بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1448ھ 29 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کاغذات میں مکان بیوی کے نام کرانے سے بیوی کی ملکیت اور ترکہ کا حکم


سوال

میں نے اپنی کمائی سے ایک مکان بنوایا اور مختلف وجوہ سے اس کے کاغذات اپنی بیوی کے نام کروا دیے۔ نیت یہ تھی کہ مکان میرا ہی رہے گا، صرف کاغذی کارروائی ہے۔ مکان میں ہم سب ساتھ رہتے ہیں، کرایہ بھی کبھی آیا تو میں نے ہی لیا، اور مرمت کا خرچ بھی میں ہی کرتا رہا۔ بیوی کو الگ سے قبضہ دینے یا اسے مالک بنانے کی کوئی بات نہیں ہوئی۔

اب دو باتیں دریافت طلب ہیں:
1۔ کیا یہ مکان شرعاً بیوی کی ملکیت ہو گیا؟ اور کیا میں اپنی زندگی میں اسے واپس اپنے نام کروا سکتا ہوں؟
2۔ اگر میرا انتقال ہو جائے تو یہ مکان میرے ترکے میں شمار ہوگا یا بیوی کا رہے گا؟ بچے کہتے ہیں کہ یہ والد کا مکان ہے، اور بیوی کہتی ہے کہ کاغذ میرے نام ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی چیز کا ہبہ اسی وقت مکمل  ہوتا ہے جب مالک اسے مالک بنانے کے الفاظ کے ساتھ دے اور موہوب لہ کو اس پر مکمل قبضہ و تصرف بھی سپرد کر دے، محض سرکاری کاغذات میں کسی کا نام درج کرا دینا شرعاً ہبہ نہیں اور نہ اس سے ملکیت منتقل ہوتی ہے۔

1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے مکان صرف کاغذات میں بیوی کے نام کرایا، نہ اسے مالک بنانے کی بات ہوئی اور نہ قبضہ و تصرف دیا گیا، بلکہ مکان بدستور سائل کے قبضے، استعمال اور انتظام میں رہا، تو یہ مکان شرعاً بیوی کی ملکیت میں داخل نہیں ہوا، سائل ہی اس کا مالک ہے۔ سائل اپنی زندگی میں اس کے کاغذات دوبارہ اپنے نام منتقل کروا سکتا ہے، اور بیوی کے لیے محض کاغذات کی بنیاد پر اس مکان کی ملکیت کا دعویٰ کرنا جائز نہیں ہوگا ۔

2۔ سائل کے انتقال کی صورت میں یہ مکان سائل کا ترکہ شمار ہوگا اور اس کے تمام شرعی ورثاء میں، جن میں بیوہ بھی شامل ہے، ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔ بیوی کا کاغذات کی بنا پر پورے مکان کو اپنا قرار دے کر دیگر ورثاء کو ان کے حصے سے محروم کرنا جائز نہیں۔

صحیح مسلم میں ہے:
"من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين."

(کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرہا، رقم: 1610، ج:3، ص:1230، ط: دار إحياء التراث العربي)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه."

(کتاب الوصایا، ج:2، ص:926، ط: المكتب الإسلامي)

البحر الرائق میں ہے:
"قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة."

(کتاب الہبۃ، ج:7، ص:285 ط:دار الكتاب)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط."

(کتاب الہبۃ، الباب الثاني، ج:4، ص:377، ط: دارالفکر)

وفیہ ایضاً:
"لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

(کتاب الہبۃ، ج:4، ص:378، ط: دارالفکر)

وفیہ ایضاً:
"ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها."

(کتاب الہبۃ، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:380، ط: دارالفکر)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"لأن اللام للتمليك بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة.""(قوله: بخلاف جعلته باسمك) قال في البحر: قيد بقوله: لك؛ لأنه لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة."

(کتاب الہبۃ، ج:5، ص:689، ط: سعید)

تکملۃ رد المحتار میں ہے:

"لأن التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية."

(ج:7، ص:350، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں