاتی ہے۔
اس بارے میں تین باتیں دریافت طلب ہیں:
1۔ جس شخص کو معلوم ہے کہ دعویٰ سچا ہے، مگر اس نے خود معاملہ ہوتے نہیں دیکھا، کیا وہ گواہی دے سکتا ہے؟
2۔ ایک شخص نے مجبوری میں جھوٹی گواہی دے دی اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہو کر زمین ایک فریق کو مل گئی، اب وہ نادم ہے؛ اس کے لیے کیا حکم ہے اور کیا اب رجوع کا کوئی فائدہ ہے؟
3۔ گواہ بننے پر رقم لینا کیسا ہے؟ اور جو رقم لے چکا ہو، اس کا کیا کرے؟
واضح رہے کہ گواہ جس معاملے کی گواہی دیتا ہے، اس کا اس معاملے کو خود دیکھنا ضروری ہے؛ خرید و فروخت کی گواہی کسی کے بتانے یا فریقین کے کہنے پر دینا جائز نہیں، نسب، موت اور نکاح جیسے چند مخصوص امور اس سے مستثنیٰ ہیں۔
1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس شخص نے زمین کا سودا خود ہوتے نہیں دیکھا، اس کے لیے اس سودے کی گواہی دینا یا دستاویز پر بطورِ گواہ دستخط کرنا جائز نہیں، اگرچہ اسے دعوے کے سچا ہونے کا یقین ہو۔
2۔ جھوٹی گواہی دینا کبیرہ گناہ ہے۔ مذکورہ شخص پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ و استغفار کرے، اور قاضی یا عدالت کے سامنے اپنی گواہی سے رجوع کرے؛ عدالت سے باہر رجوع کا اعتبار نہیں۔ فیصلہ ہو جانے کے بعد رجوع کرنے سے سابقہ فیصلہ ختم نہیں ہوگا، البتہ اس گواہی کے نتیجے میں جس فریق کی زمین گئی ہے، اس کے نقصان کا ضمان اس گواہ کے ذمہ لازم ہوگا، اور اسی سے اس کی توبہ مکمل ہوگی۔
3۔ گواہ بننے یا گواہی دینے پر رقم لینا جائز نہیں۔ البتہ اگر گواہ بڑھاپے یا کسی اور عذر کی وجہ سے خود عدالت تک نہ جا سکتا ہو اور مدعی اسے سواری مہیا کر دے، یا گواہی کے موقع پر اسے کھانا کھلا دے، تو اس کی گنجائش ہے۔ جو رقم لی جا چکی ہے، وہ اسی شخص کو واپس کرنا لازم ہے جس سے لی گئی تھی، اور اگر وہ یا اس کے ورثاء معلوم نہ ہو سکیں تو ان کی طرف سے صدقہ کر دی جائے۔
قرآن کریم میں ہے:
﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾
ترجمہ: اور جس بات کی تجھ کو تحقیق نہ ہو اس پر عمل درآمد مت کیا کر، کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے ان سب کی (قیامت کے دن) پوچھ ہوگی۔
(سورۃ الاسراء: 36)
وفیہ ایضا:
﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾
ترجمہ:تو تم لوگ گندگی سے یعنی بتوں سے (بالکل) کنارہ کش رہو اور جھوٹی بات سے کنارہ کش رہو۔
(سورۃ الحج: 30)
وفیہ ایضا:
﴿وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ﴾
ترجمہ: اور تم ٹھیک ٹھیک اللہ کے واسطے گواہی دو۔
(سورۃ الطلاق: 2)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن خريم بن فاتك قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فلما انصرف قام قائما فقال: «عدلت شهادة الزور بالإشراك بالله» ثلاث مرات. ثم قرأ: (فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء لله غير مشركين به). رواه أبو داود وابن ماجه"
(کتاب الامارۃ والقضاء، باب الاقضیۃ والشہادات، ج:2، ص:339، ط: رحمانیۃ)
تبیین الحقائق میں ہے:
"ثم إن كان الشاهد شيخا كبيرا لا يقدر على المشي إلى مجلس القاضي وليس له شيء من المركوب فأركبه المدعي من عنده قالوا: لا بأس به وتقبل شهادته؛ لأنه من باب الإكرام للشهود وقد قال عليه الصلاة والسلام «أكرموا الشهود»، وإن كان يقدر وأركبه المدعي من عنده قالوا لا تقبل"
(کتاب الشہادۃ، ج:4، ص:207، ط: المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:
"ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه إلا في النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القضاء، فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأشياء إذا أخبره بها من يثق به، وهذا استحسان، والقياس أن لا تجوز؛ لأن الشهادة مشتقة من المشاهدة، وذلك بالعلم ولم يحصل، فصار كالبيع."
(کتاب الشہادۃ، فصل ما یتحملہ الشاہد، ج:9، ص:126 ط:دار الكتب)
وفیہ ایضاً:
"وإذا رجع الشهود عن شهادتهم قبل الحكم بها سقطت؛ لأن الحق إنما يثبت بالقضاء. والقاضي لا يقضي بكلام متناقض، ولا ضمان عليهما؛ لأنهما ما أتلفا شيئا لا على المدعي ولا على المدعى عليه، فإن حكم بشهادتهم ثم رجعوا لم يفسخ الحكم؛ لأن آخر كلامهم يناقض أوله فلا ينقض الحكم بالتناقض، ولأنه في الدلالة على الصدق مثل الأول، وقد ترجح الأول باتصال القضاء به، وعليهم ضمان ما أتلفوه بشهادتهم لإقرارهم على أنفسهم بسبب الضمان. والتناقض لا يمنع صحة الإقرار."
(کتاب الرجوع عن الشہادۃ، ج:9، ص:200 ط:دار الكتب)
وفیہ ایضاً:
"ولا يصح الرجوع إلا بحضرة الحاكم؛ لأنه فسخ للشهادة، فيختص بما تختص به الشهادة من المجلس، وهو مجلس القاضي أي قاض كان، ولأن الرجوع توبة، والتوبة على حسب الجناية، فالسر بالسر، والإعلان بالإعلان."
(کتاب الرجوع عن الشہادۃ، کیفیۃ الرجوع عن الشہادۃ، ج:9، ص:201 ط:دار الكتب)
وفیہ ایضاً:
"وإذا شهد شاهدان بمال، فحكم الحاكم به ثم رجعا ضمنا المال للمشهود عليه؛ لأن التسبيب على وجه التعدي سبب الضمان كحافر البئر، وقد سببا للإتلاف تعديا."
(کتاب الرجوع عن الشہادۃ، ج:9، ص:202 ط:دار الكتب)
فتاویٰ شامی میں ہے:
(ويجب أداؤها بالطلب) ولو حكما كما مر، لكن وجوبه بشروط سبعة مبسوطة في البحر وغيره، منها عدالة قاض وقرب مكانه وعلمه بقبوله أو بكونه أسرع قبولا وطلب المدعي (لو في حق العبد إن لم يوجد بدله) أي بدل الشاهد لأنها فرض كفاية تتعين لو لم يكن إلا شاهدان لتحمل أو أداء، وكذا الكاتب إذا تعين، لكن له أخذ الأجرة لا للشاهد، حتى لو أركبه بلا عذر لم تقبل وبه تقبل لحديث «أكرموا الشهود» وجوز الثاني الأكل مطلقا وبه يفتى بحر، وأقره المصنف."
(کتاب الشہادات، ج:5، ص:463، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"[فرع] في المجتبى عن الفضلي: تحمل الشهادة فرض على الكفاية كأدائها وإلا لضاعت الحقوق وعلى هذا الكاتب إلا أنه يجوز له أخذ الأجرة على الكتابة دون الشهادة فيمن تعينت عليه بإجماع الفقهاء وكذا من لم تتعين عليه عندنا وهو قول للشافعي، وفي قول يجوز لعدم تعينه عليه اهـ شلبي اهـ ط."
(کتاب الشہادات، ج:5، ص:464، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(من ظهر أنه شهد بزور) بأن أقر على نفسه ولم يدع سهوا أو غلطا كما حرره ابن الكمال، ولا يمكن إثباته بالبينة لأنه من باب النفي (عزر بالتشهير) وعليه الفتوى سراجية، وزاد ضربه وحبسه مجمع. وفي البحر: وظاهر كلامهم أن للقاضي أن يسحم وجهه إذا رآه سياسة، وقيل إن رجع مصرا ضرب إجماعا، وإن تائبا لم يعزر إجماعا."
(کتاب الشہادات، باب الشہادۃ علی الشہادۃ، ج:5، ص:503، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب فیمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط: سعید)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المادۃ: 97، ج:1، ص:98، ط: دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100810
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن