قبرستان کے فنڈ میں موجود ضرورت سے زائد رقم بطورِ قرض لے کر مکتب میں لگانے کا شرعی حکم
سوال
ہمارے یہاں ایک مکتب میں پڑھائی شروع ہوئی ہے، الحمد للہ پڑھائی بہت بہترین ہو رہی ہے اور بچے بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اب بچوں کی سہولت کے لئے چند چیزوں کی ضرورت در پیش ہے، بیٹھ کر پڑھنے کی جگہ، پانی کی ٹنکی اورانورٹر وغیرہ۔ جگہ تو بہت زیادہ لیکن لوگ اس کے اوپر ٹین شیٹ لگانا چاہ رہے ہیں تاکہ بچوں کو پڑھنے میں سہولت ہو۔
اب اخراجات کا مسئلہ درپیش ہے، تو لوگوں نے طے کیا ہے کہ قبرستان کے فنڈ میں تقریبا دو لاکھ روپے موجود ہیں، اسی میں سے بطورِ قرض لگا دیا جائے، اور جب قبرستان کو ضرورت پڑےگی تو چندہ کر کے اس کو ادا کر دیا جائے گا یا چھ مہینہ کے اندر ہی ادا کر دیا جائے گا۔ کیا یہ صورت درست ہوگی؟
نوٹ: قبرستان اتنی درست حالت میں ہے کہ ابھی اس میں اِن شاءاللہ پچاس سال تک پیسے لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
جواب
صورتِ مسئولہ میں سب سے بہتر تو یہ ہے کہ محلہ والے مکتب کی ضروریات و سہولیات کی خاطر الگ سے چندہ کر کے یہ تمام امور سرانجام دے دیں، بالفرض اخرجات زیادہ ہوں اور اُس کے بقدر فی الفور مطلوبہ چندہ ناممکن ہو تو قبرستان فنڈ میں موجود ضرورت سے زائد اضافی رقم وہاں کی انتظامیہ کی اجازت سےبطورِ قرض لینے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ یہ رقم قبرستان کی ضروریات سے زائد ہو،قرض دینے میں رقم ضائع ہونے کا خدشہ نہ ہو اور قبرستان فنڈ کی انتظامیہ کی جانب سے حفاظت کی نیت سے قرض رقم دی جائے،نیز ضرورت کے وقت اِس رقم کی واپسی بسہولت و بروقت ممکن ہو۔بصورتِ دیگر قبرستان کے وقف فنڈ سے رقم لے کر کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا جس میں قبرستان کا کوئی فائدہ نہ ہو، جائز نہیں ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز. اهـ"
(كتاب الوقف،تصرفات الناظر في الوقف، ج:5، ص:259، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(يقرض القاضي مال الوقف والغائب) واللقطة (واليتيم) من مليء مؤتمن...
وفي الرد:(قوله: مال الوقف) ذكره في البحر عن جامع الفصولين لكن فيه أيضا عن العدة يسع للمتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز اهـ ومقتضاه أنه لا يختص بالقاضي مع أنه صرح في البحر عن الخزانة أن المتولي يضمن إلا أن يقال: إنه حيث لم يكن الإقراض أحرز."
(كتاب القضاء،مطلب للقاضي إقراض مال اليتيم ونحوه، ج:، ص:417، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أراد المتولي أن يقرض ما فضل من غلة الوقف ذكر في وصايا فتاوى أبي الليث - رحمه الله تعالى - رجوت أن يكون ذلك وسعا إذا كان ذلك أصلح وأجرى للغلة من إمساك الغلة ولو أراد أن يصرف فضل الغلة إلى حوائجه على أن يرده إذا احتيج إلى العمارة فليس له ذلك وينبغي أن يتنزه غاية التنزه فإن فعل مع ذلك ثم أنفق مثل ذلك في العمارة أجزت أن يكون ذلك تبريئا له عما وجب عليه."
(كتاب الوقف، الباب الرابع عشر في المتفرقات، ج:2، ص:490، ط:دارالفكر)
امدادالاحکام میں ہے:
"اصل یہ ہےکہ وقف کی فاضل رقم کسی کوقرض دیدینا اس وقت جائز ہےجبکہ قرض دینے میں رقم کی حفاظت متوقع ہو، اور ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔"
(احکام المساجد والمدارس ،ج:۳، ص:۲۲۸، مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

