بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1448ھ 28 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذاتی کتب خانے کی کتابوں پر زکوٰۃ کا حکم


سوال

میرے دادا (رحمہ اللہ) نے اپنی حیات میں گھر میں ایک ذاتی کتب خانہ بنایا تھا۔ یہ مکتبہ ان کی حیات میں ان کے زیرِ استعمال بھی تھا اور اس مکتبہ میں کتابوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے، جن کی قیمت حدِ نصاب سے زیادہ ہے۔ مگر افسوس کہ دادا (رحمہ اللہ) کی وفات کے بعد ہم میں سے کوئی بھی ان کا اور ان کی کتابوں کا علمی وارث نہ بن سکا، لہٰذا اب یہ کتب خانہ فی الحال ہمارے زیرِ استعمال نہیں۔ الا یہ کہ کبھی اہلِ خانہ میں سے کوئی سال، دو سال میں ایک آدھ دفعہ 5/10 منٹ کے لیے کسی کتاب کا سرسری مطالعہ کرلے، مگر اکثر کتب (95٪ سے زیادہ) ایسی ہیں جو ان کی وفات کے بعد کبھی کسی نے کھولی تک بھی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کتب خانے پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کتب خانہ کی کتابوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، کیوں کہ یہ تجارتی مال نہیں ہے، جبکہ کتابیں اس وقت تجارتی مال بنتی ہیں ، جب ان کو    تجارت کی غرض سے خریدا گیا ہو ، لہذ ا مذکورہ کتابیں  خواہ ان کی مجموعی قیمت نصاب سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اور خواہ اس وقت ان کا استعمال بہت کم ہو، بہر صورت ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، تاہم مذکورہ کتابیں چوں کہ دادا مرحوم کے ترکہ کا حصہ ہیں، اور ان کے تمام شرعی وارث ان کتابوں میں حصص شرعیہ کے تناسب سے شریک ہیں،  لہذا اگر ان کتابوں کو آپس میں تقسیم کرنا مقصود نہ ہو، اور  مشترکہ استفادہ بھی مطلوب  نہ ہو، تو تمام عاقل بالغ ورثاء  باہمی رضامندی سے مذکورہ کتابوں کو صدقہ جاریہ کے طور پر کسی مدرسہ کے لیے وقف  کر دیں، تاکہ اہل علم ان سے استفادہ کر سکیں، اور دادا مرحوم کو ثواب ملتا رہے، تاہم ایسا کرنا ورثاء پر شرعا لازم نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا في ثياب البدن) ... (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة... (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) ... (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض."

(كتاب الزكاة، 2/ 265-267، ط: سعيد)

وفیہ أیضاً:

"(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل."

(كتاب الزكاة، 2/ 272، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144804100807

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں